Pakhto + Pashto = Pakhashto``xadmin``x

Dr. Hidayat Ullah Naeem, Sr. Research Officer/Associate Prof. is teaching linguistics and research methodology to M.Phil/Ph.D classes at Puxto Academy, University of Peshawar. In this paper, he says that Pukhto (پختو) and Pushto (پشتو) are the names of two dialects of Puxto language (where in "x" represents the Puxto phoneme "ښ") and neither the digraph "Kh" or "Sh" is corresponding of the "ښ" and or that of "x". Also, none of the two (Kh/Sh) is a cognate of "x". Hence, Dr. Hidayat Ullah Naeem has proved that the following algebraic statement in Urdu version پختو + پشتو = پخشتو is true and the Urdu name of Puxto language is پخشتو. The researcher has proved this statement as correct according to the phonology/modern linguistics, orthographically/graphologically, too.

محاصل

اس مقالے ميں زبان [1]  پښتو Puxto  کی اردو حروف ميں تحرير "پختو" اور "پشتو" کا جائزه ليا گيا ہے۔ چونکه پختو ميں حرف خ او پشتو ميں حرف ش اس زبان کے الگ الگ دو بڑهے لہجوں (سخت يا پشاوری لہجے اور نرم يا قندهاری لہجے) کی نمائندگی کرتے هيں۔ اور ہر کوئی پوری زبان کی نمائندگی کرنے سے، انفرادی حالت ميں، قاصر ہے۔ لہذا عمومی لسانيت اور بالخصوص جديد لسانيت جس کی بنياد صوتيات پر ہے، کے اصول (لہجه 1 + لہجه 2 + لہجه 3 + ... = زبان) کے مطابق اس الجبری جملے پختو + پشتو = پخشتو کو ثابت کيا گيا ہے۔ چنانچه عمل ابدال [2] (نا که عمل نقل تحرير) کے اصول کے مطابق ان الفاظ کا تجزيه کر کے انهيں عمل مساوات سے گزارا گيا ہے۔ اب همارے پاس پختو يا پشتو لکهنے کا کوئی جواز باقی نه رها۔ اور اگر هم اس وقت، زياده تر ڈيورنڈ لائن کے ہر دو جانب مشرقی افغانستان اور مغربی پاکستان ميں آباد ستر فيصد سے زياده آبادی کی زبان کا نام لکهتے هيں تو پخشتو لکهيں گے۔ يوں ښ کو خ بولنے والوں کے لئيے اس لفظ ميں ش ساکت هوگا اور ښ کو ش بولنے والوں کے لئيے اس لفظ ميں خ ساکت رهے گا۔ اور کسی لفظ ميں کسی حرف يا حروف کے ساکت هونے کا يه اصول بهی اکثر زبانوں ميں مشترک ہے۔

تعارف موضوع

ابدال (transliteration) يا کسی زبان کو دوسری زبان کے حروف ميں لکهنے کا عمل تو پرانا اور پيچيده رها هی ہے، مگر بعض تحريری زبانيں (مثال انگريزی) ايسی هيں که جنهيں اپنے هجوی و تحريری نظام رکهنے کے باوجود اپنی هی زبان والوں کی رهنمائی کے لئيے نظام باز تحرير (respelling system) کا اس کے لئيے اهتمام کيا گيا که اهل زبان اپنی زبان کی تحرير کو صحيح پڑه سکيں۔ لندن ميں IPA (1888) کے قيام اور اس کے مقاصد اور کام سے سارے علاقه مندان واقف هيں که اس نے انگريزوں کے لئيے يه سهولت بهم پهنچانے کی کوشش کی که وه اپنی زبان صحيح اور سهولت کے ساته پڑه سکيں۔ يه الگ بات ہے که اکيسويں صدی عيسوی ميں برطانوی گريجويٹس صحيح انگريزی لکهنے سے قاصر هيں (برٹش کنفڈريشن آف انڈسٹری، ۲۰۰۶)۔

اس ميں شک نهيں که IPA يعنی انٹرنيشنل فونيٹک ايسوسی ايشن کا IPA يعنی انٹرنيشنل فونيٹک الفابٹ اور اس کے نظام باز تحرير کو بهت کم برطانوی لغت ناموں نے اختيار کيا۔ اور امريکيوں نے اسے عملاََ مسترد کيا، مگر وه کسی کی پروا کئيے بغير اپنے نظام کو وخت کے ساته ساته مزيد وسعت ديتا گيا۔ يهاں تک که IPA کا نظام باز تحرير انگريزی حروف تهجی کے نظام کے ساته ايک متوازی نظام کی حيثيت اختيار کر گيا۔ اور يوں انگريز لوگ بهی اس سے پيچهے ره گئے۔ چنانچه برطانيه ميں چند لغت نامے اس نظام کو اختيار کر چکے هيں۔ همارے هاں تو شائد هی کوئی هو۔ اور امريکه تو غالباََ انيسويں صدی سے اپنی زبان کو صوتياتی زبان بنانے لگے تهے۔ جس کے لئيے انهوں نے بلوم فيلڈ کی پيروی کرتے هوئے انگريزی هجوں ميں، ان کے هاں، ساکت هجے خود هی حذف کئے۔ اور يا اس ميں ردوبدل کيا۔ مثلاََ programme سے آخری m اور e ختم کرکے program بنا ديا اور centre کے آخری e کو r سے پهلے اور t کے بعد لگا کر دو مصمنوں کو مصوته فراهم کيا۔

چنانچه همارے هاں بهی اردو اور انگريزی کے لئے مکمل اور معياری نظام هائے باز تحرير ارتقا پزير نه هوسکے۔ کيونکه مختلف اشاعتی ادارے اور کچھ افراد اپنے، اپنے تشکيل کرده نظاموں پر عمل پيرا هيں۔ مثلاََ آپ Kitabistan Publishing Co, Lahore کی شائع کرده لغت نامے، Azhar Publishers، Urdu Bazar Lahore اور يا Oriental Book Society، Lahore کی حال هی ميں شائع کرده ڈکشنريوں کو اٹها کر ديکهيں اور ان کے نظام هائے باز تحرير کو باهم مقابله کرکے ملاحظه کريں تو ان ميں اکثر مقامات پر واضح اختلاف نظر آئے گا۔ ميری معلومات اور مطالعے کے مطابق پاکستان ميں سب سے اچها نظام باز تحرير  Kitabistan Publishing Co، Lahore والا ہے۔ نظام باز تحرير اور نظام ابدال ميں فرق واضح ہے، نيز اردو، دری، فارسی، اور عربی وغيره کو نظام باز تحرير کی، اعراب و حرکات کی موجودگی ميں کوئی ضرورت نهيں۔ يه محض انگريزی اور شايد ديگر مغربی زبانوں کا مسله ہے۔ همارا مسله اور ديگر يعنی مغربی زبانوں کا جو مشترکه مسله ہے، وه ابدال transliteration والا مسله ہے۔

صديوں سے لوگ مختلف ضرورتوں کے تحت ايک زبان کو دوسری زبان کے هجوں ميں لکهتے رهے هيں۔ تاهم ايک ميعاری اور علمی (scientific) نظام وجود ميں نه آسکنے کی بناء پر اب تک يه ايک مسله رها ہے۔ زبان پخشتو کے دو مخرجی اور اردو کے هائے مخلوط التلفظ (ه) والے مرکب صوتيوں کو چهوڑ کر دونوں زبانوں کے باقی تمام صوتئيے، مصمتے، اور مصوتے مشترک هيں۔ اور ان ميں، باهمی طور پر، ابدال که مسله هی نهيں۔ جبکه دو مخرجی صوتيوں اور، اس وقت، خاص طور پر ښ کے مسلے پر غور کرنا ہے۔ يه صوتيه بهی چونکه اردو (اور فارسی وغيره) ميں نهيں ہے، لہذا اردو زبان ميں پخشتو کے ايسے الفاظ جن ميں ښ بهی موجود هو، کا لکهنا مشکل تو کيا، ممکن هی نهيں رها ہے۔ يه جو لوگ پختو اور پشتو لکهتے اور چهاپتے هيں، يه يا تو دانسته طور پر ايک لہجے کی نمائندگی ہے، يا پهر انهی مشکلات اور پريشانی (confusion) کا نتيجه ہے، جس سے که اپنے اور پرائے (مستشرقين) دوچار هيں۔

تحريری اور طباعتی عمل ميں اس مسلے کی تاريخ تو پرانی ہے، جس کا ذکر آگے آيا ہے۔ تاهم IT کے اس تيز ترين دور اور متنوع عمل ميں اس مسلے سے لوگ اس وقت سے دوچار هو رهے هيں، جب سے رسل و رسائل اور مواصلات کے جديد آلات و ابزار اور مشينيں بازار ميں آئے هيں۔ مثلاََ موبائل فون کے پردے (screen) پر پيغام بهيجنے کی غرض سے اسے تحرير (compose) کرتے وقت، يه مسله تو انگريزی زبان ميں sms کرتے وقت spelling کے سلسلے ميں بهی پيش آسکتا ہے، مگر اردو، يا پخشتو زبان ميں پيغام بهيجنے کے لئيے منتقل کرتے وقت مماثل اور يا هم مخرج، هم اصل (corresponding and/or cognate) حروف جاننے اور معلوم کرنے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ يه هوں، اور ان کا علم نه هو تو يه معمولی بات ہے۔ مگر يه سرے سے مقرر نه هوں تو پهر يه معمولی بات نهيں۔ ويسے تو لوگ کام چلاتے هيں اور سب اپنی سمجه، بلکه اندازے کے مطابق ايک جيسے بولے اور سنے جانے والے حروف کو استعمال کرکے اپنے مافی الضمير کو مطلوبه افراد و مقامات تک پهنچا ديتے هيں۔ تاهم يه خود ادراکی اور کسی دائرے، قاعدے، اور اصول سے آزاد، محض اندازے پر مبنی طريقه جيسا که علمی (scientific) نهيں هوتا، ايک مربوط  و منضبط نظام کا حصه نهيں بن سکتا۔ چنانچه مختلف لوگوں کے اندازے، تجربے، اور طريقه هائے کار مختلف هو سکتے هيں۔ جبکه ايک مربوط اور سائنسی نظام کے لئيے ٹهوس بنياديں اور سائنسی قواعد درکار هوتے هيں۔ يهی وجه ہے که موجوده دور، جسے بجا طور پر IT کا دور کها جاتا ہے، ابدال (transliteration) کے ايک سائنسی نظام کا متقاضی ہے۔ جسے پخشتو زبان کے ښ کی حد تک حل کيا گيا ہے۔

مسلے کی تشخيص

پخشتو زبان کے دو بڑهے لہجوں کو ايک دوسرے سے جدا کرنے والے دوسرے عوامل کے علاوه چار دو مخرجی بنيادی صوتئيے (phoneme) بهی هيں۔ جو اس سلسلے ميں مرکزی کردار کے حامل هيں جو که درج ذيل جدول ۱ ميں دکهائے گئے هيں۔

جدول ۱
۱ځدز/دج
۲څتس/دچ
۳ږگژ
۴ښخش

تاهم سب سے زياده اور بهت کثير الوقوع صوتيه (ښ) ہے۔ جو پخشتو اور پخشتون يعنی اس قوم کے نام اور اس کی زبان کے نام ميں موجود ہے۔ اس کے علاوه پخشتونوں کی ضابطه حيات يا ان کا دستور پخشتونوالی ميں يه صوتيه موجود ہے، اور يه لوگ جهاں رهتے هيں، اس منطقے کو بهی يه لوگ پخشتونخواه کے نام سے پکارنا پسند کرتے هيں۔ چنانچه پخشتو ميں ښ بدرجه اتم زياده اور کثير الوقوع ہے۔ يه کوئی بات نهيں۔ مگر مسله اس وقت بن جاتا ہے جب اردو يا فارسی وغيره ميں ښ والے الفاظ اسماء يا افعال يا ديگر الفاظ (morphemes) پلے پڑه جائيں۔ مثلاََ سر اولف کارو کی The Pathans کے اردو ترجمے سے چند جملے جو اس امر کی طرف اشاره کرتے هيں، اس کتاب اور کتاب کے اس ترجمه ميں پشتو اور پختو دونوں کو مکرر طور پر لکها گيا ہے، ملاحظه هوں چند جملے:

  1. گريرسن پختو يا پشتو کے متعلق اپنے مضمون، هندوستان کا لسانی جائزه، ميں ڈارميسٹيٹر کا حواله ديتے هوئے لکهتے هيں (ص: ۱۰۴)
  2. گريرسن کے بيان کے مطابق پختو اور پشتو کی يهی اصل ہے (ص: ۱۰۴)
  3. پشتو ۔۔۔ اور ۔۔۔ پختو ميں آکر ۔۔۔ (ص: ۱۰۵)
  4. ۔۔۔ پشتو چشتن، پختو سختن ۔۔۔ جو پشتو يا پختو زبان کی خصوصيت ہے (ص: ۱۰۵)
  5. ۔۔۔ اور کتبوں ميں موازنه کا يه مواد مل جانے سے پختو زبان کا کم از کم ۔۔۔ (ص: ۱۰۶)
  6. جهاں پختو اور پشتو ۔۔۔ به الفاظ ديگر پختو اور پشتو ايک درميانی ۔۔۔ (ص: ۱۰۷)

اس کے علاوه پاکستان کے تقريباََ تمام رسائل و مجلات اور اخبارات به امر مجبوری پختو اور پشتو يا پشتو اور پختو دونوں لکهتے هيں۔ جس کے اس کے سوا اور کوئی وجه نهيں که اس زبان کا اپنا نام، جو که پخشتو ہے، زير استعمال نهيں، بلکه زياده تر اسے لہجوں کے ناموں سے ياد کيا اور لکها جاتا ہے۔ دی پٹهان سے لئے گئے جملوں کی طرح روزنامه آج پشاور مورخه ۵ اپريل ۲۰۰۸ سے بهی چند مثاليں لی جاتی هيں:

دريائے آمو سے ليکر مارگله تک کے ۔۔ خطے ۔۔ پرانی تاريخ چهوڑ کر ماضی قريب کی بات کريں تو اس خطے کے باشندے افغان يا پختون کهلاتے هيں۔ ۔۔ يه قوم افغانستان اور پاکستان ميں تقسيم ہے۔ افغانستان ميں يه آبادی کے ۷۰ فيصد هيں۔ پشتو وهاں کی سرکاری اور قومی زبان ہے۔۔۔ صوبه بلوچستان ميں بهی پختون اکثريت ميں هيں۔ پهاڑی علاقوں ميں پختون قبائل آباد هيں ۔۔۔ پختونوں ۔۔ پختونوں۔۔۔ پختونوں۔۔۔ (ص: ۵،۸)

رسائل و اخبارات کے ساته ساته اردو زبان ميں متعلقه موضوعات پر لکهی گئی کتب ميں يه چيزيں ملتی هيں جو ضروری نهيں که ہر مصنف کا لہجے سے تعلق کو ظاهر کرتی هوں، بلکه يه اس سلسلے ميں اس کی انفرادی پريشانی بهی هو سکتی ہے۔ مگر بعض مصنفين و مؤلفين کے بارے ميں يه تاثر غلط بهی نهيں۔ مثلاََ پروفيسر پريشان خٹک کی کتاب پشتون کون؟ اور راقم محقق کی کتاب پختو فولکلور ۔۔ يه دونوں کتابيں پخشتو اکيڈمی نے چهاپی هيں۔ البته بهادر شاه ظفر کاکاخيل کی کتاب (کا اردو ترجمه) پشتون تاريخ کے آئينے ميں، وغيره کی کتب ميں يه چيزيں ان کی پريشانی (confusion) کی واضح عکاسی کرتی هيں۔ اس پريشانی ميں همارے ساته ساته مستشرقين بهی مبتلا رهے هيں۔ چنانچه راورٹی جيسا آدمی مجبور تها که پختو قواعد پر اپنی لکهی هوئی کتاب کا نام هی ايسا رکهے که مذکوره پريشانی يا مشکل هی اس کی کتاب کا عنوان بنے جو که "A grammar of the Pukhto، Pushto or language of the Afghans" ہے۔يهی مثال Bellew کی پخشتو لغت کے نام کا بهی ہے، اور A dictionary of the Pukkhto or Pukshto Language چنانچه پختو اور پشتو ايک ساته يا کبهی پختو لکهنا اور کبهی پشتو لکهنا لکهنے والوں کی پريشانی اور درپيش مشکل کا نتيجه رها ہے۔ جس کی تشخيص اور سائنسی طريقے سے اس کا حل، بالخصوص اس کمپيوٹری دور کا بهی تقاضه ہے۔

