Khan Faizullah Khan Ghazni Khel

پښتو :: پښتانه :: پښتونخواه :: پښتونوالی

خان فیض اللہ خان, حاجی اکرام اللہ خان ایڈوکیٹ
خیبر ویب سائٹ ميں 18 جنوری 2010 کو شائع ھوا (http://www.khyber.org)



خان فیض اللہ خان

حاجی اکرام اللہ خان ایڈوکیٹ

تاريخ اشاعت: 18 جنوری 2010

خان فیض اللہ خان مروت قبیلے کی ایک شاخ طوطہ زئی سے تعلق رکھتے تھے اور طوطہ زئی کے بڑھے بیٹھے غزنی خان کی اولاد میں سے تھے۔ آپ کے دادا کا نام مھابت خان تھا۔ آپ مھابت خان کے بڑھے بیٹھے شیر دل خان کے بیٹھے تھے۔ شیر دل کے پانچ بیٹھے تھے جن کے نام فیض اللہ خان، کریم خان، محمد اکرم، عبداللہ خان اور رحمت خان تھے۔ خان فیض اللہ خان نے نہ صرف اپنے چچا زاد بھائی شادی خان کی رئیسیت کو برقرار رکھا بلکہ غزنی خان کا نام بھی روشن کیا۔

خان فیض اللہ خان کی روحانی عقیدت حضرت خواجہ حمید خان صاحب پیر پٹھان تونثوی کے ساتھ انتھائی گھری تھی۔ آپ کی عقیدت و محبت کے بارے میں یہ بات بہت مشہور تھی کہ خواجہ حمید خان صاحب اور خان فیض اللہ خان کی جب بھی ملاقات ہوتی تھی تو پیر و مرشد کی اس ملاقات کے دوران تیسرے ادمی کو اس محفل میں آنے کی اجازت نہ تھی۔ حضرت خواجہ حمید صاحب نے خان صاحب کے لئے اپنی دعاؤں کے ساتھ یہ پیشین گوئی بھی کی تھی کہ ہندوستان بھر میں آپ جیسا بے مثال ٹھیکیدار نہیں ہوگا۔ خان صاحب نے اپنے پیر و مرشد کا مقبرہ سونے سے بنوایا اور چاندی کا دروازہ لگایا۔ خان فیض اللہ خان انتھائی ملنسار اور سخی انسان ہونے کے علاوہ انتھائی خوش لباس، گوری رنگت، درمیانے قد اور مضبوط جسم کے مالک تھے۔ آپ ہمیشہ سفید رنگ کی شلوار قمیص پہنتے تھے اور عموماََ تلہ دار جوتے اور جرابیں استعمال کرتے تھے۔ آپ زمین کی بولی میں سب سے زیادہ ریٹس دیتے اور اسی طرح ٹھیکہ کی بولی میں سب سے کم ریٹس دیتے تھے جس کی وجہ سے اکثر اوقات بڑے بڑے بولی دہندگان اور ٹھیکہ دار آپ کے سامنے ٹہر نہ پاتے تھے۔

خان صاحب کی فیاضی اور سخاوت دور دور تک مشہور تھی۔ آپ نے صوبہ سرحد میں تقریباََ ہر جگہ فلاح و بہبود کے بہت سے کام انجام دئیے۔ آپ نے ٹل، جنڈولہ، بنوں، غزنی محلہ میں کئی ایک مساجد بنوائیں۔ لکی مروت میں عیدگاہ کی عمارت کے لئے گارڈز فراہم کئے۔ آپ کنبہ طوطہ زئی اور اہلیان وانڈہ چمن نیل گنگونر بورہ کے باشندگان کو پینے کا پانی فراہم کرنے کے لئے ۱۹۲۷ء میں ایک ہزار روپے دیکر کنواں کھدوایا۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں حجرہ اور سرائے تعمیر کروائی جس میں ضلع بنوں کے لوگوں کو مفت قیام و طعام کی سہولت فراہم کی جاتی تھی۔ خان فیض اللہ خان فیاضی و سخاوت کے عملی نمونہ تھے۔ آپ کے بارے میں عبدالقیوم ولد محمد جان سکنہ لنڈیوہ عمر تقریباََ ۷۰ سال یوں بیان کرتے ہیں کہ میں جب دسویں جماعت کا طالب علم تھا، اس وقت خان صاحب کے پاس جنوبی وزیرستان میں ایف سی (FC) کو گھی سپلائی کرنے کا ٹھیکہ تھا۔ میں ان کے منشی، جن کا نام بھی اتفاقاََ فیض اللہ خان ہی تھا، اور وہ شہباز خیل کا رہنے والا تھا، کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ خان فیض اللہ خان صاحب کالے رنگ کی ایک موٹرکار سے اترے اور منشی سے کہا کہ آپ مجھے کھاتے والا رجسٹر دے دیں۔ میں اس میں اپنے قرضوں کے بارے میں کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔ خان صاحب نے اس رجسٹر میں لکھا کہ جن لوگوں کے ذمے میرا دو ہزار روپے قرض بنتا ہے، آج سے میں وہ تمام قرض معاف کرتا ہوں اور جن کے ذمے میرا دو ہزار سے زائد قرض بنتا ہے، مستقبل میں صرف وہ وصول کیا جائے گا۔ اس کے تقریباََ دو ماہ بعد خان صاحب اس دنیا سے رخصت فرما گئے۔

