Pakhto + Pashto = Pakhashto

پښتو :: پښتانه :: پښتونخواه :: پښتونوالی

پختو + پشتو = پخشتو, ڈاکٹر هدايت الله نعيم
خیبر ویب سائٹ ميں 19 مئی 2013 کو شائع ھوا (http://www.khyber.org)



پختو + پشتو = پخشتو

ڈاکٹر هدايت الله نعيم

پخشتو اکيڈمی پشاور يونيورسٹی

تاريخ اشاعت: 19 مئی 2013

Dr. Hidayat Ullah Naeem, Sr. Research Officer/Associate Prof. is teaching linguistics and research methodology to M.Phil/Ph.D classes at Puxto Academy, University of Peshawar. In this paper, he says that Pukhto (پختو) and Pushto (پشتو) are the names of two dialects of Puxto language (where in "x" represents the Puxto phoneme "ښ") and neither the digraph "Kh" or "Sh" is corresponding of the "ښ" and or that of "x". Also, none of the two (Kh/Sh) is a cognate of "x". Hence, Dr. Hidayat Ullah Naeem has proved that the following algebraic statement in Urdu version پختو + پشتو = پخشتو is true and the Urdu name of Puxto language is پخشتو. The researcher has proved this statement as correct according to the phonology/modern linguistics, orthographically/graphologically, too.

محاصل

اس مقالے ميں زبان [1]  پښتو Puxto  کی اردو حروف ميں تحرير "پختو" اور "پشتو" کا جائزه ليا گيا ہے۔ چونکه پختو ميں حرف خ او پشتو ميں حرف ش اس زبان کے الگ الگ دو بڑهے لہجوں (سخت يا پشاوری لہجے اور نرم يا قندهاری لہجے) کی نمائندگی کرتے هيں۔ اور ہر کوئی پوری زبان کی نمائندگی کرنے سے، انفرادی حالت ميں، قاصر ہے۔ لہذا عمومی لسانيت اور بالخصوص جديد لسانيت جس کی بنياد صوتيات پر ہے، کے اصول (لہجه 1 + لہجه 2 + لہجه 3 + ... = زبان) کے مطابق اس الجبری جملے پختو + پشتو = پخشتو کو ثابت کيا گيا ہے۔ چنانچه عمل ابدال [2] (نا که عمل نقل تحرير) کے اصول کے مطابق ان الفاظ کا تجزيه کر کے انهيں عمل مساوات سے گزارا گيا ہے۔ اب همارے پاس پختو يا پشتو لکهنے کا کوئی جواز باقی نه رها۔ اور اگر هم اس وقت، زياده تر ڈيورنڈ لائن کے ہر دو جانب مشرقی افغانستان اور مغربی پاکستان ميں آباد ستر فيصد سے زياده آبادی کی زبان کا نام لکهتے هيں تو پخشتو لکهيں گے۔ يوں ښ کو خ بولنے والوں کے لئيے اس لفظ ميں ش ساکت هوگا اور ښ کو ش بولنے والوں کے لئيے اس لفظ ميں خ ساکت رهے گا۔ اور کسی لفظ ميں کسی حرف يا حروف کے ساکت هونے کا يه اصول بهی اکثر زبانوں ميں مشترک ہے۔

تعارف موضوع

ابدال (transliteration) يا کسی زبان کو دوسری زبان کے حروف ميں لکهنے کا عمل تو پرانا اور پيچيده رها هی ہے، مگر بعض تحريری زبانيں (مثال انگريزی) ايسی هيں که جنهيں اپنے هجوی و تحريری نظام رکهنے کے باوجود اپنی هی زبان والوں کی رهنمائی کے لئيے نظام باز تحرير (respelling system) کا اس کے لئيے اهتمام کيا گيا که اهل زبان اپنی زبان کی تحرير کو صحيح پڑه سکيں۔ لندن ميں IPA (1888) کے قيام اور اس کے مقاصد اور کام سے سارے علاقه مندان واقف هيں که اس نے انگريزوں کے لئيے يه سهولت بهم پهنچانے کی کوشش کی که وه اپنی زبان صحيح اور سهولت کے ساته پڑه سکيں۔ يه الگ بات ہے که اکيسويں صدی عيسوی ميں برطانوی گريجويٹس صحيح انگريزی لکهنے سے قاصر هيں (برٹش کنفڈريشن آف انڈسٹری، ۲۰۰۶)۔