يه مسله اگرچه مذکوره بالا تين ديگر دو مخرجی حروف کے سلسلے ميں بهی پايا جاتا ہے، اور حل طلب بهی ہے، تاهم ښ اور پهر اس پر مشتمل چار الفاظ، ايک زبان کے نام کی صورت ميں، دوسرا اس قوم يا قبيلے کے نام کی صورت ميں، تيسرا اس قوم کے وطن کے نام کی صورت ميں، اور چوتها اس قوم کے ضابطه حيات و دستور کے نام کی صورت ميں، اس زبان، اس قوم، اس منطقے، اور اس ضابطه حيات سے وابسته مطالعات و تحريرات ميں بهت کثير الوقوع هيں۔ چنانچه اس سلسلے ميں اس شرح سے پريشانيوں اور مشکلات بهی زياده رهی هيں۔ يهی وجه ہے ه هم نے اپنے موجوده کام کا دائره انهی چار الفاظ تک محدود رکها هوا ہے۔ البته جو قاعدے و کليے يهاں استعمال کئے گئے هيں، وهی ديگر دو مخرجی صوتيوں پر مبنی مطالعے ميں استعمال هوں گے۔

مسلے کا حل اور طريقه کار

پختو + پشتو = پخشتو ايک الجبري جمله ہے۔ چونکه ابجدی ترتيب سے خ، ش سے پهلے آتا ہے لہذا مساوات کی دوسری جانب بهی خ، ش سے پهلے رکها گيا ہے۔ يه بات پخشتو کے ہر دو لہجوں کے بعض الفاظ ميں اسی طرح هوتا ہے (ديکهيں جدول ۲)۔

جدول ۲
ايک لہجے ميں لفظمعنیيهی لفظ دوسرے لہجے ميں
خښدفنښخ
خښينې/اخښےسالی/سالاښخينې/اښخے

حسابی الجبری طريقے سے ثابت هوا که پختو اور پشتو پخشتو کے برابر ہے۔ اب صوتيات (phonetics) کے ذريعے ثابت کرتے هيں که ښ=خ+ش۔ ښ  پخشتو زبان کا ايک صوتيه (phoneme) ہے۔ جو که اس زبان کے ايک بڑے، پشاوری لہجے ميں اس کو خ سے متلفظ کيا جاتا ہے۔ جبکه دوسرے بڑے، قندهاری لہجے ميں اس کو ش سے متلفظ کيا جاتا ہے۔ اس لئيے که ښ بهی پخشتو کے چار دومخرجی اصوات (phonemes) ميں سے ايک ہے (PUTAJ.1996۔49۔50)۔

ښ کو پخشتو کے دو بڑے لہجوں ميں نه صرف مختلف اصوات سے متلفظ کيا جاتا ہےبلکه اردو ميں لکها جاتا بهی اسی طرح مختلف ہے۔ اور الذکر لہجے کے افراد (پښتو) کی بجائے پختو اور پختون جبکه آخرالذکر لہجے والے اسے پشتو اور پشتون لکهتے اور چهاپتے هيں۔ يه عمل الجبرے کی زبان ميں ښ=خ اور دوسرے لہجے کے مطابق ښ=ش بنتا ہے۔ ليکن الجبری قوانين کے مطابق يه منطق درست نهيں۔

جس طرح ش ښ کے برابر نهيں ہے (نوې څيړنه، ۱۰۰۰)، اسی طرح خ بهی ښ کے برابر نهيں ہے۔ چنانچه الفاظ پختو اور پشتو صوتی لحاظ سے (phonetically) دو مختلف لہجوں کی نمائندگی و نشاندهی کرتے هيں۔ جبکه پخشتو پوری زبان کی نمائندگی کرتا ہے۔ يه بات بهی ظاهر اور واضح ہے که خ يا ش ميں سے ہر ايک انفرادی حيثيت ميں نه ښ کے مماثل و بدل (corresponding) ہے اور نه هم هم اصل و متجانس (congnate)۔ لہذا حرف ساکت کے اصول کے مطابق، جيسا که ديگر زبانوں کے علاوه پخشتو کے دوسرے کئی الفاظ ميں بهی ملتے هيں، سخت (پشاوری) لہجے والے اردو، فارسی وغيره ميں پخشتو لکهيں گے، مگر انهيں بولنے کی حد تک پختو کهنے کی يا پڑه لينے کی اجازت هوگی۔ اسی طرح نرم (قندهاری) لہجے والے پشتو کهنے اور بولنے کے مجاز هوں گے۔ مطلب يه که پشاوری لہجے ميں ش ساکت هوگا اور قندهاری لہجے ميں خ حرف ساکت هوگا۔پخشتو زبان ميں اس قسم کے بهت سے الفاظ موجود هيں جن ميں اس قاعده اصول پر هزارها سال سے عمل هو رها ہے (ديکهئےجدول ۳)

جدول ۳
لفظمعنیپشاوری لہجے ميںقندهاری لہجے ميں
اخښلگوندهنااخلاخښل/اښل
بخښلبخشنابخلبخښل/بښل
نخښهنشانی يا نقشهنخهنخښه/نښه
(پشاور يونيورسٹی جرنل ۱۹۹۶۔۱۹۹۷، ۸۶)

ايسے الفاظ مندرجه بالا کے مقابل ميں بهت زياده هيں جن ميں که ښ پشاوری لہجے ميں ساکت جبکه قندهاری ميں گويا ہے، مثلاَ، ديکهئيے جدول ۴:

جدول ۴
لفظمعنیپشاوری لہجے ميںقندهاری لہجے ميں
کښيناستلبيٹهناکيناستلکشيناستل
کښېکے، اندر، انگريزی inکېکشې

پخشتو وغيره ميں پهلے حرف پ کے ہرکت (زبرَ، زيرِ، پيشُ، وغيره) کے سلسلے ميں بهی بات ضروری ہے۔ يه ٹهيک ہے که اردو اور ديگر مشرقی زبانوں کی تحرير ميں پخشتو، پخشتون، اور پخشتونوالی اور پخشتونخواه کوئی بهی لفظ نامکمل نهيں لگتا، مگر جو لوگ ان الفاظ سے سننے اور لکهنے و پڑهنے کی حد تک نابلد هيں، ان سے اسے اسی طرح صحيح پڑهنے کا هم، باوجود بولنے، پڑهنے کے امکان کے، توقع رکهنے کا حق نهيں رکهتے۔

اعراب يا حرکات کے بغير لکهی پڑهی جانی والی تحريری زبانيں ايک قدرتی خوبی کی حامل هيں۔ يه ان کی اپنی خصوصيت peculiarity ہے جو که انگريزی وغيره کے هاں نهيں مگر يه اصول ہے که دو مصمتوں کو ملانے کے لئيے کسی مصوتے کی موجودگی ضروری هوتی ہے۔ چنانچه يه اصول عام ہے، اور کسی ايک خاص زبان يا کسی علاقے کی زبانوں کے لئيے نهيں۔ چنانچه پخشتو وغيره ميں پ کے اوپر ايک حرکت وجود رکهتا ہے، مگر يه اس وقت ظاهر هوتا ہے جب اسے بولا جائے (PUTAJ، ۱۹۹۶، ۵۷۔۵۹)۔ اعراب کو بعض لوگوں نے علامات بهی کها ہے۔ کام تو يه واولز يا مصوتوں کا کرتے هيں مگر مصمتوں کی حيثيت سے صرف مصوتے هی کام کرتے هيں نه که اعراب۔ مگر پهر بهی Prof. Firth نے کها ہے که عربی تحرير ابجدی نهيں۔ اس بات کو Mr. Mitchell نے واضح کيا ہے اور کها ہے که عربی مصوتے حروف نهيں بلکه علامات (حرکات) هيں اور نظام تحرير اس کا syllabic يعنی بولوں واله ہے (Abercrombie، ۱۹۶۵، ۱۳۲۔۳۳)

حالانکه ايسا نهيں۔ بلکه يه حرکات ضمنی مصوتے هوتے هيں اور اصلی مصوتوں، ا، و، ی، ے اور ان کے اشکال متغيره (variants) هيں، جو که عام حالات ميں انهی بنيادی مصوتوں کا بهی کام ديتے هيں اور خاص حالات ميں اپنے بنيادی مصوتے کے سات آکر ڈبل کا کام ديتے هيں۔ جو کام IPA وغيره کے هاں کسی مصوتے کے اوپر زبر زير ڈال کر ليا جاتا ہے، وه کام عربی اور اس سے اخذ کئے گئے تمام ابجدی نظاموں ميں حرکات (diacritics) يا case marks سے ليا جاتا ہے (PUTAJ، Opcite:49)۔ عام انگريزی ميں، عام طور پر، اس کام کے لئيے ايک مصوته ڈبل (diphthong) استعمال کيا جاتا ہے۔ يا دو مختلف مصوتے استعمال کئے جاتے هيں۔ مثلاَ ee، oo، ea، eo وغيره۔ چهوٹی لکير، يعنی ڈيش _ اور نقطه يعنی ڈاٹ وغيره کو IPA کی طرح کئی ايک افراد اور اداروں نے اختيار کيا ہے۔ تاهم مورزونيت کے لحاظ سے سب ايک طرح نهيں۔ اس سلسلے ميں راقم و محقق نے کچھ ايسے نظاموں کی مثاليں اکهٹی کي هيں (Puxto، ۲۰۰۶، ۴۹۔۹۲)

نتيجه او تجويز

کسی بهی زبان ميں کلام (speech) اور بولی کا کوئی بهی حصه تحريری صورت ميں (املائی لحاظ سے) مکمل هونا ضروری هوتا ہے۔ چنانچه پختو اور پشتو چونکه دو لہجوں کے نمائنده الفاظ هيں، اور اپنی حد تک ادهورے هيں، بلکه اصولی اور سائنسی طور پر غلط هيں کيونکه خ اور ښ، اور ش اور ښ برابر نهيں۔

لہذا زبان کو ايک يا دونوں لہجوں کا مجموعه ماننے اور سائنسی اصول کو ملحوظ رکهنے کا تقاضا يه ہے که پختو/پختون/پختونخوا/پختونولی اور پشتو/پشتون/پشتونخوا/پشتونولی کے بجائے پخشتو/پخشتون/پخشتونخوا/پخشتونولی لکها جائے۔ جبکه انگريزی ميں ښ کے لئيے kh يا sh لکهنے کے بجائے x لکها جائے کيونکه ښ=x کو معيار مقرر کيا گيا ہے۔

حرف پ کے اوپر حرکت کا جهاں تک تعلق ہے، تو يه پيش (ُ) ہے، تاهم کچھ پخشتون اس کا، چونکه (زبرَ) بهی بولتے هيں، لہذا (زبرَ) بهی ٹهيک ہے۔ هم نه جو پ کے اوپر کوئی حرکت نهيں ڈالی، يه اسی لئيے که ہر کوئی اسے اپنے لہجے کے مطابق پڑه سکے۔ چنانچه پ پر کسی حرکت ڈالنے کی ضرورت نهيں۔ البته انگريزی حروف ميں اسے لکهتے وقت پ کے لئے p کے سامنے کوئی واول vowel لکهے بغير چاره هی نهيں، که لفظ نهيں بنتا۔ چنانچه بهتر تو يه ہے که u ڈالا جائے که اس کا دائره وسيع هونے کی بناء پر يه زبان کی نمائندگی کرتا ہے۔ جبکه a ايک لہجے کی نمائندگی کرتا ہے۔ u سے بهی ايک حد تک (زبرَ) کا کام ليا جاتا رها ہے (A dictionary of spoken Pukhto، 2004)

English Pushto Dictionary, 1970 خټک لہجے والے پ کا (زبرَ) بولتے هيں۔ اور ان کے پخشتو زبان و ادب کے ماهر بهی زبر کے لئيے u استعمال کر رهے هيں۔ The intangible heritage, Walled city of Peshawar, 2005 به ايں همه ميری تجويز يه ہے که بلا ضرورت نه پيشُ ڈالا جائے، اور نه هی زبرَ۔


[1] جهاں x ظاهر کرتا ہے ښ کو۔ مطلب ښ = x۔ ښ = خش (اردو اور فارسی کے) بعض لوگوں نے خ کے لئيے x لکها اور استعمال کيا ہے۔ ايسے تمام نظام غير مربوط اور غير سائنسی هيں۔

[2] ابدال کو انگريزی ميں transliteration کهتے هيں۔ جبکه عمل نقل تحرير کو transcription کها جاتا ہے۔ اول الذکر ميں کسی زبان کے اصوات (phonemes) کے لئيے دوسری زبان کے اصوات ميں هم مخرج معلوم کرکے استعمال کرنے کو عملِ ابدال کهتے هيں۔ جبکه عملِ نقل تحرير ميں ايک زبان کے عام تلفظ کو اسی کے حروف ميں نقل کرکے لکهتے هيں۔

کتاب نامه (bibliography)

  1. آج، روزنامه (پشاور ۵ اپريل ۲۰۰۸) جميل مرغز، سنگ زنی، ايڈيٹر اينڈ پبلشر عبدالواحد يوسفی جۍ ٹی روڈ پشاور، پاکستان
  2. اسلام، روزنامه (پشاور ۲۲ اگست ۲۰۰۶)، اے پی پی، برٹش کنفڈريشن آف انڈسٹری، برطانيه، چيف ايڈيٹر، پبلشر مفتی محمد زرين خان، همدرد سٹريٹ، A4-85, 18 صدر روڈ، پشاور صدر۔
  3. پٹهان، سر اولف کارو، اردو ترجمه (۲۰۰۰ تيسری اشاعت)، سيد محبوب علی، پخشتو اکيڈمی يونيوریٹی آف پشاور، پاکستان
  4. پختو فولکلور (۲۰۰۸ء)، ڈاکٹر هديات الله نعيم، پخشتو اکيڈمی، يونيورسٹی آف پشاور
  5. پشاور يونيوریٹی جرنل (۱۹۹۶۔۱۹۹۷)، د پښتو ليک ژبې، او املائي مشکلات، ډاکټر هديات الله تعيم، فيکلٹی آف اورئينٹل لينگويجز، پشاور يونيورسٹی، پشاور
  6. پشتون تاريخ کے آئينے ميں، بهادر شاه ظفر کاکا خيل (اردو ترجمه)، سيد انوارالحق جيلانی، يونيورسٹی بک ايجنسی، پشاور
  7. پشتون کون؟ (۲۰۰۵، اشاعت دوم) پروفيسر پريشان خٹک، پخشتو اکيڈمی، يونيورسٹی آف پشاور
  8. پښتانه (۲۰۰۳، دوئم چاپ)، دوکتور حبيب الله تږے، دانش خپرندويه ټولنه، پېښور، پاکستان
  9. پښتو (اپريل، جون ۲۰۰۶)، ډاکټر هدايت الله نعيم، د پښتو ژبې اهميت، ضرورت، او مستقبل، (دوئم قسط)، پښتو اکېډمئي، پېښور يونيورسټې، پېښور
  10. نوې پښتو قاعده، ۲۰۰۶ (ناچاپ)، ډاکټر هدايت الله نعيم، پښتو اکېډمئي، پېښور
  11. نوې څيړنه، صديق الله رښتين، يونيورسټئي بوک اېجنسي، پېښور، پاکستان
  12. A dictionary of the Pukkhto or Pukhshto language (2001), Henry Walter Bellew, Saeed book and subscription agency, Peshawar Cantt, Pakistan
  13. A dictionary of spoken Pukhto, Robert Sampson, Interlit foundation, Peshawar
  14. A grammar of the Pukhto, Pashto, or Language of the Afghans (1981), Captain H.G. Raverty, د چاپ ځائې، Peshawar, Pakistan
  15. General linguistics (1973), Jean Aitchison, S.T.Paul's House, Warwick Lane, London EC4P 4AH.
  16. IPA (1888) Chart & Pronunciation respelling for English, Online: en.wikipedia.org/wiki/IPA-Chart (16-4-2008)
  17. PUTAJ (1996, V:3), Dr. Hidayatullah Naeem, د پښتو د يوې ميعاری املا په هڅه، د مسلے تشخيص او حل، Peshawar university teacher's association research journal, Pakistan.
  18. Studies in Phonetics and Linguistics (1965), David Abercrombie, Oxford University Press, London
``xEFylAZyZpFztAabGDG``x1368976703``xliterature``xUrdu``xاس مقالے ميں زبان پښتو (Puxto) [1] کی اردو حروف ميں تحرير "پختو" اور "پشتو" کا جائزه ليا گيا هے۔ چونکه پختو ميں حرف خ او پشتو ميں حرف ش اس زبان کے الگ الگ دو بڑهے لہجوں (سخت يا پشاوری لہجے اور نرم يا قندهاری لہجے) کی نمائندگی کرتے``x``x``xڈاکٹر هدايت الله نعيم``xپخشتو اکيڈمی پشاور يونيورسٹی``xپختو + پشتو = پخشتو``x``x``x``x``x``x1``x``xpashto, language, dialects``x``x1``x``x Learning from History``xadmin``x

CCTV footage of a recent suicide attack targeting a convoy of the Frontier Constabulary's commandant in Peshawar shows a man clad in white shalwar kameez waiting on the footpath. As the convoy slows down near a check post, he casually steps on the road and blows himself up - killing over a dozen and maiming many others. Fortunately for the FC commandant, he remained safe. Nobody could have guessed the ordinary looking man was a suicide bomber. This incident once again exposed the challenges in countering suicide missions.