خان صاحب نے جنوبی وزیرستان، جنڈولہ، ٹانک، اور وانا میں اس وقت ایف سی کے لئے چوکیاں، جنوبی وزیرستان میں سڑکیں اور پل تعمیر کرنے کے لئے ٹھیکے لئے تھے جب قبائل میں کوئی بھی دوسرا شخص ٹھیکہ لینے کے لئے تیار نہ تھا کیونکہ خان صاحب بہت بڑھے جاگیردار تھے۔ آپ لاکھوں کنال زمین کے مالک تھے اور لوگوں کو مفت زمین بھی تقسیم کرتے تھے۔ پرانے لکی مروت کے پاس سرائے درگاہ میں ٤۰ ہزار کنال زمین لی تھی جہاں وہ اپنی ریاست بنانا چاہتے تھے لیکن انگریزوں نے ان کو اس ریاست کی منظوری نہ دی۔ اس کی بڑھی وجہ یہ تھی کہ خان صاحب نے انگریزوں سے نواب کا خطاب لینے سے انکار کیا تھا۔ ان کی یہ کوشش تھی کہ میں اپنی ریاست خود بناؤں لیکن انگریزوں نے ان پر پابندی لگا دی کہ خان صاحب نہ تو زمین خرید سکتے ہیں، اور نہ ہی کوئی ٹھیکہ لے سکتے ہیں۔

خان فیض اللہ خان صاحب کی بہو بیگم کلثوم سیف اللہ خان نے جب اجمیر شریف کا دورہ کیا تو ان کی ملاقات پیر صاحب اجمیر شریف سے ہوئی۔ ملاقات کے دوران پیر صاحب نے بتایا کہ خان فیض اللہ خان صاحب نے ۱۹۲۰ میں ۵۰ ہزار روپے عطیہ اور نذرانہ کے طور پر دئیے تھے۔ جب خان صاحب ۱۹۳۶ میں رکن قانون ساز اسمبلی منتخب ہوئے تو انگریز نے آپ کو نواب کا خطاب دیا جسے انہوں نے لینے سے انکار کر دیا۔ خان صاحب کی اصول پسندی اور دیانت داری نے انہیں ہندوستان کا سب سے بڑھا ٹھیکےدار بنا دیا۔ وہ حکومت سے ایڈوانس لئے بغیر ٹھیکہ مکمل کر دیتے تھے اور جب انگریز نے دیکہا کہ آپ بغیر ایڈوانس لئے منصوبہ مکمل کرتے ہیں تو ان کو یہ خوف لاحق ہوگیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ خان صاحب مستقبل قریب میں ہماری حکومت کے لئے کوئی مصیبت کھڑی نہ کردیں چنانچہ انگریز حکومت نے ان پر ٹھیکہ لینے کی پابندی عائد کردی اور خان صاحب کو ٹھیکہ دینا بند کردیا۔ اس کے بعد خان صاحب نے اپنے کزن عبدالرحمان عرف مسعود خان اور رئیس شادی خان کے بیٹے کے نام پر ٹھیکے لینے شروع کر دئیے۔

خان فیض اللہ خان نے بنوں سٹی کو بجلی سپلائی کرنے کا ٹھیکہ لیا تھا لیکن بنوں شہر میں بجلی کے کھمبے نہیں تھے۔ خان صاحب نے تمام کھمبے خود لگوا دئیے۔ اس وقت تھرمل انرجی سے بجلی پیدا کی جاتی تھی۔ آپ کا دفتر اور بجلی گھر جہاں ہوتا تھا، آج وہاں گورنمنٹ ڈسٹرکٹ ہسپتال بنوں، واپڈہ (پیسکو) کا دفتر اور کالونی ہے۔ یہ تمام زمین خان فیض اللہ خان کی ملکیت تھی۔ خان فیض اللہ خان نے لکی شہر میں ریلوے سٹیشن کے ساتھ کوئلہ سے چلنے والا بجلی گھر بنایا تھا جو لکی سٹی کو بجلی سپلائی کرتا تھا۔ خان صاحب کے پاس اس زمانے میں بھی ایک جدید موٹر کار تھی۔ جب لکی مروت اور بنوں میں کسی کے پاس گاڑی نہیں تھی۔ آج بھی ۶۰ سال سے زائد عمر کے لوگ خان فیض اللہ خان کا نام بڑھی محبت اور عزت سے لیتے ہیں کیونکہ صدیوں تک خان صاحب جیسی ہستی پیدا نھیں ہو سکتی ہے۔ اتنی دولت اور لاکھوں کنال زمین کے مالک ہونے کے باوجود خان صاحب میں ذرہ بھر بھی غرور نہ تھا۔ آپ انتھائی سخی، غریبوں کے ہمدرد اور نہایت ایماندار شخص تھے۔

خان صاحب حقے اور تمباکو نوشی کے بہت زیادہ شوقین تھے جس کی وجہ سے انہیں پھیپھڑوں کا مرض لاحق ہو گیا اور آپ اسی مرض میں مبتلا ہوکر تقریباََ اسی (۸۰) سال کی عمر میں ۱۹۵۵ کے موسم گرما میں اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔

میری دعا ہے کہ اللہ تعالی اس عظیم انسان کو اپنے جوار رحمت میں جگہ نصیب فرمائے۔ امین۔

حاجی اکرام اللہ خان ایڈوکیٹ، قوم لنڈکہ


An account of Khan Faizullah Khan and his father Khan Sherdil Khan of Ghazni Khel, Lakki Marwat.

(Type: PDF, Language: Urdu, Size: 1.4 Mb)

Download

Comments

Comments powered by Disqus

خان فیض اللہ خان, حاجی اکرام اللہ خان ایڈوکیٹ
خیبر ویب سائٹ ميں 18 جنوری 2010 کو شائع ھوا (http://www.khyber.org)