اس ميں شک نهيں که IPA يعنی انٹرنيشنل فونيٹک ايسوسی ايشن کا IPA يعنی انٹرنيشنل فونيٹک الفابٹ اور اس کے نظام باز تحرير کو بهت کم برطانوی لغت ناموں نے اختيار کيا۔ اور امريکيوں نے اسے عملاََ مسترد کيا، مگر وه کسی کی پروا کئيے بغير اپنے نظام کو وخت کے ساته ساته مزيد وسعت ديتا گيا۔ يهاں تک که IPA کا نظام باز تحرير انگريزی حروف تهجی کے نظام کے ساته ايک متوازی نظام کی حيثيت اختيار کر گيا۔ اور يوں انگريز لوگ بهی اس سے پيچهے ره گئے۔ چنانچه برطانيه ميں چند لغت نامے اس نظام کو اختيار کر چکے هيں۔ همارے هاں تو شائد هی کوئی هو۔ اور امريکه تو غالباََ انيسويں صدی سے اپنی زبان کو صوتياتی زبان بنانے لگے تهے۔ جس کے لئيے انهوں نے بلوم فيلڈ کی پيروی کرتے هوئے انگريزی هجوں ميں، ان کے هاں، ساکت هجے خود هی حذف کئے۔ اور يا اس ميں ردوبدل کيا۔ مثلاََ programme سے آخری m اور e ختم کرکے program بنا ديا اور centre کے آخری e کو r سے پهلے اور t کے بعد لگا کر دو مصمنوں کو مصوته فراهم کيا۔

چنانچه همارے هاں بهی اردو اور انگريزی کے لئے مکمل اور معياری نظام هائے باز تحرير ارتقا پزير نه هوسکے۔ کيونکه مختلف اشاعتی ادارے اور کچھ افراد اپنے، اپنے تشکيل کرده نظاموں پر عمل پيرا هيں۔ مثلاََ آپ Kitabistan Publishing Co, Lahore کی شائع کرده لغت نامے، Azhar Publishers، Urdu Bazar Lahore اور يا Oriental Book Society، Lahore کی حال هی ميں شائع کرده ڈکشنريوں کو اٹها کر ديکهيں اور ان کے نظام هائے باز تحرير کو باهم مقابله کرکے ملاحظه کريں تو ان ميں اکثر مقامات پر واضح اختلاف نظر آئے گا۔ ميری معلومات اور مطالعے کے مطابق پاکستان ميں سب سے اچها نظام باز تحرير  Kitabistan Publishing Co، Lahore والا ہے۔ نظام باز تحرير اور نظام ابدال ميں فرق واضح ہے، نيز اردو، دری، فارسی، اور عربی وغيره کو نظام باز تحرير کی، اعراب و حرکات کی موجودگی ميں کوئی ضرورت نهيں۔ يه محض انگريزی اور شايد ديگر مغربی زبانوں کا مسله ہے۔ همارا مسله اور ديگر يعنی مغربی زبانوں کا جو مشترکه مسله ہے، وه ابدال transliteration والا مسله ہے۔

صديوں سے لوگ مختلف ضرورتوں کے تحت ايک زبان کو دوسری زبان کے هجوں ميں لکهتے رهے هيں۔ تاهم ايک ميعاری اور علمی (scientific) نظام وجود ميں نه آسکنے کی بناء پر اب تک يه ايک مسله رها ہے۔ زبان پخشتو کے دو مخرجی اور اردو کے هائے مخلوط التلفظ (ه) والے مرکب صوتيوں کو چهوڑ کر دونوں زبانوں کے باقی تمام صوتئيے، مصمتے، اور مصوتے مشترک هيں۔ اور ان ميں، باهمی طور پر، ابدال که مسله هی نهيں۔ جبکه دو مخرجی صوتيوں اور، اس وقت، خاص طور پر ښ کے مسلے پر غور کرنا ہے۔ يه صوتيه بهی چونکه اردو (اور فارسی وغيره) ميں نهيں ہے، لہذا اردو زبان ميں پخشتو کے ايسے الفاظ جن ميں ښ بهی موجود هو، کا لکهنا مشکل تو کيا، ممکن هی نهيں رها ہے۔ يه جو لوگ پختو اور پشتو لکهتے اور چهاپتے هيں، يه يا تو دانسته طور پر ايک لہجے کی نمائندگی ہے، يا پهر انهی مشکلات اور پريشانی (confusion) کا نتيجه ہے، جس سے که اپنے اور پرائے (مستشرقين) دوچار هيں۔