A similar attack took the life of Safwat Ghayur, one of Pakistan's best cops and the commandant of the FC at the time. Law-enforcement agencies, government officials and the ordinary public - all have borne the brunt of such attacks leaving thousands dead or crippled in the last decade. And the numbers are increasing, with no end in sight. What is fuelling this senseless mayhem? While everybody can disagree over the extent of it, most do admit that the American presence in neighbouring Afghanistan is fuelling the foreign jihad narrative. In their construct, Pakistan is an American ally and this they then use to justify their attacks on our country. With regard to the ongoing war in Afghanistan, some American generals have started echoing the words of their predecessors, the Russians, who declared their presence in Afghanistan an unwinnable war.

To face the future one needs to delve into history first - and learn from it.

On February 8 1872, the British Viceroy of India, Lord Mayo, was murdered by a convict serving a sentence at 'Kala Paani'. The event sent shock waves throughout British India. Even more shocking was the discovery when it was revealed that the assassin, named Shere Ali, was an Afridi tribesman from Tirah valley. The authorities went to great lengths to hide the perpetrator's Pakhtun ethnicity so as not to give an opportunity to their enemies to glorify the murderer of British India's supreme official.


Sher Ali Afridi Serving Prison Sentence
IMG: The Andaman Association, Switzerland

Shere Ali was an Afridi soldier in the service of the British mounted police. 'Badal' (revenge) is one of the core values of the Pathan code of Pakhtunwali. Although, there is a notion of 'bakhana' (forgiveness), a Pakhtun seldom forgives his enemy. It so happened that Shere Ali got involved in a personal blood feud in his village. Resultantly, the government sentenced him, which in his view was unjustified and he vowed vengeance against the 'white man' he reckoned had wronged him.

An obituary in a 1872 issue of Sunday Magazine, while referring to Shere Ali's roots in the tribal territory, stated: "It is from this little corner of our many hundreds of miles of British Indian frontier that all the assassins of British officers have of late years come."

Indeed for much of their presence in India, thousands of British were killed in everyday skirmishes, murders and raids mostly originating in the same border areas. Sometimes such everyday losses did not even rate a mention in the newspapers. On the contrary, high-profile assassinations received wider press. One such murder was that of Frederick Mackeson, commissioner of Peshawar. A tall memorial built at Company Bagh Peshawar in his memory, which no longer exists, bore the following inscription, "Here lies the body of Frederick Mackeson...who died Sep 14, 1853 of a wound inflicted by a religious fanatic."

Remains of the British lie buried in surviving cemeteries in the tribal territory and Khyber Pakhtunkhwa. By studying headstone inscriptions or memorial plaques it is possible to grasp the entire history of the border area without the need to labour through heavy history books. Here, carved on stone memorials, are names of fallen soldiers, civil and military administrators and those killed in action or at the hands of 'ghazis' and 'fanatics'.

A plaque on the old memorial gate at Kohat Pass states: "This gate was erected to the memory of Eric Charles Handyside, Commandant, North West Frontier Constabulary, who was killed in action on 11 April 1926."


Plaque on old memorial gate at Kohat Pass, Photographed Muhammad Tayyab

Peshawar's St John's Church has a tablet inscribed in memory of "Thomas Arbuthnot Ekins, Assistant Superintendent of Police, Peshawar, who was killed on Feb 7 1926 by an armed criminal". Robert Roy Adams, an administrator was killed when he was returning from Peshawar city. His plaque in St Luke's Church in Abbottabad states, "Deputy Commissioner...struck down by the hand of an assassin on Jan 22 1865 aged 43".

Two bank colleagues from the Imperial Bank of India, James Lowe Hutcheson (agent) and James Nicol Dunsmorn (inspector) were "assassinated in the Khyber Pass on 20 April 1930" Their graves are in Peshawar.


Mollie Ellis (seated), photographed on 22 April 1923, one day before her release.
IMG: M.E. Lambert, "Kidnapping of Mollie Ellis by Afridi Tribesmen", Online: michaelelambert.com

Sometimes women also became victims. In the famous kidnapping case of Mollie Elis by Ajab Khan, Mollie's mother was killed in the raid on Kohat Cantonment. The inscription on her grave reads: "Dearly beloved wife of Maj AJ Ellis foully murdered at Kohat on April 14, 1923, aged 46 years." On his part, Ajab Khan justified his raid on Major Ellis's home as reprisal against an earlier raid by authorities on his own home, which was taken as an unforgivable insult and a violation of the privacy and honour of the women in his family.

One grave in Peshawar cemetery is that of "Captain Cecil John Russel Fulford - Died May 4 1882. Aged 37 years of wounds inflicted by an Afghan assassin on April 20 1882." Worthington Jukes, a missionary mentioning the incident in his memoir writes: "We were driving in the cantonments near the law courts on our way home, when I heard a shot, and very soon afterwards we overtook four natives carrying in a blanket Captain Fulford, who had just been shot by an Afghan fanatic owing to ignorant mullahs telling their fellows that to murder an Englishman was a sure way of getting into paradise...Assassin had immediately been shot dead in the lines of Native Regiment, and to act as a deterrent of such brutal and cowardly assassinations, his body was burnt in pigskin, by order of the civil authorities. The punishment was one which was most abhorrent to the Muhammadans, and according to their ideas, effectually prevented his getting to Paradise". (Reminiscences of missionary work 1873-1890)

In the half century that the British administered the tribal areas, five political agents were killed in South Waziristan alone. One was shot out of vengeance by a Mehsud in May 1948 in his winter residence in Tank just when he was preparing to leave for England.

Such acts testify, as the examples cited above show, how the might of the British Empire was challenged relentlessly throughout its rule. British rule lasted from 1849 to 1947 in the frontier regions. Britain was a global power but its efforts to dominate this volatile region took a toll on it. The aforementioned incidents also demonstrate the mindset of the assassin. He knew exactly what he was getting himself into and in a way it was a suicide mission knowing there was going to be no return and there were going to be fatal consequences. The assassins were either immediately put to the sword, or shot in the premises of camps or cantonments or executed after a trial. There is no countering that mindset to this day.

On their part, the British tried to quench rebellions with utmost ruthlessness to instil fear in their enemies. In the War of Independence 1857 forty mutineers were executed - and blown up from canons - at Peshawar. This was the largest mass execution anywhere in India. The British launched close to a thousand expeditions against tribes in the frontier in which countless natives died.

While the Royal Air Force (RAF) conducted aerial bombing of villages - albeit with advance warning via leaflets - the armies on the ground destroyed enemy homes and crops. Tactics like burning Muslims in pigskin were also employed. But for much of their presence in this part of British India the foreign occupiers got a bloody nose. When they finally departed, they had lost some of the finest military and civil officers - a long list of names.

During the time the British ruled here - a little under a century - they tried to understand the people by learning their language and ways. Through a political agent system which was relatively non-corrupt, in contrast to what we have at present, they employed a carrot and stick approach. Yet the whole tribal area remained volatile right till the end of their rule.

With the partition of British India, the sun had finally set on the British Empire. Pakistan's founder, Muhammad Ali Jinnah was not a Pakhtun. But his astuteness in calling for withdrawal of regular troops from the tribal territory (codenamed: Operation Curzon) ushered in peace in an area that had become a battlefield. The same tribes that were up in arms against the British not too long ago formed tribal lashkars and wrestled back territories of Muslim-majority Kashmir from India in the war of 1948. The once forbidden tribal areas began to be visited by tourists from around the world.

The years between the 1950s and the 1970s saw droves of foreign tourists of all nationalities travel through Khyber Pass in caravans to and from Afghanistan. The tourist traffic continued on the Pakistani side of the border even after the Soviet occupation of Afghanistan and no untoward incidents against westerners took place. In keeping with the tradition of the land, locals greeted all outsiders as guests and welcomed everybody with unsurpassed hospitality.

This peace in the tribal areas was disturbed after the events of 9/11. The entire tribal belt was aflame as part of a chain reaction when in 2004 General Pervez Musharraf, a non-Pakhtun who had never served in the tribal areas in his entire military career, ordered his army into tribal territory. The military has since been unable to extricate itself from this quagmire.

To withdraw the forces now, without any future planning, would not be without consequences. The challenges in the tribal areas have mounted over time. The Taliban, although predominantly Pashto speakers, have evolved into a heterogeneous group comprising many foreign races and ethnicities including Arab, Chechen, Uzbek, Punjabi and so on.

The indoctrination of minds, which has been done over decades, has turned the sterner tenets of Pakhtunwali and increased religious Wahhabism into a dangerously lethal combination. There is no central authority and there are many splinter groups working independently on their own agenda. They have experienced the rigours of guerrilla warfare for decades and they excel at lethal ingenuity. The traditional tribal structure of elders has been systematically weakened, and the resultant vacuum has been filled by religious authority and militancy. Since the Afghan war, foreign-funded madressahs have mushroomed everywhere. Continued military operations, US drone strikes and the foreign jihad narrative are major inciting factors. These interplaying internal and external factors have turned the region into a hotbed of terrorism.

If the status quo continues, the future scene will be horrific. The key is to look for a solution staying within the tribal framework. Clearly militancy is on the rise. The government has to decide either to continue doing what it has been doing, or employ other strategies. Foremost on the list should be to reverse the foreign jihad narrative. The US has to understand that its presence in Afghanistan is not helping in the restoration of peace and stability in the whole region. In the post-2014 US withdrawal setting, the internal factors may still be surmountable as they do not seem as massive in proportion when compared to the external factors inciting militancy.

It is now imperative that the military should disengage itself in a dignified manner. Military might has to give way to a policy of dialogue and clemency. Despite all the challenges, we need to slowly and surely remove the backwardness of the militants in a way that is stern, yet just within their traditional framework to isolate the extremists, and bring peace back to the land. This can be achieved by introducing a more integrated approach on rehabilitation and development, removing their ignorance through social, political and economic reforms, particularly in education and health sectors. This will entail empowering the women and creating opportunities for tribal youth.

Compensating innocent affectees of drone strikes and military operations may help lessen their anguish. Extending electronic media (cable TV and FM radio) and the Internet to these areas will open a window to an outside world that contrasts sharply with their own. The government needs to actively patronise those community-based organisations that are promoting sports, setting up recreational facilities and working for revival of indigenous cultural activities and the hujra.

With elections just round the corner, who can best address Pakistan's future security threats is a major election question. The public has to decide whether to vote for those who have been tried and tested multiple times or those who promise change. Parties that seek non-military solutions through dialogue should be preferred. Distancing ourselves from the American war and finding a workable solution with all the regional neighbours under the UN is the way forward. This will ensure that no extremist group is allowed to use Pakistan's soil for terrorism nor will the country fight others' wars or act as a surrogate for any power in the future. Election 2013 offers an opportunity for voters to unite against extremism and cast their vote sensibly.

We would have made more friends, instead of enemies, in the tribal areas today had our previous governments cared to invest in the social sector instead of choosing the path of war. The real fight is to win the hearts and minds of the people there. Failure is not an option because if one studies the present trends, the future of terrorism spells doom. If current technology (suicide jackets and bombs) can cause so much havoc, fast forward a few years and imagine the devastation of the future. If we do not learn from history, and do not change our course now, the future will be even more horrific.


The writer is a conservationist based in Peshawar and a member of the Pakistan Tehreek-e-Insaf. The article was first published in a two part series in The News on 8th of May, 2013.

``xEFylVAlpEpznyKABoG``x1368598010``xarticles_2013``xEnglish``xCCTV footage of a recent suicide attack targeting a convoy of the Frontier Constabulary's commandant in Peshawar shows a man clad in white shalwar kameez waiting on the footpath. As the convoy slows down near a check post, he casually steps on the road and blows himself up``x``x``xAli Jan``x``x``x``x``x``x``x``x1``x``xafridi, ajab khan, british, pakhtunwali, history``x``x``x``x Pashto Classes in Berlin``xadmin``x

د جرمني په مرکز برلین ښار کې د نورو ګڼو ښوونیزو مرکزونو ترڅنګ دری لوی پوهنتونونه: د برلين تخنيکي پوهنتون، د برلين آزاد پوهنتون او د برلين آمبولټ پوهنتون فعالیت کوي. د برلین تخنیکي پوهنتون ډېری تخنیکي څانګې لري او د نړۍ له بېلابېلو هېوادونو محصلين په کې زده کړه کوي. زموږ ۲۴ کسیز ټیم چې د افغانستان له بېلابېلو اتو پوهنتونونو څخه راغلي یو، هم په همدې پوهنتون کې د کمپیوټر ساینس په څانګه کې د ماسټري پروګرام تر سره کوو. د برلین آزاد پوهنتون هم يوه لويه تحصيلي مرجعه ده او ډېرې څانګې لري چې هلته هم د نړۍ له ګوټ ګوټ څخه محصلين شته دي. د ټولنیزو زده کړو په برخه کې د برلین آمبولټ پوهنتون هم فعالیت کوي. په دې پوهنتون کې د شرق پېژندنې انستیتیوت کې د نورو ژبو تر څنګ زموږ د پښتو ژبې يو ډېر پياوړی کورس هم فعال دی، چې  د افغانستان له ژبو څخه د دري او بلوڅي ژبو کورسونه هم لري.

د دې پوهنتون د پښتو ژبې په څانګه کې د ښاغلي پوهاند مجاور احمد زیار صاحب په شمول د پښتو ژبې نورو ډېرو څانګپوهانو تدریس هم کړی دی. اوسمهال د پښتو، دري او بلوڅي څانګې مسؤل یو آلمانی چې ډاکټر لوتس ضحاک نومېږي، دی. تر دې مهال په دې پوهنتون کې د نړۍ له ګوټ ګوټ څخه لسګونو کسانو پښتو ژبه زده کړې ده.

په ۲۰۱۱ کال کې چې کله زموږ پيژندګلوي د دې پوهنتون د پښتو ژبې له زده کوونکو او د څانګې له مشر سره وشوه، دوی خپله لویه ستونزه د سرچینو او کتابونو نشتون په ګوته کړ. په ۲۰۱۲ کال کې په یوه ناسته کې چې په برلین کې د افغاني محصلانو له خوا جوړه شوې وه د ډاکټر لوتس ضحاک سره ژمنه وشوه چې موږ به ورته پښتو کتابونه له افغانستانه راوړو، تر څو په همدې څانګه کې د پښتو ژبې یو کتابتون جوړ شي.

له ژمنې سره سم مو په افغانستان کې له بېلابېلو ټولنو وغوښتل چې د کتابتون لپاره کتابونه راکړي. د نیکمرغه یو شمېر ټولنو زموږ غوښتنې ته لبیک ووایه او ډېر ارزښتمن کتابونه یې راکړل. زموږ ۲۴ کسیز ټیم نژدې ۲۰۰ ټوکه کتابونه په خپل منځ کې ووېشل او برلین ته یې د لېږد چاره آسانه کړه.

د افغان کلتوري ټولنو جرګې، په نیدرلند کې افغاني کلتوري ټولنې، مصور خپرندوی بنسټ، سپوږمۍ راډیو، کاروان پوهنتون، رفیع کلتوري او مدني ټولنې او د سیدانو کلتوري ټولنې خپل خپاره شوي بېلابېل کتابونه موږ ته وسپارل او موږ په پوره امانت سره نن د همدې پوهنتون د پښتو څانګې د زده کوونکو په حضور کې د څانګې مشر ډاکټر لوتس ضحاک ته وسپارل. زه په خپل وار له یادو شویو ټولنو مننه کوم چې د کتابتون په جوړېدو کې یې لومړی ګام واخیست او په موږ یې اعتماد وکړ او له خپلو ملګرو هم مننه کوم چې د کتابونو د لېږد چاره یې اسانه کړه. دغه کتابتون ته اوس شاوخوا ۳۰۰ ټوکه کتابونه ورکړل شول او تمه ده چې نور ملګري به هم ورته کتابونه راولیږي.

په نننۍ غونډه کې د پښتو څانګې نژدې ټول زده کوونکي راغلي وو او زموږ د ټیم ملګري هم ول. زده کوونکو د افغانستان، پښتو ژبې او کلتور په اړه پوښتنې وکړې او زموږ ملګرو یې ځوابونه وویل. غونډې ته د هالنډ څخه راغلي میلمه ډاکټرسیدنصیراحمد هم خبرې وکړې او زده کوونکي یې د پښتو ژبې زده کړې ته وهڅول او دا يې ورته په ګوته کړه، چې په څه ډول د (BBC) او نورو برېښنايي موادو څنګه ګټه پورته کړې او د غږيز او ليدیز توکيو څخه پوره ګټه پورته کړي او همدا ډول يآده شوه، چې د ژبې د زده کړې لپاره د سيمې له خلکو سره له نېژدې اړيکې هم خپل ګټور اغېز لري او د پښتو لېوالو ته  داسې سپارښتنه وشوه، چې د امنيت په چاپېر کې افغانستان ته سفر وکړي او د خلکو له دود او له ژبې سره په سيمه کې آشنايي تر لاسه کړي.

په برلين کې د ياد پوهنتون د پښتو څانګې مشر ډاکټر ضحاک وویل هر کله په رسنیو کې اورو چې آلمان له افغانستان سره په بېلابېلو برخو کې مرسته وکړه، خو نن د افغانستان خلکو زموږ د پوهنتون سره ډېره لویه مرسته کړې او زموږ محصلان به وتوانېږي چې له دې سرچینو څخه د خپلې ژبې د ښه کولو لپاره کار واخلي.

د همدې څانګې یو بل استاد یوسف خان چې د خیبرپښتونخواه اصلي اوسېدونکی دی، هغه  هم وویل چې موږ د کتابونو له نشت سره مخ وو او اوس ډېر شمېر کتابونه تاسې موږ ته راکړل چې زموږ په څېړنو او تدریس اغېز کوي. ده وویل چې دی به هم د کوزې پښتونخوا فرهنګیان وهڅوي چې د کتابتون په بډاینه کې هغوی هم خپله ونډه واخلي.

د پښتو ژبې زده کوونکي د بېلابېلو هېوادونو لکه روسیې، ترکیې، آلمان، بېلاروسې او نورو هېوادونو وګړي ول. په زړه پورې دا وه چې په زده کوونکو کې هغه افغانان هم ول چې پښتو ژبه یې مخکې نه وه زده او اوس یې تمه درلوده چې خپله پښتو ژبه نوره هم پياوړې کړي. زموږ دوه هزاره وروڼه چې په افغانستان کې یې ژوند کړی و خو پښتو یې مخکې نه وه زده، دلته د پښتو ژبې په زده کړې بوخت دي. یوه تاجکه خور چې اصلاً د افغانستان ده خو ټول عمر یې په آلمان کې تېر شوی دی هم د پښتو ژبې درس لولي. خو یوه بله زده کوونکې په خټه پښتنه وه، مګر عمر یې په آلمان کې تېر شوی دی چې پښتو ژبه یې له هېره وتلې وه نو هغه هم غواړي چې په پښتو مسلطه شي.

په دې توګه موږ وکولی شول د هغوی سره دوه ساعته مجلس وکړو، کتابونه ورته وسپارو اود نورو همکاریو په اړه ورسره وغږېږو. زموږ دغه کار د کتابتون د جوړېدو لپاره لومړی ګام دی، هیله ده چې نورې هغه ټولنې چې کتابونه خپروي د دغه پوهنتون پښتو څانګې ته خپل کتابونه راولېږي. هغه افغاني ټولنې چې په اروپا او په ځانګړې توګه په جرمني کې فعالیت کوي باید په منظمه توګه خپل خپاره شوي مواددې پوهنتون ته راولېږي. که کومه ټولنه غواړي چې خپل کتابونه دې پوهنتون ته راوليږي زما سره دې اړیکه ونیسي، د لېږد او نورو لارو چارو په هکله به ورته اړینې مشورې ورکړم.

په پای کې هیله لرم چې په آلمان کې د افغانستان سفارت د دې پوهنتون د افغاني ژبو د څانګو سره ځانګړې مرسته وکړي. دا به ډېره ښه وي چې په افغانستان کې د ننه او په بهرنيو ملکونو کې فرهنګي ټولنې، دولتي او غیر دولتي ښوونیزې ادارې او نورې اغیزمنې ادارې د افغانستان څخه د باندې د افغاني ژبو د بډاینې لپاره کار وکړي، تر څو د دې امکان جوړ شي چې بهرنیان زموږ ژبې زده کړي او زموږ د هېواد په اړه څېړنې وکړي. د آباد، خپلواک، سوکاله او سرلوړي افغانستان په هیله!

``xEFyZyEVkEkqhlMRRie``x1367615212``xliterature``xPashto``xد جرمني په مرکز برلین ښار کې د نورو ګڼو ښوونیزو مرکزونو ترڅنګ دری لوی پوهنتونونه: د برلين تخنيکي پوهنتون، د برلين آزاد پوهنتون او د برلين آمبولټ پوهنتون فعالیت کوي. د برلین تخنیکي پوهنتون ډېری تخنیکي څانګې لري او د نړۍ له بېلابېلو هېوادونو محصلين په کې زده کړه کوي. زموږ ۲۴ کسیز ټیم چې د افغانستان له بېلابېلو اتو پوهنتونونو څخه راغلي یو،``x``x``xسیدعبدالله ولي زی``x``xپه برلین کې د پښتو د زده کړې څانګه او کتابتون``x``x``x``x``x``x1``x``xpashto, education``x``x``x``x Shehla Pucha Shwa``xadmin``x

I saw this clip sometime back, if one knows Urdu as well as Pashto then listening to it invokes instant laughter. Believe me, I have carried out this experiment on a lot of my friends. The post laughter response to this has usually been a "tsk tsk" at the status of education in Pakistan....Read More

``xEFylyAVZuAjwwqzOSp``x1367294401``xarticles_2013``xEnglish``x
I saw this clip sometime back, if one knows Urdu as well as Pashto then listening to it invokes instant laughter. Believe me, I have carried out this experiment on a lot of my friends. The post laughter response to this has usually been a "tsk tsk" at the status of education in Pakistan.``x``x``xImran Khan``x``x``x``x``x``x``x``x1``xhttp://iopyne.wordpress.com/2013/04/20/shehla-puch-shwa/``xeducation, pashto, urdu, language``x``x``x``x In Afghan War, enter Sir Mortimer Durand``xadmin``x``xEFVEkVVklAtuvLJoWw``x1351255289``xarticles_2012``xEnglish``xWhen the British decided to define the outer limits of their Indian empire, they fudged the question. After two disastrous wars in Afghanistan, they sent the Foreign Secretary of India, Sir Mortimer Durand, to Kabul in 1893 to agree the limits of British and Afghan influence. The result was the Durand Line which Pakistan considers today as its border and Afghanistan refuses to recognise.``x``x``xMyra MacDonald``x``x``x``x``x``x``x``x1``xhttp://blogs.reuters.com/pakistan/2012/10/24/in-afghan-war-enter-sir-mortimer-durand/``xdurand, afghanistan, pakistan, pashtunistan``x``x``x``x Farid Khan - Revisiting History``xadmin``x

د شېر شاه او د بهلول خبرې اؤرم
خلک وائي چه په هند به پښتانه ؤو باچاهان

I hear the stories of Sher Shah Suri and Behlol Lodhi
People say that India used to be ruled by Pashtun Kings)

- Khushal Khan Khattak; Father of Pashtun national poetry.

What is the relevance of tales of a legendary Pashtun king dating back five hundred years? Is it not a "Pidram Sultan Bod" (Persian quote means my father was a King) syndrome? Well it may be or it may not be depending on how one consumes the lessons of history. History is not just the record of past events but the science of evolution of human civilisation. Ibn Khaldun, the Muslim pioneer of modern science of sociology and scientific study of history, termed history as the study of "laws governing the transformation of human society" back in 1377 AD. According to Sir John Seeley (The great British historian of 19th century), "History without politics has no fruit and politics without history has no roots". Hence events and personalities of history are of vital importance to understand today's events and notions and sometimes to fight today's misconceptions or suggest remedies.


Farid Khan (Sher Shah Suri Aka Sher Khan; The Lion King who ruled the present India and Pakistan from 1539 to 1545 AD.

Today the world is witnessing one of the worst cultural polarisation of its history where the majority of common people are becoming a sandwich between religious fanatics and western imperialists and their allies. The "epicentre" of this conflict is the Muslim world in general and the Af-Pak (Pakistan-Afghanistan and Central Asia) in particular with Pashtuns as the "determining factor" once again in history despite being the worst victims of the Great Games being played on their lands for centuries. Today when Muslims who brought modern sciences, enlightenment and Rule of Law to the World and Pashtuns who introduced the concepts of multicultural/multi-faith welfare states in the age of intolerant imperialistic autocracies are being branded as radical extremists or "Talibanised terrorists", historical personalities like Sher Shah become relevant to fight misconceptions, stereotypes and cliches- a man who didn't just happen to have a "Pathan background" but a leader of Pashtuns who was proud both in values of his faith as a Muslim and Afghan cultural heritage and who transformed these traits and values in the polity and administrative excellence of his statecraft. History describes him essentially an Afghan Muslim emperor of India as historically the term Afghan was used exclusively for Pashtuns (the biggest monolithic cultural group of Afghanistan and Pakistan) before the emergence of today's Afghanistan and subsequent adaptation of term Afghan as a civic identity for all the nationals of the country. He was probably the greatest Muslim ruler after Umar bin Khitab (the second Caliph) in terms of excellence of ruler ship and of introducing new institutions that influenced the civilisations outside Muslim World even more than they influenced the Muslim history. His unique greatness lies in the fact that he rose from the position of an ordinary man to become the most successful ruler in the world of his time and not only conquered the subcontinent in a very short span of just five years (1539-1545) but consolidated his empire with the world first professional and regulated civil service together with a professionally organised army based on merit and excellent administration of justice, rule of law and equal opportunities that won him the admiration of even his worst rivals. His miraculous achievements couldn't be replicated even by dynasties in decades let alone individuals and that makes him a true legend.

Few people know that fictional English characters like Kipling's Shere Khan of the Indian Jungle (later adapted in Disney's animated Jungle Book) were named after Sher Shah Suri. His original name was Farid Khan but he earned the title of Sher Khan when he killed a fully grown tiger during his service with the rulers of Bihar. He was born to an Pashtun feudal of Hisar (Haryana East Punjab) named Mian Hasan Khan Suri son of Ibrahim Khan Suri but left home after differences with his father over the ill-treatment of his mother to build his own career . The exact place of his birth is disputed as some sources claim it to be Sasaram (Bihar India; his burial place). The most contemporary source (Abbas Khan Sarwani 1580) indicate his birth place to be somewhere in present Khyber Pakhtunkhwa in North West Pakistan. His grandfather Malik Ibrahim Suri is said to have died in Surezai near Peshawar in 1498 AD-a village of the settlers of Barakzai (Kakar) tribe from Gramshair (present Afghanistan) in those days and still referred to as Da Sher Shah Suri Kalay (Sher Shah's village) by the locals. Irrespective of his birth place and the fact that he grew up inside India, Sher Khan should NOT be confused with one of the urbanised "Indian Khans" of today who carry the surname to claim some particular ancestry with no particular relevance to Pashtun culture or heritage. In those days of tribal and feudal India, ethnicity not only determined the sole identity (and religion in case of Turks, Afghans and Persian immigrants) but also personal cultural traits and most importantly political strength. Sher Shah gained his strength from the Pashtun tribes settled in India; he gained his inspiration from his cultural heritage and introduced Afghan system of leadership in Indian polity despite the fact that he employed even Hindus on highest positions due to his belief in merit and equality. His most trusted talented minister and accountant general who revolutionised the revenue administration system of India was a Hindu named Tudar Maal who was later appointed by Mughal Emperor Akbar to continue his great work. His military commanders however were from Pashtun tribes for obvious reasons but contrary to the contemporary practices, they were chosen strictly on merit and abilities not matrimonial or blood relations. Haibat Khan Niazi was his most senior commander who encouraged thousands of Niazi Pashtun immigrants from Afghanistan to settle in South West Punjab (Mianwali) on Sher Shah's instruction to strengthen the population of Khyber Pakhtunkhwa and Muslim tribes of Punjab against the rebellious and turbulent Hindu Gakkars who were opposing an organised government and were causing law and order situations. Khawas Khan, his successful operational commander, was originally a poor fox hunter but Sher Shah had an eye for talent so spotted his potentials and elevated him to the position of a general.

The legendary personality and work of Farid Khan seem like a fairy tale in today's time of scientific empiricism but the legacy of his achievements and the testimonies of even his contemporary rivals besides the fact that he never patronised any "court historians" unlike the rulers of his time leave little space for any exaggeration or fiction. According the Mr. Keene, a British historian, "No government-not even the British has shown so much wisdom as this Pathan." Another important quality of Sher Shah Suri, which made him the best ruler of India even in eyes of Indian historians, was his excellent understanding of Islamic polity and relationship between state and religion in a Hindu majority India. According to Dr. Ishwari Prasad, He was "head and shoulders" above Akbar and Aurangzeb as Akbar alienated orthodox Muslims (or majority of Muslims) due to his ultra liberal un-Islamic religious views and heterodoxy beyond the fundamentals of Islam and that resulted in reactionary policies of successive Muslim rulers and eventually India ended up with a non-tolerant emperor Aurangzeb who persecuted non-Muslims for the "defence of Islam". Akbar was in some ways the equivalent of a brand "liberal Muslims" that normally represent themselves only with no relevance Muslims in wider society where Aurangzeb Alamgir was the roughly the Mughal equivalent of today's radical Islamists. Sher Shah on the other hand was extremely cautious and balanced nevertheless an orthodox practising Muslim himself. He was a strict and learned Muslim, a proud Afghan but at same time not narrow minded towards Hindus or other ethnicities and followed a policy of "Equality and Celebrating Diversity" at that time of authoritarianism and elitist autocracies to avail the full potential of the populace under his rule for the prosperity of his realm.