تحريری اور طباعتی عمل ميں اس مسلے کی تاريخ تو پرانی ہے، جس کا ذکر آگے آيا ہے۔ تاهم IT کے اس تيز ترين دور اور متنوع عمل ميں اس مسلے سے لوگ اس وقت سے دوچار هو رهے هيں، جب سے رسل و رسائل اور مواصلات کے جديد آلات و ابزار اور مشينيں بازار ميں آئے هيں۔ مثلاََ موبائل فون کے پردے (screen) پر پيغام بهيجنے کی غرض سے اسے تحرير (compose) کرتے وقت، يه مسله تو انگريزی زبان ميں sms کرتے وقت spelling کے سلسلے ميں بهی پيش آسکتا ہے، مگر اردو، يا پخشتو زبان ميں پيغام بهيجنے کے لئيے منتقل کرتے وقت مماثل اور يا هم مخرج، هم اصل (corresponding and/or cognate) حروف جاننے اور معلوم کرنے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ يه هوں، اور ان کا علم نه هو تو يه معمولی بات ہے۔ مگر يه سرے سے مقرر نه هوں تو پهر يه معمولی بات نهيں۔ ويسے تو لوگ کام چلاتے هيں اور سب اپنی سمجه، بلکه اندازے کے مطابق ايک جيسے بولے اور سنے جانے والے حروف کو استعمال کرکے اپنے مافی الضمير کو مطلوبه افراد و مقامات تک پهنچا ديتے هيں۔ تاهم يه خود ادراکی اور کسی دائرے، قاعدے، اور اصول سے آزاد، محض اندازے پر مبنی طريقه جيسا که علمی (scientific) نهيں هوتا، ايک مربوط  و منضبط نظام کا حصه نهيں بن سکتا۔ چنانچه مختلف لوگوں کے اندازے، تجربے، اور طريقه هائے کار مختلف هو سکتے هيں۔ جبکه ايک مربوط اور سائنسی نظام کے لئيے ٹهوس بنياديں اور سائنسی قواعد درکار هوتے هيں۔ يهی وجه ہے که موجوده دور، جسے بجا طور پر IT کا دور کها جاتا ہے، ابدال (transliteration) کے ايک سائنسی نظام کا متقاضی ہے۔ جسے پخشتو زبان کے ښ کی حد تک حل کيا گيا ہے۔

مسلے کی تشخيص

پخشتو زبان کے دو بڑهے لہجوں کو ايک دوسرے سے جدا کرنے والے دوسرے عوامل کے علاوه چار دو مخرجی بنيادی صوتئيے (phoneme) بهی هيں۔ جو اس سلسلے ميں مرکزی کردار کے حامل هيں جو که درج ذيل جدول ۱ ميں دکهائے گئے هيں۔

جدول ۱
۱ځدز/دج
۲څتس/دچ
۳ږگژ
۴ښخش

تاهم سب سے زياده اور بهت کثير الوقوع صوتيه (ښ) ہے۔ جو پخشتو اور پخشتون يعنی اس قوم کے نام اور اس کی زبان کے نام ميں موجود ہے۔ اس کے علاوه پخشتونوں کی ضابطه حيات يا ان کا دستور پخشتونوالی ميں يه صوتيه موجود ہے، اور يه لوگ جهاں رهتے هيں، اس منطقے کو بهی يه لوگ پخشتونخواه کے نام سے پکارنا پسند کرتے هيں۔ چنانچه پخشتو ميں ښ بدرجه اتم زياده اور کثير الوقوع ہے۔ يه کوئی بات نهيں۔ مگر مسله اس وقت بن جاتا ہے جب اردو يا فارسی وغيره ميں ښ والے الفاظ اسماء يا افعال يا ديگر الفاظ (morphemes) پلے پڑه جائيں۔ مثلاََ سر اولف کارو کی The Pathans کے اردو ترجمے سے چند جملے جو اس امر کی طرف اشاره کرتے هيں، اس کتاب اور کتاب کے اس ترجمه ميں پشتو اور پختو دونوں کو مکرر طور پر لکها گيا ہے، ملاحظه هوں چند جملے:

  1. گريرسن پختو يا پشتو کے متعلق اپنے مضمون، هندوستان کا لسانی جائزه، ميں ڈارميسٹيٹر کا حواله ديتے هوئے لکهتے هيں (ص: ۱۰۴)
  2. گريرسن کے بيان کے مطابق پختو اور پشتو کی يهی اصل ہے (ص: ۱۰۴)
  3. پشتو ۔۔۔ اور ۔۔۔ پختو ميں آکر ۔۔۔ (ص: ۱۰۵)
  4. ۔۔۔ پشتو چشتن، پختو سختن ۔۔۔ جو پشتو يا پختو زبان کی خصوصيت ہے (ص: ۱۰۵)
  5. ۔۔۔ اور کتبوں ميں موازنه کا يه مواد مل جانے سے پختو زبان کا کم از کم ۔۔۔ (ص: ۱۰۶)
  6. جهاں پختو اور پشتو ۔۔۔ به الفاظ ديگر پختو اور پشتو ايک درميانی ۔۔۔ (ص: ۱۰۷)

اس کے علاوه پاکستان کے تقريباََ تمام رسائل و مجلات اور اخبارات به امر مجبوری پختو اور پشتو يا پشتو اور پختو دونوں لکهتے هيں۔ جس کے اس کے سوا اور کوئی وجه نهيں که اس زبان کا اپنا نام، جو که پخشتو ہے، زير استعمال نهيں، بلکه زياده تر اسے لہجوں کے ناموں سے ياد کيا اور لکها جاتا ہے۔ دی پٹهان سے لئے گئے جملوں کی طرح روزنامه آج پشاور مورخه ۵ اپريل ۲۰۰۸ سے بهی چند مثاليں لی جاتی هيں:

دريائے آمو سے ليکر مارگله تک کے ۔۔ خطے ۔۔ پرانی تاريخ چهوڑ کر ماضی قريب کی بات کريں تو اس خطے کے باشندے افغان يا پختون کهلاتے هيں۔ ۔۔ يه قوم افغانستان اور پاکستان ميں تقسيم ہے۔ افغانستان ميں يه آبادی کے ۷۰ فيصد هيں۔ پشتو وهاں کی سرکاری اور قومی زبان ہے۔۔۔ صوبه بلوچستان ميں بهی پختون اکثريت ميں هيں۔ پهاڑی علاقوں ميں پختون قبائل آباد هيں ۔۔۔ پختونوں ۔۔ پختونوں۔۔۔ پختونوں۔۔۔ (ص: ۵،۸)

رسائل و اخبارات کے ساته ساته اردو زبان ميں متعلقه موضوعات پر لکهی گئی کتب ميں يه چيزيں ملتی هيں جو ضروری نهيں که ہر مصنف کا لہجے سے تعلق کو ظاهر کرتی هوں، بلکه يه اس سلسلے ميں اس کی انفرادی پريشانی بهی هو سکتی ہے۔ مگر بعض مصنفين و مؤلفين کے بارے ميں يه تاثر غلط بهی نهيں۔ مثلاََ پروفيسر پريشان خٹک کی کتاب پشتون کون؟ اور راقم محقق کی کتاب پختو فولکلور ۔۔ يه دونوں کتابيں پخشتو اکيڈمی نے چهاپی هيں۔ البته بهادر شاه ظفر کاکاخيل کی کتاب (کا اردو ترجمه) پشتون تاريخ کے آئينے ميں، وغيره کی کتب ميں يه چيزيں ان کی پريشانی (confusion) کی واضح عکاسی کرتی هيں۔ اس پريشانی ميں همارے ساته ساته مستشرقين بهی مبتلا رهے هيں۔ چنانچه راورٹی جيسا آدمی مجبور تها که پختو قواعد پر اپنی لکهی هوئی کتاب کا نام هی ايسا رکهے که مذکوره پريشانی يا مشکل هی اس کی کتاب کا عنوان بنے جو که "A grammar of the Pukhto، Pushto or language of the Afghans" ہے۔يهی مثال Bellew کی پخشتو لغت کے نام کا بهی ہے، اور A dictionary of the Pukkhto or Pukshto Language چنانچه پختو اور پشتو ايک ساته يا کبهی پختو لکهنا اور کبهی پشتو لکهنا لکهنے والوں کی پريشانی اور درپيش مشکل کا نتيجه رها ہے۔ جس کی تشخيص اور سائنسی طريقے سے اس کا حل، بالخصوص اس کمپيوٹری دور کا بهی تقاضه ہے۔