The visionary Khan built the famous GT Road, the first highway of its kind connecting Peshawar in North West Pakistan to Kolkata in South East India (2600 km later extended to Kabul Afghanistan). The road was constructed for good governance and smooth and efficient administration. The GT Road along with its connecting roads facilitated communication, helped trade and commerce to flourish and made swift dispatch of soldiers from one place to another. The road also helped the Sher Shah Suri in introducing the first organized postal system in the Indian sub continent and best in the World that time. To facilitate the postal runners and the travellers, small inns, called "sarai" were constructed after every 20 miles with separate places of worship for Hindus and Muslims. These inns acted as halting places of government officials moving from one place to another. Each inn had a water pond by its side for drinking water for the animals / horses. Big canopy trees were also planted so as to provide shade lest the water dried up in scorching summers. Remains of these inns, specially the old trees and ponds can still be seen along the modern GT Road. His established an excellent system of local authorities in 47 provinces (or Sarkars) with separation of criminal judiciary from civil executive under Islamic system of social justice. Hindus were exempted from any religious tax levied on Muslims. He also minted the first Rupiya that was the precursor of the modern rupee. The same name and system is still used for the national currency in Pakistan, India, Nepal, Sri Lanka, Indonesia, Mauritius, Maldives, and Seychelles among other countries and even British rulers borrowed some its characteristics. He organised the first professional non-tribal army based on strict disciplinary code of conduct and well defined salary structure. The symbol of excellence of the great Moghal's taste of construction is Taj Mehal and the manifestation of Sher Shah's thinking is Ruhtas Fort-a great fort built for maintaining order and security in North Punjab. This shows the sharp contrast in attitude. All these tasks were accomplished by him in just under 6 years between 1539 and 1544- a time period equal to today's term of a democratic government that our leaders normally find too short to construct a dam even with modern technology and resources. "Such was the state of safety of the highway," observes Nizam-ud-din (Akbar's Mir Bakhshi), who had no reason to be partial towards Sher Shah, "that if any one carried a purse full of gold (pieces) and slept in the desert (deserted places) for nights, there was no need for keeping watch." Mirza Aziz Koka, son of Ataga Khan, and probably Akbar's closest friend and one of the most important mansabdar's of the Mughal Empire (Sher Shah's arch rivals), wrote this to Emperor Jahangir in one of his personal letters to him: "Specially Sher Khan was not an angel (malak) but a king (malik). In six years he gave such stability to the structure (of the empire) that its foundations still survive. He had made India flourish in such a way that the king of Persia and Turan appreciate it, and have a desire to look at it. Hazrat Arsh Ashiyani (Akbar the great) followed his administrative manual (zawabit) for fifty years and did not discontinue them. In the same India due to able administration of the well wishers of the court, nothing is left except rabble and jungles..."

Sher Shah's life style, leadership and interaction with friends and enemies were a classic manifestation of "Pakhtunwali"-the Pashtun way of conduct. He was not a soldier of fortune and unlike most famous historical personalities of that time whether in Asia or in Europe, he didn't inherit any wealth or power from a royal background. He planned his career carefully and tactfully from a humble position to throne of India as the most popular ruler of his time. He started as the caretaker of his father's estate to learn the basics of administration, joined the services of local courts of Bihar to learn the basics of government and then joined the Mughal court to learn about the weaknesses of Mughals and Rajput Courts (his future rivals) who according to him was far from the populace due to corrupt practices and conspiracies involving women, and undemocratic court structures inherited from Mongoloid and Hindu traditions. The accounts of the contemporary historians speak of his belief in himself and uncompromising pride in his cultural values that made him sure of success and gave him a "killer instinct" of "planning like a fox and attacking like a lion". Like a true Pashtun, he was ruthless in his onslaught, fierce in his defence but extremely forgiving of his defeated enemy-a quality of character unknown at his time when enemies used to be decimated or enslaved. His excellent treatment and respect for ladies of Mughal court was testified by the sister of his worst rival Hamayun (Gulbadan Begum, Emperor Akbar's aunt and author of Hamayun Nama). He excelled himself in the study of his religion and Persian classics of that time but despite being an orthodox Muslim and proud Afghan, he was far from intolerant religious extremism and racist ethno-nationalism. On the contrary, he used the true spirit of his religion and cultural values for the benefit of the region that ruled which happened to have more non-Muslims than Muslims and where his own ethnic nation was an absolute minority. His life and achievements gave birth to an idiom that "A true Khan always excel and is a born king"; that is why we see so many individuals called "King Khans" when they excel in sports or entertainment even if they have nothing to do with being a Pashtun.

Today those who associate Pashtuns with extremist Islamic militancy, intolerance, or ignorance in fact do so either due to ignorance propagated by sections of media or the due to the massive impact created by the actions of the foreign elements and ideas that have victimised Pashtuns and their culture more than they have caused any threat or damage to the rest of the world. The elements in fact are the products of the dirty Great Games brought to lands of Pashtuns by the regional and global powers due to their strategic importance. Whether it was the communist aggression or American invasion or the consequent Alqaida inspired reactionary militancy, Pashtun civilisation has nothing to do it nor has it a lot to do with their Islamic faith. Yes Pashtuns indeed has always jealously defended their independence and in fact defeated every imperialist power of their time but have never been imperialistic or intolerant extremists themselves. Whenever they ruled others, they brought stability and prosperity to the region under their rule and displayed a beautiful shade of Muslim civilisation.

No militant extremist idealise Sher Shah who represent an ordinary Pashtun-the common Khan who is the victim of aggression from every single imperialist of the modern history: from British colonialist to communist expansionist and now the American Imperialist and the cost of their constant fight for freedom left them poor and uneducated. The Khan who is a labourer, a watchman or taxi driver in Karachi and gets killed there in gang wars of rival political parties or in his own lands, get blown up in an attack by a suicide bomber or become roasted sandwich in fight between the army and the fanatic extremists who don't get their inspiration from Sher Khan but from twisted doctrines imported from elsewhere in the sacred name of Islam. Yes Sher Khan did inspire and even today inspires many Pashtuns to achieve excellence in adverse circumstances and rise out of dust to skies. Ahmad Shah Abdali (another great 18th century Pashtun ruler) idealised him and established the last stable and prosperous Muslim Kingdom comprising today's Afghanistan, Pakistan and Kashmir when the existence of Muslims were under threat from the rising Hindu revivalism and militancy after the fall of Mughal Empire hence providing stability to the region. Ahmad Shah Abdali writes in a Pashtu couplet:

د حميد او د فريد داوار به بيا شي
چه په تورو پښتانه کړه غوزارونه

The reign of Farid Khan and Hameed Lodhi will come back
Once the Pakhtuns start showing their skills of sword again

Doctor Khan Saib (first Chief Minister of Khyber Pukhtunkhwa and then of West Pakistan-bother of Bacha Khan) was a leftist liberal but considered Sher Shah as his inspiration due for being the first "socialist" king and for his personalised management style nevertheless the liberal secularists/ethnic nationalists have nothing to with do with Sher Shah's or Ahmad Shah's religious views. Even the cricketer turned politician Imran Khan (Niazi) term Sher Shah as his ultimate ideal due to his sense of justice and leadership style. Every ambitious Pashtun to his understanding take inspiration from the Real King Khan except the fanatic militant extremists whom unfortunately many think as representative of Pashtuns.

``xEFVpFplkFZJCRJoXJi``x1350308237``xpeople``xEnglish``xWhat is the relevance of tales of a legendary Pashtun king dating back five hundred years? Is it not a "Pidram Sultan Bod" (Persian quote means my father was a King) syndrome? Well it may be or it may not be depending on how one consumes the lessons of history.``x``x``xM Arshad Khan``xThe Tale of The Lion King in Light of Pashtun culture, Islam and Radical Extremism``x``x``x``x``x``x``x1``x``xsher shah suri, kipling``x``x``x``x Pakhtano Bala Tura Wakra``xadmin``x

درنو هېوادوالو! په خيبر پښتونخوا کې يوه نازولې پښتنه چې ليا ۱۲کلنه وه، په نړيواله کچه يې د سولې او د ماشومانو د حقوقو د خوندې کېدلو هلې ځلې پيل کړې، چې ډېر ژر يې نړيوال شهرت پيدا کړ او د پښتنو په سيمه کې يې د ماشومانو د ښوونې او روزنې ډېوه بله کړه، په ډېرو زړونو کې يې د هېلو ولولې راژوندۍ کړې او د نړۍ ډېرو مخورو ورته د درنښټ سر ټيټ کړ. دغه د آسمان سپوږمۍ او دځمکې يوسفزۍ ملاله نومېږي، چې په معصوميت يې د ماشومانو لپاره د ژوند، روزنې او له ظلمونو نه د خوندې کېدلو غوښتنه کوله، مګر نامردو قاتلانو د دغه پرښتې معصوميت ته هم و نه کتل او نن يې په ډېره نا مېړانه د ښوونځي سپين کميس ورته په سرووينو سور کړ، په دې موخه چې آب او دانه يې له دې دنيا ورته بنده کړي، امېدونه يې ورته خاورې کړي، چې دغو بې دينو د اللهي لخوا د ازل پديده هم غوښتل تر سوال لاندې راولي، مګر خدای په حق دی او ملالې ته به شفاعت وکړي!

ملاله يوسفزۍ د وروستيو دوو کلونو په ترڅ کې په پښتونخوا کې د ماشومانو په منځ کې وځلېدله او لکه رڼا سپوږمۍ او تود لمر غوندې يې د غرونو په رغونو کې سر راپورته کړ او په لوړ سر او جګ آواز يې د ماشومانو لپاره د بشر د حقونو غوښتنه وکړه، د بشريت ډيوه يې بله کړه، مګر افسوس چې دغه وړه معصومه پېغلوټه د دې دنيا د نامردو نمرودو لخوا د ټوپکو په ډزو نن ويشتل شوه او تر مرګه  ټپي شوې ده، چې د بشريت دوښمنانو غوښتل په خپل دغه کرغېړن کار د ملالې ټول انساني ارمانونه له خاورو سره خاورې کړي. نور نو په سيمه کې د ملالې ډېوه مړه کړي، چې لکه روښانه لمر و نه ځلېږي، مګر د ملالې توده مينه به له ماشومانو سره تل پاتې وي، بس پښتانه دي، چې خپلې خويندې او وروڼه به قرباني کوي او د ټولنيز تروريزم په اړه به لاس تر ذنې ناست وي.

ما د دغه کرښو سرليک «پښتنو بله توره وکړه» وليکلو، چې کېدی شي د ځينو احساسات به راوپاروي، چې ګواکې مذهبي يا سياسي ډلې د پښتنو استازيتوب نه کوي، مګر زما اندېښنه دا ده، چې دغه تروريستي، دهشت ګرې او ظالمې ډلې چېرې مېشت دي! آيا د پښتنو په سيمو کې مېشت نه دي! آيا پښتو او پښتونولي ته نه نڅېږي! آيا دسيمې خلکو دغو نا اهلو وحشيانو ته په خپل ټاټوبي کې ځای نه دی ورکړی! دلته ډېر څه دي چې وليکل شي مګر د قلم له خولې نورنو آفات، خرافات او ليونتوب نه راوځي.

Malala Yousufzai appearing in News on receipt of award

د سوات په سيمه کې، چې له ۲۰۰۷ نه تر ۲۰۰۹ پورې د سيمې د طالبانو په واک کې ولکه وه او اوسمهال هم په سيمه کې دهشت او وحشت ته لبيک وايي، نو نن يې هم د تليفون په ليکه د مېړنۍ ملالې د ويشتلو مسؤليت پر غاړه اخيستی دی او دا يې ياده کړې، چې ګواکې مېړنۍ ملاله د لوديز دودواله ده او د طالبانو پر ضد تبليغ کوي، مګر دغه بد فعله وحشيان په دې نه پوهېږي چې ملاله خو يوه بې وسلې، معصومه او د ښوونځي يوه متعلمه ده، نه ټوپک لري او نه هم توره! بس همغه د حضرت سليمان خبره ده، چې يو څوک ګرم  يا نا اهله شي، نو لکه سپی يا خوله اچوي او يا هم ګرېوانونو ته خپړې! مګر دغو وحشيانو د معصومې ملالې وينې تويې کړې، لکه يو وحشي ځناور غوندې يې د مېړنۍ ملالې د وژنې هڅه وکړه، خو د ملالې له پښتني معصومانه پوړني نه هم ونه شرمېدل!!

د دغو وحشيانو په دغه غير انساني، وحشي حرکت د هر پښتانه په لمن د بې ننګي، بې غيرتي او نامردي داغ کېښودل شو. ملاله نورنو لکه يو د پوهې، صداقت او مېړانې تاريخي مشعل وګرځېدله. د ملالې مفکوره، مبارزه او فعاليت به تل په افغانانو کې لکه سره لمبه توده او روښانه وي. که ملاله لکه شمعه په خپلو وينو کې وتپېدله او وسوځېدله، مګر په خپل شتون اوسرو وينو يې ټوله سيمه روښانه کړه. اوس د پښتنو په غيرت، همت، پښتونولي او مېړانه پورې اړه لري، چې د خپل ټبر د خپلواکي او د ظلم نه د ساتلو لپاره څه کوي!!! زه مېړنۍ ملالې ته له پاک الله نه روغتيا او رمټيا غواړم. د ملالې له کورنۍ او له خواخوږو سره ځان په دغه لوی ملي غم کې شريک ګڼم او ټول پښتون ولس ته د جميل صبر تمنا له پاک الله نه کوم، هيله ده چې ملاله بيا لکه بله ډېوه سر راپورته کړي!

``xEFuAlkpZFuzQMhVddh``x1349820734``xarticles_2012``xPashto``x
درنو هېوادوالو! په خيبر پښتونخوا کې يوه نازولې پښتنه چې ليا ۱۲کلنه وه، په نړيواله کچه يې د سولې او د ماشومانو د حقوقو د خوندې کېدلو هلې ځلې پيل کړې، چې ډېر ژر يې نړيوال ``x``x``xډاکټر لمر``x``xپښتنو بله توره وکړه``x``x``x``x``x``x1``x``xmalala, taleban``x``x``x``x Ahmad Shah Durrani``xadmin``x

Ahmad Shah Durrani - Father of Modern Afghanistan by Dr. Ganda Singh is online. The book resulted in award of a PhD to the author in 1954. Following are its table of contents:

Click here to download the book (File size: ~ 70 Mb)

Following are some selected photographs from the book:


Ahmad Shah Baba (b. 1722, d. 16-17 October, 1772)


Prince Taimur Shah Durrani


Sher-i Surkh near Qandahar, where Ahmad Shah Baba was elected and crowned as Shah


Mausoleum of Ahmad Shah Baba at Qandahar


Sardar Jahan Khan - Commander in chief of Afghan army


Nawab Najib-ud Daula Rohilla


Gurgin Khan (Shah Nawaz Khan or George XI) - Ruler of Afghanistan before Mirwais Khan Hotak


Sardar Charhat Singh Sukkarchakkia, grandfather of Ranjid Singh


Sardar Jassa Singh Ahluwalia


Ahmad Shah Baba's empire in 1762


Ahmad Shah Baba's empire in 1772 at the time of his death

Click here to download the book (File size: ~ 70 Mb)

``xEFuyFZZupurjPsavFM``x1346377404``xbooks_2012``xEnglish``x

One of the most authentic resources on Ahmad Shah Baba is now available at Khyber.ORG. Author is Dr. Ganda Singh.``x``x``xDr. Ganda Singh``x``x``x``x``x``x``x``x1``x``xkings, ahmad shah durrani, history, qandahar``x1``x``x``x Pukhtana Kabilay Opejanayi``xadmin``x

د ډاکټر لطيف ياد کتاب ((پښتانه قبيلې وپېژنئ)) برخې ړومبي وار د بېنوا وېب پاڼې کښې ښکاره شوي دي و د محترم ليکوال په مجاؤزت سره دلته تاسو ته کتابي شيکل کښې وړاندې کؤو۔

په دې کتاب کښې د ۱۰۰ نه زيات قبائلو ذکر شوې دې۔ خلاسؤلو د پاره لاندې انځور ته ټک ورکړئ۔

``xEFEVlkpFZEBxVAIXft``x1346126401``xbooks_2012``xPashto``x

Get to Know Pashtun Tribes
Updated: Now contains 121 135 tribes

``x``x``x``x``xپښتانه قبيلی وپېژنئی``x``x``x``x``x``x1``x``xhistory, tribes, geneology``x1``x``x``x Wikipedia Wars on Pashtun Topics``xadmin``x

When we want to find anything, we jump to google and make a search. From the available options, we opt to go for wikipedia because they are written in an easy to understand form. Recently, while looking up an article on Amir Kror Suri, I noticed an edit war. Edit war's are normal, and are usually sorted through mediations and a set of rules. However, this was not the first time I have witnessed an edit war on Pashtun pages.

Vandalism on wikipedia is normal. They are treated by editors who revert the page back to an original state. But the edit wars on Pashtun pages are not just by vandals, there are a few persistent and expert Tajik editors who are well versed in wikipedia rules and terminology. All you have to do is go to the Talk page and you will see Tajik and other Iranian origin editors who raise disputes on virtually each and every point. There are disputes from literary books, writers, all the way to famous personalities.