يه مسله اگرچه مذکوره بالا تين ديگر دو مخرجی حروف کے سلسلے ميں بهی پايا جاتا ہے، اور حل طلب بهی ہے، تاهم ښ اور پهر اس پر مشتمل چار الفاظ، ايک زبان کے نام کی صورت ميں، دوسرا اس قوم يا قبيلے کے نام کی صورت ميں، تيسرا اس قوم کے وطن کے نام کی صورت ميں، اور چوتها اس قوم کے ضابطه حيات و دستور کے نام کی صورت ميں، اس زبان، اس قوم، اس منطقے، اور اس ضابطه حيات سے وابسته مطالعات و تحريرات ميں بهت کثير الوقوع هيں۔ چنانچه اس سلسلے ميں اس شرح سے پريشانيوں اور مشکلات بهی زياده رهی هيں۔ يهی وجه ہے ه هم نے اپنے موجوده کام کا دائره انهی چار الفاظ تک محدود رکها هوا ہے۔ البته جو قاعدے و کليے يهاں استعمال کئے گئے هيں، وهی ديگر دو مخرجی صوتيوں پر مبنی مطالعے ميں استعمال هوں گے۔

مسلے کا حل اور طريقه کار

پختو + پشتو = پخشتو ايک الجبري جمله ہے۔ چونکه ابجدی ترتيب سے خ، ش سے پهلے آتا ہے لہذا مساوات کی دوسری جانب بهی خ، ش سے پهلے رکها گيا ہے۔ يه بات پخشتو کے ہر دو لہجوں کے بعض الفاظ ميں اسی طرح هوتا ہے (ديکهيں جدول ۲)۔

جدول ۲
ايک لہجے ميں لفظمعنیيهی لفظ دوسرے لہجے ميں
خښدفنښخ
خښينې/اخښےسالی/سالاښخينې/اښخے

حسابی الجبری طريقے سے ثابت هوا که پختو اور پشتو پخشتو کے برابر ہے۔ اب صوتيات (phonetics) کے ذريعے ثابت کرتے هيں که ښ=خ+ش۔ ښ  پخشتو زبان کا ايک صوتيه (phoneme) ہے۔ جو که اس زبان کے ايک بڑے، پشاوری لہجے ميں اس کو خ سے متلفظ کيا جاتا ہے۔ جبکه دوسرے بڑے، قندهاری لہجے ميں اس کو ش سے متلفظ کيا جاتا ہے۔ اس لئيے که ښ بهی پخشتو کے چار دومخرجی اصوات (phonemes) ميں سے ايک ہے (PUTAJ.1996۔49۔50)۔

ښ کو پخشتو کے دو بڑے لہجوں ميں نه صرف مختلف اصوات سے متلفظ کيا جاتا ہےبلکه اردو ميں لکها جاتا بهی اسی طرح مختلف ہے۔ اور الذکر لہجے کے افراد (پښتو) کی بجائے پختو اور پختون جبکه آخرالذکر لہجے والے اسے پشتو اور پشتون لکهتے اور چهاپتے هيں۔ يه عمل الجبرے کی زبان ميں ښ=خ اور دوسرے لہجے کے مطابق ښ=ش بنتا ہے۔ ليکن الجبری قوانين کے مطابق يه منطق درست نهيں۔

جس طرح ش ښ کے برابر نهيں ہے (نوې څيړنه، ۱۰۰۰)، اسی طرح خ بهی ښ کے برابر نهيں ہے۔ چنانچه الفاظ پختو اور پشتو صوتی لحاظ سے (phonetically) دو مختلف لہجوں کی نمائندگی و نشاندهی کرتے هيں۔ جبکه پخشتو پوری زبان کی نمائندگی کرتا ہے۔ يه بات بهی ظاهر اور واضح ہے که خ يا ش ميں سے ہر ايک انفرادی حيثيت ميں نه ښ کے مماثل و بدل (corresponding) ہے اور نه هم هم اصل و متجانس (congnate)۔ لہذا حرف ساکت کے اصول کے مطابق، جيسا که ديگر زبانوں کے علاوه پخشتو کے دوسرے کئی الفاظ ميں بهی ملتے هيں، سخت (پشاوری) لہجے والے اردو، فارسی وغيره ميں پخشتو لکهيں گے، مگر انهيں بولنے کی حد تک پختو کهنے کی يا پڑه لينے کی اجازت هوگی۔ اسی طرح نرم (قندهاری) لہجے والے پشتو کهنے اور بولنے کے مجاز هوں گے۔ مطلب يه که پشاوری لہجے ميں ش ساکت هوگا اور قندهاری لہجے ميں خ حرف ساکت هوگا۔پخشتو زبان ميں اس قسم کے بهت سے الفاظ موجود هيں جن ميں اس قاعده اصول پر هزارها سال سے عمل هو رها ہے (ديکهئےجدول ۳)

جدول ۳
لفظمعنیپشاوری لہجے ميںقندهاری لہجے ميں
اخښلگوندهنااخلاخښل/اښل
بخښلبخشنابخلبخښل/بښل
نخښهنشانی يا نقشهنخهنخښه/نښه
(پشاور يونيورسٹی جرنل ۱۹۹۶۔۱۹۹۷، ۸۶)

ايسے الفاظ مندرجه بالا کے مقابل ميں بهت زياده هيں جن ميں که ښ پشاوری لہجے ميں ساکت جبکه قندهاری ميں گويا ہے، مثلاَ، ديکهئيے جدول ۴:

جدول ۴
لفظمعنیپشاوری لہجے ميںقندهاری لہجے ميں
کښيناستلبيٹهناکيناستلکشيناستل
کښېکے، اندر، انگريزی inکېکشې

پخشتو وغيره ميں پهلے حرف پ کے ہرکت (زبرَ، زيرِ، پيشُ، وغيره) کے سلسلے ميں بهی بات ضروری ہے۔ يه ٹهيک ہے که اردو اور ديگر مشرقی زبانوں کی تحرير ميں پخشتو، پخشتون، اور پخشتونوالی اور پخشتونخواه کوئی بهی لفظ نامکمل نهيں لگتا، مگر جو لوگ ان الفاظ سے سننے اور لکهنے و پڑهنے کی حد تک نابلد هيں، ان سے اسے اسی طرح صحيح پڑهنے کا هم، باوجود بولنے، پڑهنے کے امکان کے، توقع رکهنے کا حق نهيں رکهتے۔

اعراب يا حرکات کے بغير لکهی پڑهی جانی والی تحريری زبانيں ايک قدرتی خوبی کی حامل هيں۔ يه ان کی اپنی خصوصيت peculiarity ہے جو که انگريزی وغيره کے هاں نهيں مگر يه اصول ہے که دو مصمتوں کو ملانے کے لئيے کسی مصوتے کی موجودگی ضروری هوتی ہے۔ چنانچه يه اصول عام ہے، اور کسی ايک خاص زبان يا کسی علاقے کی زبانوں کے لئيے نهيں۔ چنانچه پخشتو وغيره ميں پ کے اوپر ايک حرکت وجود رکهتا ہے، مگر يه اس وقت ظاهر هوتا ہے جب اسے بولا جائے (PUTAJ، ۱۹۹۶، ۵۷۔۵۹)۔ اعراب کو بعض لوگوں نے علامات بهی کها ہے۔ کام تو يه واولز يا مصوتوں کا کرتے هيں مگر مصمتوں کی حيثيت سے صرف مصوتے هی کام کرتے هيں نه که اعراب۔ مگر پهر بهی Prof. Firth نے کها ہے که عربی تحرير ابجدی نهيں۔ اس بات کو Mr. Mitchell نے واضح کيا ہے اور کها ہے که عربی مصوتے حروف نهيں بلکه علامات (حرکات) هيں اور نظام تحرير اس کا syllabic يعنی بولوں واله ہے (Abercrombie، ۱۹۶۵، ۱۳۲۔۳۳)