The editors are able to quote references on which they base their objections. Their references are usually written with a bias themselves, and are predominantly Tajik authors, or scholars of Iranic Studies who habitually put a question mark on any Pashtun source or writer. Their aim is to sabotage the article such that eventually it is locked and no further edits are possible. Either this, or let the article continue on condition that it is inclined towards their bias. Very few of them raise genuine objections. Perhaps I it may be too far-fetched to make this claim, but it does seem like a conspiracy to malign everything that has to do with Pashtuns. The article on Amir Kror at hand had the objection that since a reference was not available on the Internet, it was not acceptable.

A neutral approach would require the presence of the claim, as well as its refutation based on objections from sources, and then leave the rest to the reader. A reader, after all does not go to a wikipedia to form an opinion. He goes to get information. So the opinion-making must be left to the user.

Secondly, Wikipedia is an encyclopaedia and cannot be perfect. Even two established encyclopeadia's can contradict on a single point. Some historical claims can never be verified because contradictory claims exist in sources. The usual approach is to give weight-age to sources that have been written in the same time period as that of the claim. But still, that is easier said than done. With pashto history, this is a serious problem. Our history has seldom been documented by Pashtuns, and admittedly, the few available sources are not exactly 'scientific' in nature. There is a shortage of citations, and there is too much emphasis on prose, arts and religion. Of course, Pashtun bias is also evident in some writings.

Subsequently, our history has always been documented by outsiders, be it the Moghuls and Arabs, British, or the current day universities and study centers that are churning up work at a remarkable pace. Bias is natural and evident in all. But it would be very difficult for a normal reader to identify it. This leads to many stereotypes.

As a solution, we can take up the task of becoming wikipedia warriors ourselves and launch an editing campaign of a similar manner. But in current circumstances, this will do more harm than good. What needs to be done can be done by the various universities operating in Afghanistan and Pakistan. Institutes with a focus on Pashtun and Afghan studies need to be established. A few generalized institutes are already doing the same thing; for instance Area Study Center in Peshawar, and Academies of Pashto in Kabul and Peshawar. They have done some extensive research work, but it is not enough. They must become more open and accessible by extending their research work to the European and western audiences, using the internet of course. The website of Area Study Centre and other similar institutes leave much to desire for. Finding even the contact details of the institute can be a formidable task.

Much of the wealth these institutes possess are in their libraries. I have seen many physical manuscripts of some PhD thesis with some remarkable research. But I cannot find even a citation for them on the Internet, let alone a downloadable copy. Libraries must be strengthened, and their wealth should be digitized and made available on the Internet without any subscription or charges. Partnerships can be made with Google, or other foreign universities with similar interests. A tremendous example is the on-going digitization of the Kabul University library, most of which has already come online, although not easily searchable.

A second problem is that of mindset. Most of us want to become doctors and engineers because of financial interests. If we can't become any of that, we prefer to start a businesses for the same financial reasons. This is valid and I understand the situation of many families and students as I myself belong to an engineering field. But it can change. Many students are nowadays moving towards media and business studies because these areas have also developed financial attraction. Good policies can achieve a similar turn-around in our badly suffering literary and history sectors.

The third approach is the access of 'private' libraries. There exist some families and individuals who are the proud owner of private libraries. Some of these libraries contain thousands of books and records, maps, and other material. It was in a similar private library, that Abdul Hai Habibi found the oldest recorded manuscript written in Pashto in the year 1214 (btw, this has also been made controversial by our neighbours).

Sadly, access to these libraries is only possible to the immediate members of the family; most of whom are oblivious to the benefits of this treasure. These private librarians can easily be contacted, and I am sure their owners would be more than willing to cooperate in digitization of the rare books and records in their possession.

Once the institutes and government can do their part, Wikipedia warriors are just a click away.

``xEFuypAkVuujzxmYkbe``x1346092544``xarticles_2012``xEnglish``xWhen we want to find anything, we jump to google and make a search. From the available options, we opt to go for wikipedia because they are written in an easy to understand form. Recently, while looking up an article on Amir Kror Suri, I noticed an edit war. Edit war's are normal, and are usually sorted through mediations and a set of rules. However, this was not ``x``x``xOmar Usman``x``x``x``x``x``x``x``x1``x``xhistory, wikipedia``x``x``x``x Pashtuns in India``xadmin``x

هغه پښتانه چي په پاکستان او هند کښي له پښتونخواه نه وتلي اوسيږي په دي ډول دي:

لومړي وار پښتانه د محمود غزنوي او شهاب الدين غوري سره په لښکرو کښي بر صغير ته ورغلي وو او هلته ميشته شوي دي، بيا وروسته د نورو حکومتونو په وخت کښي هم پنجاب او مغربي هند ته نور پښتانه ورغلي دي، خو د لودي و سوري حکومتونو په دور کښي ډير پښتانه هند ته ورغلي دي. په تيره د بهلول لودي او شير شاه سوري په وخت کښي ډير پښتانه هند ته تلي دي. په دي پښتنو کښي ډېر غلجي پښتانه وو او د هند په څو صوبو کښي ميشته شوي وو. سوري و لودي، او غلجي، ټول يو خيل متوزي دي، ټولو ور غلو پښتنو ته به په هند کښي روهيله ويل کيدل، او دوي به فوځي نوکري خوښولي او د دوي زړور او زحمتکش پيژندل شوي وو.

څه وخت چي په 1526ع کال کښي بابر په هند حمله کوله د ده په لښکر کښي پښتانه وو چي ډير پکښي يوسفزي وو. د مغلو په وخت کښي ډير پښتانه د پنجاب نه نيولي تر يوپي پوري رسيدلي او اباد شوي وو. د مغلي حکومت په زمانه کښي پښتنو په هند کښي غټي عهدي هم لرلي او ځيني نوابان هم پکښي وو، خو د مغلو د حکومت په وروستي کښي چي څه وخت افراتفري راغله او مرکزي حکومت کمزوري شوي ؤ، نو پښتنو نوابانو هم پخپله علاقه کښي د خپل اقتدار نغاري وهلي.

د اتلسي پيړي په اوايلو کښي پښتانه د هماليه د لمنو نه نيولي تر اوده پوري خواره واره اباد شوي وو. په 1774ع کال کښي چي څه وخت انګريزان په هند کښي له پښتنو سره مخامخ شول، نو پښتنو ېي سخته مقابله وکړه خو په شاه جهانپور کښي ېي ماتي وخوړه خو وروسته انګريزانو د دوي پو مشر فيض الله خان د رامپور پنځه زره پښتنو کورونو د اوسيداني اجازه وه او نور اتلس زره کورني د وابه، راجپوتاني او دکن ته په تللو مجبوره کړي شوي. لږ څه وخت وروسته امير خان د ټونګ نواب مقرر شو، هغه هم په دغه پښتنو کښي ؤ.

د پښتنو هند ته د تللو مهم عوامل د دوي کورني دښمني، خواري او د حکومتونو بي نظمي وي. هند ته راغلو پښتنو هلته څو رياستونه هم جوړ کړي وو، چې دوي په هغه رياستونه اداره کول، لکه: ملير کوټله، ممدوت، پالن پور، جوناګړ، سوانر، بلاس نر، محمدګړه، پاټوډي، رامپور، ټونک، بهوپال، بلاس پور، ګدي، دوجانه، پاوني، کړدي، مناداور، پتهاري، بنټوا، کورداني و نور.

د 1940ع کال د احمائي له مخي په برصغير کښي په مختلفو ځايونو کښي لکه: پنجاب، راجپوتانه، کشمير، بمبئ، بړوده، مدراس، ميسور، يوپي، سې پي، بهار، بنګال، تهائي لينډ، چين و انګلستان کښي تقريبا پنځه لس لکه (1,500,000) پښتانه اباد وو، لاندي د 1927ع کال نه مخکښي د يادوني وړ دي ځايونو کښي پښتانه ودان وو:

په پنجاب کښي هغه دري نيم لکه پښتانه وو چي د مختلفو قومونو نه وو، چي ښکاره پکښي يوسفزئي، لودي، ترين او کاکړ وو او مهمي وداني ېي په ملتان، لاهور، ميانوالي، سيالکوټ، لوديانه، جالندهر، ګورداس پور، هوشيار پور، او په اټک کښي وي، او په نورو ځايونو کښي هم څه پښتانه وو لکه: ضلع هزاره او نورو علاقو کښي د پنجاب په پښتنو کښي خويشکي پښتانه چي د ځمند د زيلي نه دي ښکاره حيثيت لري.

خويشکي لومړي د افغانستان په غور بند دره کښي اوسيدل او د بابر په لښکر کښي د هند ته راغلل، د پاني پت په جنګ کښي 1526ع کال چي بابر په ابراهيم لودي بري و مند، خويشکي د بابر په لښکر کښي د سردار سليم خان په کمان کښي وو، او قصوري پټان ويل. وروسته ېي بيا مغلو ته خراج هم نه ورکولو، او څو جګړي ېي هم ورسره وشوي، د سيکانو سره ېي هم په 1774ع کال کښي جنګ وشو، او خويشکي په مقابله کښي ښه مقاومت وکړو، خو چي په 1800ع کال کښي سيکانو لاهور ونيولو نو په 1801ع کال ېي په قصور هم حمله وکړو او کامياب شول او سوله وشوه. خو وروسته بد مرغه پښتانه په خپل مخ کښي د بي اتفاقي له امله فتح دين خان رنجيت سنګ د حملي د پاره ولمساوه او سيکانو په 1807ع کښي قصور لاندي کړو او خويشکي لاړل د ستلج په نمر خاته علاقه کښي پريوتل او وروسته ورته بيا د ممدوټ جاګير ورکړي شو، او د 1947ع کال پوري د دغه علاقي خويشکي نوابان په اقتدار کښي وو.

په رهتک اوسيدونکي پښتانه يوسفزي وو او ګوريانه او ګوهانه چي د غلجو زيلي سره لري هم په رهتک کښي اوسيدل. او ځيني کاکړان هم د غلته وو او څو کلي ېي لرل. د پاټوډي حکمرانو کورني هم د پښتنو وه. د سرهند اوسيدونکي پښتانه د پړنګي قبيلي لودي پښتانه وو، چي سلطان بهلول لودي هم له دغي کورني نه ؤ. چي هند کښي ېي يو لوي سلطنت جوړ کړو.

او ځيني نور پښتانه په لوديانه او پړاو په شمالي اښاله کښي هم شته دي. د ملير کوټلي د رياست باني هم د شيراني قبيلي يو پښتون بزرګ صدرالدين خان ؤ چي د دغه رياست بنسټ ېي ايښي ؤ. دي په 1442ع کال کښي په سرهند کښي په يو ځاې استوګن شو او د هغه ځاېي نوم ېي ملير کيښود. په 1451ع کال ورته سلطان بهلول لودي خپله لور تاج مرصع بيګم په نکاح ورکړه او غټ منصب او جاګير ېي هم ورکړو او د خپلي قبيلي سردار مقرر کړي شو.

د اورنګزيب په زمانه کښي د ملير سره د کوټلي په ځمکه د بازيد خان په نمو يوه ابادي جوړه شوه چي وروسته د ملير کوټلي په رياست مشهور شو.

په جلندهر کښي اوسيدونکي پښتانه لوديان، سوريان، او اورمړي دي. او د کرنال اوسيدونکي پښتانه د قندهار نه راغلي خلک دي چې په 1729ع کال کښي هلته ورغلي دي. په پاني پت اوارهيانه کښي اوسيدونکي پښتانه اکثر شيراني دي. ده محمود غزنوي سره راغلي خلک دي او بيا چي شاه شجاع ماتي وکړه نو په 1844ع کال کښي نور ډير پښتانه هم دغه علاقي ته راغلل او په ارهيانه او پاني پت کښي ديره شول.

د جهانګير په وخت کښي ځيني اپريدي د روښاني تحريک په تور فرار شوي، هغوي هم دغي علاقي ته راوستل شوي دي.

په ملتان کښي اوسيدونکي پښتانه اکثر ابدالي ترين پښتانه دي، چي د اورنګزيب په وخت کښي د قندهار نه دغلته راغلي دي چي په دغه وخت ځمند پښتانه د غلته ښه په زور کښي وو.

په 1794ع کال درانيانو نواب محمد خان سدوزي په ديرو کښي ګورنر مقرر کړو، نو د هغه سره نوري پښتني کورني هم ملتان ته ورغلي، دا خلک علي زي، اسمعيل زي، خاکوراني، او خوجکزي وو. په پنجاب کښي ډير د کاکي زي، ماموند، ترکاڼي قبيلي خلک دي. چي په جلندهر، ګوجرانواله، بټاله، او سيالکوټ کښي اوسيږي، چي په باجوړ کښي د کاکي زي قبيلي نه پاتي مسعودخيل، ايسپ خيل، عمر خيل، سليمان خيل او بادين خيل دي.

په يو پي کښي پښتانه

د 1931ع کال د سر شميرني (مردم شماري) مطابق په يو پي او د هغه متعلقه رياستونو کښي پنځه لکه او اتيا زره (580000) پښتانه يوازي په مراد اباد کښي وو، چي اکثر پکښي يوسفزي، اپريدي، بنګښ، غوريا خيل، کاکړ او لودي وو، او په رامپور کښي پنځه زره اورکزي هم وو چي کرلاڼي پښتانه ولل.

او په ميرټ ډويژن کښي څلويښت زره پښتانه وو چي زيات د سهارنپور په مشرق او د مظفرنګر کښي استوګن وو او د سردهنه غازي اباد او هاپوړ د دوي مهم مرکزونه وو. او د اکبر او شاه جهان په وخت کښي بيا ځيني شيراني پښتانه په عليګړ او بلند شهر کښي استوګن کړي شول.

په يولسمه عيسوي پيړي کښي دا وده صوبي په څو ضلعو کښي پښتانه اوسيدل او په هر دوي کښي هم د غوريانو يو کلي شته چي وائي مونږ د علاؤالدين غوري په وخت کښي (1300ع) کال کښي دلته راغلي يو.

په 1650ع کال کښي د اپريدو ډيري کورني په لکهنو کښي ميشته شوي دي او څه وخت روسته بيا قندهاري هم هلته تللي دي او اباد شوي دي او په اتلسمه پيړي کښي ډير پښتانه بهمړايچ او ګونډه ته تللي دي او کلي ېي پکښي اباد کړي دي او په زيرين، دوابه کښي فرخ اباد چي د بنګښو نوابانو پايتخت ؤ، ډيرو پښتنو قبيلو پکښي کورونه جوړ کړي او هلته استوګن وو، چي د بنګښو نه ورتير يوسفزي، غوريا خيل، او اپريدي قبيلي پکښي هم وي.

بنګښ لومړي د اورنګزيب په وخت کښي په 1713ع کال پوري دوي ښه په زور کښي وو چي د هغوي مشرته د نواب خطاب هم ورکړي شوي وو. د 1857ع کال د ازادي په جنګ کښي يوي له انګريزانو سره سخت جنګ وکړو، خو مات شول او نواب تفضل حسين خان معزول شو او مکې معزمې ته لاړو.

په 1931ع کال په فرخ اباد کښي پښتنو ابادي شل زره (20000) تنه وو او په همدغه کال 1931ع په اوده کښي يو لکه اتيا زره (180000) پښتانه وو. په دغه ورځو کښي په يوپي کښي تقريبا 27000 لودي پښتانه پراته وو، دوي په پنځلسمه عيسوي پيړي کښي دهلي او يو پي ته ورغلي وو او هلته ميشته شوي وو. وروسته ېي بيا ډير طاقت وموندو چي په نتيجه کښي ېي لوي حکومتونه تشکيل کړل. د لوديانو او سوريانو په وخت کښي نور پښتانه هم هند ته ورغلل او په سرهند، اګره، سيهسرام، بنارس، مرزه پور، غازي پور، بکسر، چنار او نورو ځايونو کښي ميشته شول. په يوپي کښي کاکړ ډير دي، په بلند شهر کښي په 96 ځايونو کښي 12 ځايونه دوي نيولي دي. او په خورجه کښي ېي اکثريت منلي شوي دي. په فتح پور کښي د پني قبيلې څلور طائفي دريا خان، يوسف خان، مظفر خان، او موسۍ خان اباد دي. پني په اصل کښي د غورغشت زوي وو.

په بهار او په بنګال کښي

په 1940ع کال کښي دغلته له دريو لکهو (300,000) نه ډير پښتانه اوسيدل. چي ده هغوئي اهم مرکزونه پټنه او بردوان او ډهاکه وو.

او په کلکته کښي پنځلس زره (15000) پښتانه استوګن وو. په کلکته کښي اکثر پښتانه يوسفزئي، اتمان خيل او پني وو.

په راجپوتانه کښي

په 1940ع کال کښي په راجپوتانو کښي يو نيم لکه پښتانه اوسيدل چي دغلته ېي رياست په ټونګ کښي هم وو. چي نواب امير خان ېي باني وو. دا خلک يوسفزئي، سلارزئي او الياس زئي وو. او د جهانګير باچا په امرڅه اپريدي هم دغلته راغلي وو.

مينځني (وسط) هند

دغلته پښتانه هر چيرته اباد وو. خو اکثريت ېي په ګواليار، بهوپال، او مالوه کښي وو. د بهوپال نواب حکمران فيروز خيل، دولت زئي او اورکزئي ولل.

د دغه سلطنت باني دوست محمد خان ؤ، چي څه وخته اورنګزيب باچا سره هم نوکر وو. په 1930ع کال کښي په ګواليار کښي اته پنځوس زره (58000) او په بهوپال کښي څلور درئيش زره (34000) او په مالوه کښي لس زره (10000) پښتانه اوسيدل.

د حيدر آباد رياست

په 1947ع کال نه مخکښي دغلته دوه لکه (200000) پښتانه اباد وو. دکن ته لومړي وار په 1295ع کال کښي پښتانه علاؤالدين خلجي سره ورغلي وو خو ميشته شوي نه وو، په 1311ع کال کښي څه وخت چي د يوګړهي راجه ووهلي شو او دغه علاقه مسلمانانو ونيوله نو پښتانه هلته ورغلل او اباد شول او چي په 1347ع کال کښي د حسن ګنګو په قيادت کښي په دکن کښي انقلاب راغي او د بهمني پښتنو سلطنت بنياد کيښود شو، نو د فوځ د پاره د پښتنو ضرورت وو، نور پښتانه هم ورغلل. دغه وخت کښي په دکن کښي عرب، ايرانيان، حبشي او مغل هم وو. خو پښتنو خپل انفراديت پکښي ساتلي وو او د خپلو پښتنو نه پرته ېي د بل چاسره رشتي او خپلولي نه کوله. او په دکني فوځ کښي د پښتنو خاصي دستي وي او د امن امان ساتل د دوي په غاړه وو، دا پښتانه قبائل مسعود، يوسفزئي، کاکړ او اپريديان وو او نور هم لږو ډير پښتانه پکښي ورغلي وو.

په بمبئي او بروډه کښي پښتانه

ګجرات او مهاراشتهر ته پښتانه په فوځ کښي او په سوداګري ورغلي وو، وروسته ېي بمبېئ، احمد اباد، او په بروډه کښي د دوي څو محلي وداني شوي. دغلته د دوي رياستونه جوناګړ، مناداد او جاوره وو. د جوناګړ حکمرانه کورني بابي خيل يوسفزئي وو.

په 1931ع کال کښي په بمبيئ کښي يولکه شپږويشت زره (126000) پښتانه استوګن وو او په بروډه کښي شپاړس زره (16000) پښتانه استوګن وو.

په مدراس کښي

په مدراس کښي په 1931ع کال کښي پنځوس زره (50000) پښتانه وو چي د تجارت او د قرضه کاروبار به ېي کولو.

په جيسور په رياست کښي

په جيسور کښي په 1931ع کال کښي يوولس زره (11000) پښتانه وو او د تجارت او کرکيلي کار ېي کولو او په اسام کښي اووه زره (7000) پښتانه اوسيدل چي اکثر په سمهلټ کښي استوګن وو.

د کشمير په رياست کښي

په 1931ع کال کښي دغلته د نهه ويشت زره (29000) نه ډير پښتانه استوګن وو. په دي کښي هغه اپريدي هم وو چي جهانګير باچا هند ته فرار کړي وو.

په ځينو روايتو کښي راغلي دي چي بجري، تراړ خيل، پلندري، پونچ، اجره، او نورو کښي سدن قوم په اصل کښي سدوزي دي چي د احمد شاه بابا په وخت کښي دغلته راغلي او اباد شوي دي.

په برما کښي

په برما کښي پښتانه د کابلي په نوم ياديږي او په 1931ع کال کښي دغلته د پښتنو ابادي څلور نيم زره (4500) تنه وو.

د پورتني اندازي نه معلوميږي چي د پاکستان له جوړيدو نه مخکښي پښتانه له کشمير نه نيولي تر راس کماري پوري خواره شوي وو او د دنيا نورو ځايونو ته هم ورغلي وو.

د جنوب شرقي اسيا ځينو ملکونو، اسټريليا او د امريکي کاليفورنيا ته هم پښتانه تللي دي، او هلته ودان شوي دي.

په ايټاليه کښي او په نورو يورپي ملکونو هم پښتانه استوګن شته دي، چي څوک ورته پټهان، څوک ورته افغان او څوک ورته کابلي وائي.

د پاکستان له جوړيدو نه وروسته ډير پښتانه د شرقي پنجاب او يو پي نه پاکستاني پنجاب او سندهانو وطن ته د مهاجرو په توګه راغلي دي او ودان شوي دي، نورو ملکونو ته هم د خواري، مزدوري د پاره د نورو پاکستانيانو په څير پښتانه هم ورغلي دي او هلته اباد شوي هم دي.

خليجي ملکونو او منځيني خطيع (مشرق وسط) ته پښتانه د مزدوري د پاره تللي او دا چي هلته د اوسيداني امکان لږ دي نو اباد شوي نه دي.

``xEFuypyuAlkGNBTkABT``x1346064982``xtribes``xPashto``xلومړي وار پښتانه د محمود غزنوي او شهاب الدين غوري سره په لښکرو کښي بر صغير ته ورغلي وو او هلته ميشته شوي دي، بيا وروسته د نورو حکومتونو په وخت کښي هم پنجاب او مغربي هند ته نور پښتانه ورغلي دي، خو د لودي و سوري حکومتونو په دور کښي ډير پښتانه هند ته ورغلي دي. په تيره د بهلول``x``x``xم ج سيال موهمند``x``xد پشتونخواه نه باندې پشتانه``x``x``xMISC``x``x``x1``x``xhistory, india, geneology``x``x``x``x Rababi Website``xadmin``x``xEFuyppVlEFOnLpADER``x1346005813``xvideo``xEnglish``x
A website dedicated for the rabab students. There are many lessons to choose from, starting with tuning, all the way to notes for famous tunes.``x``x``x``x``x``x``x``x``x``x``x1``xhttp://rababi.wordpress.com``xrabab, music``x``x``x``x For the Love of Attan``xadmin``x``xEFuVAAkyEyVkVlqJRe``x1345992616``xculture``xEnglish``x
So what is Attan? In one word it is a dance. But this is the dance of the Pashtuns; a people who according to some have formed the largest tribal society in the world. Since the dance in some cases also serves as a form of tribal identity, the large number of tribes and sub tribes is reflected in diversity in the various forms of Attans in practice. ``x``x``xImran Khan``x``x``x``x``x``x``x``x1``xhttp://iopyne.wordpress.com/2012/08/14/for-the-love-of-attan``xattan, music``x``x``x``x Chillam and its Variants``xadmin``x

It is said that all the credit of the beautification of the Hujrah goes to the Chillum,  i.e., without it the Hujrah will be incomplete and dull. Men get together for their evening discussions, prepare a chillumor two, and pass it around as the night lingers on. The rule of smoking is not to take more than 3 deep whiffs. The honor of lighting the chillum is always given to a senior smoker who has a special and delicate way of preparing it.

The chillum is a water-pipe that is unique to Afghanistan. It's variants are called sheesha in the arabic world, and hukah in the sub-continent. While the arabicvariant is usually made of glass, the chillum is made of clay, copper or even stone.[1] Theactual word chillum is used for the stiff pipe through which smoke is inhaled.

It is used for smoking tobacco, and occassionally weed. The preparation involves lightingup the tobacco. Smoke is inhaled through a stiff pipe. Although the chillam is a permanentitem in the Hujra's, rural women-folk also use it incessantly. According to a survey [2], 62%of women who smoke have used a Chillam too. Chillam's are also available in tea-houses. Over the past decade, it has found its way into urban centers and is served in various restaurants.

The bowl of the chillum holding the tobacco is called the sarchana. It is enough to hold 10-15 grams. It isspecially designed to restrict movement of air inside, otherwise the tobacco would quickly burn out. However, this means that in order to light up the tobacco, one must have powerful lungs to force the air in. Once done, the tobaccowill burn at a constant slow pace. Expert smokers place a small stone in the sarchanabefore filling it with tobacco. This is so that the opening to the base of the chillum is kept clear. Two types of sarchana's exist. Those with the top wider than the diameter of the center are used for smoking tobacco. While thosewhose top is smaller are used for smoking hashish, etc. However, the most prevalent used are the ones for smoking tobacco.


A woman preparing a chillam at her kitchen


A man preparing a Chillam at a tea-house in Qandahar
Photo: Ludo Kuipers, Sun Nov 04, 1973

Before smoking, the jar is filled with cold water to a level enough to barely submerge the pipe coming down from the sarchana. The length of thechillum is so long that one must sit at a higher elevation. Hence usually the chillum is placed on the ground, and smokers may slightly tilt it so thatthe stiff pipe can reach their mouth.

Chitrali Chars o Chillam (Weed with Tobacco) is a popular form of smoking that has been passed down in folk-lore. RC Clarke writes in his book [1] regarding this particular formof smoking that was prevalent in Chitral. Hashish mixed with tobacco is placed on coals in a brazier. The vapors are then breathed down through a hollow reed or rolled tube of paper.


Depiction of Chitrali Chars o Chillam by Robin Ade in [1]

Another variant that was used by Kuchi nomads or Sufi mystics (or those who don't have a chillum at their disposal) is the earth-pipe. These were common in almost all shrines. A pair of thin bamboo sticks are stuck into a pit dug in the ground. The pit has a considerable capacity and twice as deep as it is wide. The sides of the pit are covered with wet clay and smoothed by hand in the same manner as mud walls are constructed. The pit is covered with a layer of twigs and leaves and is sealed with a layer of wet clay to represent a chamber. A stick is pushed through to make way for smoke to be inhaled from a side angle. Before sealing the pit, a rock is placed at the base of the pit. When the bamboo stick is pushed through the chamber surface, it will go as far as the rock and not beyond.


Depiction of poor man's Chillam by Robin Ade in [1]

References

  1. Clarke RC., Hashish, Red Eye Press.
  2. Alam SE., Prevalence and pattern of smoking in Pakistan, J Pak Med Assoc. 1998 Mar;48(3):64-6.
``xEFuVZZplAlRDhnljiV``x1345770898``xculture``xEnglish``xIt is said that all the credit of the beautification of the Hujrah goes to the Chillum, i.e., without it the Hujrah will be incomplete and dull. Men get together for their evening discussions, prepare a chillum or two, and pass it around as the night lingers on.``x``x``xOmar Usman``x``x``x``x``x``x``x``x1``x``xculture, folk, chillam``x``x``x``x Mullah Omar Pegham Zawab``xadmin``x

خادم امیر الموُ منین ملا محمد عمر نه
زه د یوه انسان په حیث سیفت باندی
دا پښتنه سوال تا نه کوم چی
خادم امیر الموُ منین ملا محمد عمره
ته باید د انسانانو په منځ کې فرق ونه کړی
ته باید د انسانانو په منځ کې داسی کومی
بدی غلتی ویناوی خبری ونه کړی
چی ستا له خبرو ویناو نه څوک بی ځایه
غلت بد مفهوم برداش ورنه واخلي
ته د باید خپلو خبرو ویناوو مشورو ته
ډیر زیات پام وکړی غور فکر ورته وکړی
ډیر زیات هواری سموالی ځان سره باید ولری
بل ته باید هر خواته وګوری هر خواته
هر ځای ته هر وطن ته هر چاته وګوری
فکر غور ورته وکړی بل ته باید د د هر ځای
هر وطن د هر چا له حال احوال ژوند نه
ښو او بدو نه خبر شی په پوهه شی
دا زه په د خاتر باندی درته وایم یا لیکم
چی ته خو دا دعوه کوۍ دا لوی نوم ځان
باندی ټپی یا دا لوی نوم ځان ته ورکوي
خادم امیر الموُ منین ملا محمد عمر

څوک چی دا لوی لوړ نوم مقام شوهرت
ځان ته ورکوي یا دا ټافه په ځان لګوي
هغه خلک باید د یوه لوی غټ جیږ لوړ
فکر غور احساس زړه چیښتنان وي
باید لوړ لوی سبر حوصیلی ولري
باید د هر رنګه اخلاص صداقت ریښتینولی
د خوښیو خوشحالیو صاحیبان مالیکان وي
باید په زړه کې احساس کې فکر کې
هیڅ کوم کین بوغض نفرت ونه لري
باید د دنیا له هرقه رنګه قانون عدالت
انصاف نه خبر وي په پوهه وي زده یی وي
باید د خوارانو غریبانو بی چاره ګانو
ضعیفو بی وضلو خلکو له حال ژوند رفتار
کیردار نه خبر وي ورته معلوم وي
باید د نورو انسانانو له دین مذهب ریواج
کلتور نه خبر وي په پوهه وي معلومات
په کې ولري چی نور انسانان څه کوي
که دغه شیان علم تعلیم پوهه زده کړه
معلومات ولري یا په کې وي
بیا بعد له دغه نه دوۍ یا دا خلک
کولی شي چی په ځان باندی دا رقم
ټافه ووهي یا دا لوړه جیږه غټه رتبه
وظیفه ځان ته ورکړي
خادم امیر الموُ منین ځان ته ووایي

زما په خبرو مه خپه کیږه کومه
بده غلته ټافه هم مه راباندی مه وهه می لګوه
زه تا نه خادم امیر الموُ منین ملا محمد عمره
دا پښتنه سوال کوم چی ایا ته دا پورتني
خوی خاصیت پوهه معلومات لري
ته له نورو دینونو مذهبونو ریواجونو کلتورنو نه
خبر یی معلومات لری دا معلومات درسره شته دي
تا په خپله دوره دوران زور قدرت دولت کې
د لراو بر لوی تول کته او پورته افغانستان کې
کوم ولایت کومی منتیقی سمت ته ځای کلي ته
سفر وکړ یا ورغلی د خوارانو غریبانو
بی چارګانو د حال احوال ژوند پښتنه د وکړه
کله دا ورته وویلی چی وه زما جنګ جګړو
ځپلو وهلو اولسه چیشی څه کوی څه مو حال ده
څه چیشی خوری سکۍ چبشی څه کسب کار
مسروفیت لری یا یی کوی په چیشی مسروفه یی
بل آ نور وطنونه مملکتونه هیوادونه خو پریږده
می یادوه څی چیشی څه په کې تیریدل

خادم امیر الموُ منین ملا محمد عمره
تا دا سفرونه وکړل یا چیرته لاړی ورغلی
بل خادم امیر الموُ منین ملا محمد عمره
ته خو ځان د ټول افغان اولس مشر لارښود
ځان بولی یا مشر لارښود ځان ته وایی
ته د افغانستان د اولس د ( هیندوانو ) له کلتور
ریواج جشنونو اخترونو نه خبر یی معلومات لری
د افغانستان د ( هیندوانو ) اولس ته به څوک
کوم مشر امیر خادم امیر الموُ منین به ورته
د دوۍ د جشنونو اخترنو مبارکي ورکوي
یا څوک کوم مشر امیر خادم امیر الموُ منین به
د جشنونو اخترنو مبارکي ورته وایي
ښه فکر غور وکړه ( هیندوان ) هم زمونږ
لوی مهربانه خدای هست کړي دي پیدا کړي دي
ژوند یی ورکړی ( هیندوان ) هم زړونه لري
احساس لري ژوند خوشحالي خوښي پیژني