حالانکه ايسا نهيں۔ بلکه يه حرکات ضمنی مصوتے هوتے هيں اور اصلی مصوتوں، ا، و، ی، ے اور ان کے اشکال متغيره (variants) هيں، جو که عام حالات ميں انهی بنيادی مصوتوں کا بهی کام ديتے هيں اور خاص حالات ميں اپنے بنيادی مصوتے کے سات آکر ڈبل کا کام ديتے هيں۔ جو کام IPA وغيره کے هاں کسی مصوتے کے اوپر زبر زير ڈال کر ليا جاتا ہے، وه کام عربی اور اس سے اخذ کئے گئے تمام ابجدی نظاموں ميں حرکات (diacritics) يا case marks سے ليا جاتا ہے (PUTAJ، Opcite:49)۔ عام انگريزی ميں، عام طور پر، اس کام کے لئيے ايک مصوته ڈبل (diphthong) استعمال کيا جاتا ہے۔ يا دو مختلف مصوتے استعمال کئے جاتے هيں۔ مثلاَ ee، oo، ea، eo وغيره۔ چهوٹی لکير، يعنی ڈيش _ اور نقطه يعنی ڈاٹ وغيره کو IPA کی طرح کئی ايک افراد اور اداروں نے اختيار کيا ہے۔ تاهم مورزونيت کے لحاظ سے سب ايک طرح نهيں۔ اس سلسلے ميں راقم و محقق نے کچھ ايسے نظاموں کی مثاليں اکهٹی کي هيں (Puxto، ۲۰۰۶، ۴۹۔۹۲)

نتيجه او تجويز

کسی بهی زبان ميں کلام (speech) اور بولی کا کوئی بهی حصه تحريری صورت ميں (املائی لحاظ سے) مکمل هونا ضروری هوتا ہے۔ چنانچه پختو اور پشتو چونکه دو لہجوں کے نمائنده الفاظ هيں، اور اپنی حد تک ادهورے هيں، بلکه اصولی اور سائنسی طور پر غلط هيں کيونکه خ اور ښ، اور ش اور ښ برابر نهيں۔

لہذا زبان کو ايک يا دونوں لہجوں کا مجموعه ماننے اور سائنسی اصول کو ملحوظ رکهنے کا تقاضا يه ہے که پختو/پختون/پختونخوا/پختونولی اور پشتو/پشتون/پشتونخوا/پشتونولی کے بجائے پخشتو/پخشتون/پخشتونخوا/پخشتونولی لکها جائے۔ جبکه انگريزی ميں ښ کے لئيے kh يا sh لکهنے کے بجائے x لکها جائے کيونکه ښ=x کو معيار مقرر کيا گيا ہے۔

حرف پ کے اوپر حرکت کا جهاں تک تعلق ہے، تو يه پيش (ُ) ہے، تاهم کچھ پخشتون اس کا، چونکه (زبرَ) بهی بولتے هيں، لہذا (زبرَ) بهی ٹهيک ہے۔ هم نه جو پ کے اوپر کوئی حرکت نهيں ڈالی، يه اسی لئيے که ہر کوئی اسے اپنے لہجے کے مطابق پڑه سکے۔ چنانچه پ پر کسی حرکت ڈالنے کی ضرورت نهيں۔ البته انگريزی حروف ميں اسے لکهتے وقت پ کے لئے p کے سامنے کوئی واول vowel لکهے بغير چاره هی نهيں، که لفظ نهيں بنتا۔ چنانچه بهتر تو يه ہے که u ڈالا جائے که اس کا دائره وسيع هونے کی بناء پر يه زبان کی نمائندگی کرتا ہے۔ جبکه a ايک لہجے کی نمائندگی کرتا ہے۔ u سے بهی ايک حد تک (زبرَ) کا کام ليا جاتا رها ہے (A dictionary of spoken Pukhto، 2004)

English Pushto Dictionary, 1970 خټک لہجے والے پ کا (زبرَ) بولتے هيں۔ اور ان کے پخشتو زبان و ادب کے ماهر بهی زبر کے لئيے u استعمال کر رهے هيں۔ The intangible heritage, Walled city of Peshawar, 2005 به ايں همه ميری تجويز يه ہے که بلا ضرورت نه پيشُ ڈالا جائے، اور نه هی زبرَ۔


[1] جهاں x ظاهر کرتا ہے ښ کو۔ مطلب ښ = x۔ ښ = خش (اردو اور فارسی کے) بعض لوگوں نے خ کے لئيے x لکها اور استعمال کيا ہے۔ ايسے تمام نظام غير مربوط اور غير سائنسی هيں۔

[2] ابدال کو انگريزی ميں transliteration کهتے هيں۔ جبکه عمل نقل تحرير کو transcription کها جاتا ہے۔ اول الذکر ميں کسی زبان کے اصوات (phonemes) کے لئيے دوسری زبان کے اصوات ميں هم مخرج معلوم کرکے استعمال کرنے کو عملِ ابدال کهتے هيں۔ جبکه عملِ نقل تحرير ميں ايک زبان کے عام تلفظ کو اسی کے حروف ميں نقل کرکے لکهتے هيں۔

کتاب نامه (bibliography)

  1. آج، روزنامه (پشاور ۵ اپريل ۲۰۰۸) جميل مرغز، سنگ زنی، ايڈيٹر اينڈ پبلشر عبدالواحد يوسفی جۍ ٹی روڈ پشاور، پاکستان
  2. اسلام، روزنامه (پشاور ۲۲ اگست ۲۰۰۶)، اے پی پی، برٹش کنفڈريشن آف انڈسٹری، برطانيه، چيف ايڈيٹر، پبلشر مفتی محمد زرين خان، همدرد سٹريٹ، A4-85, 18 صدر روڈ، پشاور صدر۔
  3. پٹهان، سر اولف کارو، اردو ترجمه (۲۰۰۰ تيسری اشاعت)، سيد محبوب علی، پخشتو اکيڈمی يونيوریٹی آف پشاور، پاکستان
  4. پختو فولکلور (۲۰۰۸ء)، ڈاکٹر هديات الله نعيم، پخشتو اکيڈمی، يونيورسٹی آف پشاور
  5. پشاور يونيوریٹی جرنل (۱۹۹۶۔۱۹۹۷)، د پښتو ليک ژبې، او املائي مشکلات، ډاکټر هديات الله تعيم، فيکلٹی آف اورئينٹل لينگويجز، پشاور يونيورسٹی، پشاور
  6. پشتون تاريخ کے آئينے ميں، بهادر شاه ظفر کاکا خيل (اردو ترجمه)، سيد انوارالحق جيلانی، يونيورسٹی بک ايجنسی، پشاور
  7. پشتون کون؟ (۲۰۰۵، اشاعت دوم) پروفيسر پريشان خٹک، پخشتو اکيڈمی، يونيورسٹی آف پشاور
  8. پښتانه (۲۰۰۳، دوئم چاپ)، دوکتور حبيب الله تږے، دانش خپرندويه ټولنه، پېښور، پاکستان
  9. پښتو (اپريل، جون ۲۰۰۶)، ډاکټر هدايت الله نعيم، د پښتو ژبې اهميت، ضرورت، او مستقبل، (دوئم قسط)، پښتو اکېډمئي، پېښور يونيورسټې، پېښور
  10. نوې پښتو قاعده، ۲۰۰۶ (ناچاپ)، ډاکټر هدايت الله نعيم، پښتو اکېډمئي، پېښور
  11. نوې څيړنه، صديق الله رښتين، يونيورسټئي بوک اېجنسي، پېښور، پاکستان
  12. A dictionary of the Pukkhto or Pukhshto language (2001), Henry Walter Bellew, Saeed book and subscription agency, Peshawar Cantt, Pakistan
  13. A dictionary of spoken Pukhto, Robert Sampson, Interlit foundation, Peshawar
  14. A grammar of the Pukhto, Pashto, or Language of the Afghans (1981), Captain H.G. Raverty, د چاپ ځائې، Peshawar, Pakistan
  15. General linguistics (1973), Jean Aitchison, S.T.Paul's House, Warwick Lane, London EC4P 4AH.
  16. IPA (1888) Chart & Pronunciation respelling for English, Online: en.wikipedia.org/wiki/IPA-Chart (16-4-2008)
  17. PUTAJ (1996, V:3), Dr. Hidayatullah Naeem, د پښتو د يوې ميعاری املا په هڅه، د مسلے تشخيص او حل، Peshawar university teacher's association research journal, Pakistan.
  18. Studies in Phonetics and Linguistics (1965), David Abercrombie, Oxford University Press, London

Comments

Comments powered by Disqus

پختو + پشتو = پخشتو, ڈاکٹر هدايت الله نعيم
خیبر ویب سائٹ ميں 19 مئی 2013 کو شائع ھوا (http://www.khyber.org)