خادم امیر الموُ منین ملا محمد عمره
دا ښه عبادت کار عمل کړنه خو تا ونه کړه
بل خادم امیر الموُ منین ملا محمد عمره
که چیری یا نور انسانان د بل د نورو
دینونو مذهبونو انسانان خلک د خپلو وطنو
د ظالمانو سیتمګرو له لاسه ستا وطن کور ته
راشي ته هغو دا رقم انسانانو خلکو سره کوم
رقم څه رقم چلند رفتار کیردار کوي
خادم امیر الموُ منین ملا محمد عمره
ته به دی انسانانو خلکوته د دوۍ د خپلو
ریواجنو کلتورونو جشنونو
اخترونو( د مبارکې ) پیغام به نه ورکوي
مباره کي به نه ورته وایی

بل خادم امیر الموُ منین ملا محمد عمره
دا پښتنه سوال تانه کوم چی ته د هغو
انسانانو خلکو باره کې څه نضر لری
یا کوم څه رقم چلند کړنه به ورسره کوی
یا چیشی ورسره کوي هغه خلک انسانان
چی دوۍ ته هیڅ وخت هیڅ کله هم هی چا
د خدای رسول مذهب دین لاره نه ده ورښودلی
یا د خدای رسول مذهب دین لاره نه پیژني
د دغو انسانانو خلکو باره کې څه نضر لری
یا کوم څه رقم چلند کړنه به ورسره کوی

بل خادم امیر الموُ منین ملا محمد عمره
ته خو خبر نه یی زیات معلومات نه لری
هم دا اوس هم دا نن هم دغی موډیرنۍ
زمانی کې خلک انسانان له تر اوسه پوری
لا تر اوسه جامی کالي نه لري جامی کالي
نه پیژني په ډاګو دښتو ځنګلو کیکدیو کې وسي
ژوند کوي دغه انسانان خلک هم زمونږ
لوی مهربانه خدای پیدا کړي هست کړي دي
که چیری دغه سی دا رقم ستا کور وطن ته
درشي خادم امیر الموُ منین ملا محمد عمره
ته کوم رقم څه رقم چلند ور سره کوي

اوس که چیری یو څوک په ځان باندی
د خادم امیر الموُ منین ټافه وهي یا دا لوړ
لوی جیږ غټ نوم ځان ته ورکوي
باید ډیر زیات لوړ جیږ غټ علم تعلیم
پوهه معلومات ولري زده وي
باید هیڅ کله هم هیڅ وخت
خادم امیر الموُ منین تنها د خپلو ملګرو
دوستانو هڼډیوالانو هم غږو هم مذهبو
هم دینو د خوښیو خوشحالیو راحت
اسانۍ لپاره د خبری مشوری نه کوي
د دوۍ لپاره د کړنه کیردار نه کوي
تنهاد دوۍ غم د ورسره نوي
نورو خوارانو غریبانو بی چاره ګانو
بی وضلو ظعیفو انسانانو خلکوته

ده هم فکر کوي غور د په وکړي
بل خادم امیر الموُ منین ملا محمد عمره
خوار غریب بی چاره عجز تنها دیته
نه وایي چی خواړ سکاک روزي یی
کمه لیږ وي یا یی ونه لری
خوار غریب بی چاره عجز دیته هم وایي
چی علم تعلیم پوهه زده کړه ونه لري
د دین مذهب خدغی رسول په باره کې
معلومات ونه لري یا یی نه پیژنی
دی ته هم خواران غریبان بی چاره ګان
عجز بی وضله ظعیف وایي

بل خادم امیر الموُ منین ملا محمد عمره
ته د افغانانو د افغانستان دا بد غمجن
دردناک خترناک حالت نه ونی
خبر په نی ویدی یی چیری یی
خادم امیر الموُ منین ملا محمد عمره
تا ولی دا دومره وخت دا دومره زیاتو
د دردناکو خترناکو غمجنو پیښو کړنو
عملونو په باره کې موضوع کې
کوم پیغام راونه لیږه مشوره ډاډګیرنه
نصحیت وصیحت د راونه لیږله
چی اوس یو دم نا سافه یو دمي
د ( د اختر د مبارکي ) فیغام لیکنه
د راولیږله راواد ستوله

بل خادم امیر الموُ منین ملا محمد عمره
تا ولی د ( پاکستان ) د ظلم سیتم د تیري
د راکیټنو د ویستلو د کونړ د نوریستان
په بی ګناه عجزو غریبو اسانانو یی راولي
تا ولی کوم فیغام لیکنه ډاډګرینه د ونه کړه
مشوره خبره نصیحت وصیحت د راونه لیږه
ولی د په خپلو انتیهاریانو حملو باندی
د ( پاکستان ته ) ځواب ورنه کړ
ولی د اینتاهري حملی په ونه کړی

بل خادم امیر الموُ منین ملا محمد عمره
ستا ملګري دوستان انتیهاریان ولی د څه
لپار د چیشي لپاره د بی ګناه مضلومو
غریبو انسانانو منځ کې په بازارونو
ښارونو کې ځانونه ته انفجار ورکوي
اینتیهاري حملی کوي که هر خوار غریب
بی چاره غرب کاره په کې مړ ووژل شي
فرق نه کوي کوم فرق نه لري
چی چانه کوڼډی ایتمان پاتی شي
دربدره بی چاره غریل شي
د چا مور او پلار خور
او ورو وژړیږي ودردیږي
فرق نه کوي کوم فرق نه لري تاسو ته

خادم امیر الموُ منین ملا محمد عمره
ستاسو د اینتیهاري حملو اینفیجاراتو چاودنو
په ښارو بازارو کې هغه ځایو کې چی
بی ګناه خلک اناسانان وسي تږ راتږ کوي
او تاسی اینتیهاري حملی کوي
او د وطن د افغانانو د دښمنانو ظالمانو
د ظلمونو سیتمونو بمبارونو وحشتنو
په منځ کئ کوم فرق توفیر شته ده
تاسو کوم فرق توفیر پهذکی کولی شۍ
په ننګرهار کې د کابل بانک دپیښی
او بی ګنا لغمانیانو د وژنی قتلی عام
په باره کي ته څه نضر فکر لری
خادم امیر الموُ منین ملا محمد عمره
ته ولی په دغو خبرو کړنو عملو کیردارو
باندی یا په دغه باره څه چیشی نه لیکی
کوم فیغام خت لیکنه نه رالیږي

بل خادم امیر الموُ منین ملا محمد عمره
دغه دوه ورځی مخ کې مونږه ولیده
چی په دغه مباره که میاست روزه کې
نیمروز قندوس هیرات کې ستاسو
ظالمو اینتیهاریانو سومره بی رحمه
ظالیمانه حملی د بی ګناه خلکو اسانانو
په منځ کې وکړی سومره خوار غریب
انسانان په کېزووژل سو زخمیان شول
ته د افغانانو د خواری غریبي بی چارګۍ ته
وګره فکر وکړه او ستاسو د ظلمونو ته
سیتمونو ته وګو ره داس څوک کوي
له دښمن ظالیم نه خو ګیله نه کیږي
او باید هم څوک له دښمنانو نه ګیله ونه کړي
دا تاسو ولی بی ګناه انسانان وژنی
اینتیهاري حملی په کوۍ ولی د څه لپاره

بل خادم امیر الموُ منین ملا محمد عمره
د خبره باندی ښه فکر غور وکړه
دا نن ورځ چی په افغانستان کې
څوک یا کوم نفر «» اسکری ته پولیسی ته
ځي په کې شامیلیږي وظیفه په کې کوي
دا ټول د بی کاری + بی چاره ګي غربۍ
له لاسه د خپلو فامیلو اولادوو د خوراک
نفقې لپاره «» اسکری پولیسی ته ځي
په کې شامیلیږي وظیفه په کې کوي
او هم دغه اسکر پولیس هم مسلمانان دي
د مسلمان مور او پلار غولاد بچیان دي
پلار مور لري خور ورور لري
اولادونه بچیان میرمنی لري

ولی یی بی ګناه ناهقه نا خبره وژنی
حملی په کوی په مرمیو یی سوري کوی
لږ د وطن خواری غریبۍ بی کاری
بی علمۍ بی تعلیمۍ ته هم فکر غور کوی
آ متل د چی په خره مو زور نه رسیږي
په کتو باندی خو خولی مه لږوۍ
دا هر چاته معلومه ده چی غټ شتمن
د لویو غټو جیږو رتبو یا وزیران
دا نور واړه ناپوهه بی عقل بی چاره
خوار غریب انسانان خلک د مجبوریت
د خوراک سکاک د ډیرو کمو لږو معاشو
تنخاوو په خاتر عستمالوي استیفاده ور نه کوي
بل غټ لوی د جیږی رتبی خاوند شتمن پیسداره
وزیر امیر یا د دوۍ بچیان اولادونه هیڅ وخت
اسکر پولیس کیږي نه اسکری پولیسی ته نه ځي
غټو شتمنو پیسدارو وزیرانو امیرانو ته
هیڅ کوم نقصان تاوان زرر نه رسیږي
که اسکران یا پولیسان مړه شي زخمي شي

بل خادم امیر الموُ منین ملا محمد عمره
ظلمونو غلتیانی نارواوی خو مو ډیری وکړی
کومه یوه به درته یادومه ستایم به یی
هم دا اوس تازه روانه پیښه چی ده
تا ولی د نیمروزقندوز په حملی ظلم باندی
څه ونه لیکل کوم فیغام د راونه لیږه
غم شریکي خواخوږي د ونه کړه
او چوپ غلی خاموشه وی
دغو کورنو فامیلونو ته ته کومه
مباره کۍ ورکوۍ کوم فیغام لری !؟

بل خادم امیر الموُ منین ملا محمد عمره
دغه د ( اختر د مباره کۍ ) فیغام لیکنه
د د څه لپاره د چیشي لپاره د کوم متلب
مرام هدف چل او ول غلولو لپاره
دا فیغام لیکنه د راولیږله ولی !؟!؟!؟

وسلام
ذبیح

``xEFuVkklFFEQiOfagth``x1345228331``xpoetry``xPashto``xظلمونو غلتیانی نارواوی خو مو ډیری وکړی
کومه یوه به درته یادومه ستایم به یی
هم دا اوس تازه روانه پیښه چی ده
تا ولی د نیمروزقندوز په حملی ظلم باندی
څه ونه لیکل کوم فیغام د راونه لیږه؟؟``x``x``xذبيح``x``xد ملا عمر د پېغام لیکنۍ ځواب``x``x``x``x``x``x``x``xtaleban, poetry``x``x``x``x Pashto School Text Books``xadmin``x

We are providing a mirrored copy of some pashto text books for levels 1-12. The books have been prepared by the Afghan Ministry of Education.

We would like to add that the 2009 version of the books initially appeared on an unknown website (banury.web.officelive.com) but since the said website is not active any more, we are providing a copy here at Khyber.ORG.

Update (2 Sep, 2012): Newer versions of these books (2012) are available at the (Afghan Ministry of Education website). (Link is not working now)

Update (9 Dec, 2012): The books for the newer versions (2012) at MOE website are now mirrored here as well.

Following is the list of textbooks

Level 1

1.Islamiat(2009)(2012)
2.Maths
(2012)
3.Pashto(2009)(2012)
4.Living(2009)(2012)
5.Handwriting
(2012)
6.Arts
(2012)

Level 2

1.Islamiat - Hanafi(2009)(2012)
2.Islamiat - Jafari
(2012)
3.Maths(2009)(2012)
4.Pashto(2009)(2012)
5.Living(2009)(2012)
6.Handwriting(2009)(2012)
7.Arts(2009)(2012)

Level 3

1.Islamiat - Hanafi(2009)(2012)
2.Islamiat - Jafari(2009)(2012)
3.Maths
(2012)
4.Pashto(2009)(2012)
5.Living(2009)(2012)
6.Handwriting(2009)(2012)
7.Arts(2009)(2012)

Level 4

1.Islamiat - Hanafi(2009)(2012)
2.Islamiat - Jafari(2009)(2012)
3.Maths
(2012)
4.Dari(2009)(2012)
5.Pashto(2009)(2012)
6.English(2009)(2012)
7.Social Studies
(2012)
8.Handwriting(2009)(2012)
9.Arts(2009)(2012)
10.Science(2009)(2012)

Level 5

1.Islamiat - Hanafi(2009)(2012)
2.Islamiat - Jafari(2009)(2012)
3.Maths(2009)(2012)
4.Dari(2009)(2012)
5.Pashto(2009)(2012)
6.English(2009)(2012)
7.Social Studies
(2012)
8.Handwriting(2009)(2012)
9.Arts(2009)(2012)

Level 6

1.Islamiat - Hanafi(2009)(2012)
2.Islamiat - Jafari(2009)(2012)
3.Maths(2009)(2012)
4.Science(2009)(2012)
5.Dari(2009)(2012)
6.Pashto(2009)(2012)
7.English(2009)(2012)
8.Social Studies(2009)(2012)
9.Handwriting(2009)(2012)
10.Arts(2009)(2012)

Level 7

1.Tajweed
(2012)
2.Hadees(2009)
3.Islamiat
(2012)
4.Biology(2009)(2012)
5.Tarbiat(2009)
6.Chemistry(2009)(2012)
7.Dari(2009)(2012)
8.Geography(2009)(2012)
9.History(2009)(2012)
10.Maths
(2012)
11.Geometry(2009)
12.Pashto
(2012)
13.Physics(2009)(2012)
14.Arabic
(2012)
15.English
(2012)
16.Civics
(2012)
17.Arts
(2012)
18.Vocational Training
(2012)
19.Ethics(2009)

Level 8

1.Tajweed
(2012)
2.Hadees(2009)
3.Islamiat
(2012)
4.Biology(2009)(2012)
5.Tarbiat(2009)
6.Chemistry(2012)
7.Dari(2009)(2012)
8.Geography(2009)(2012)
9.History(2009)(2012)
10.Maths(2009)(2012)
11.Geometry(2009)
12.Pashto(2009)(2012)
13.Physics(2009)(2012)
14.Arabic
(2012)
15.English
(2012)
16.Civics(2009)(2012)
17.Arts
(2012)
18.Vocational Training
(2012)

Level 9

1.Tajweed
(2012)
2.Hadees(2009)
3.Islamiat
(2012)
4.Biology(2009)(2012)
5.Economics(2009)
6.Chemistry(2009)(2012)
7.Dari(2009)(2012)
8.Geography(2009)(2012)
9.History(2009)(2012)
10.Maths(2009)(2012)
11.Tarbiat(2009)
12.Pashto(2009)(2012)
13.Physics(2009)(2012)
14.Arabic
(2012)
15.English
(2012)
16.Civics
(2012)
17.Arts
(2012)
18.Vocational Training
(2012)

Level 10

1.Cultural Studies
(2012)
2.Tafseer(2009)(2012)
3.Islamiat
(2012)
4.Biology(2009)(2012)
5.Computer Science
(2012)
6.Chemistry(2009)(2012)
7.Dari(2009)(2012)
8.Geography(2009)(2012)
9.History(2009)(2012)
10.Maths(2009)(2012)
11.Geometry(2009)
12.Pashto(2009)(2012)
13.Physics(2009)(2012)
14.Geology(2009)(2012)
15.English
(2012)

Level 11

1.Cultural Studies
(2012)
2.Tafseer(2009)(2012)
3.Islamiat
(2012)
4.Biology(2009)(2012)
5.Computer Science
(2012)
6.Chemistry(2009)(2012)
7.Dari(2009)(2012)
8.Geography(2009)(2012)
9.History(2009)(2012)
10.Maths(2009)(2012)
11.Trigonometry (2009)
12.Geometry(2009)
13.Pashto(2009)(2012)
14.Physics
(2012)
15.English
(2012)
16.Civics
(2012)

Level 12

1.Aqeeda(2009)
2.Tafseer
(2012)
3.Islamiat
(2012)
4.Biology(2009)(2012)
5.English
(2012)
6.Chemistry(2009)(2012)
7.Dari(2009)(2012)
8.Geography(2009)(2012)
9.History(2009) (2012)
10.Maths(2009)(2012)
11.Trigonometry(2009)
12.Geometry(2009)
13.Pashto(2009)(2012)
14.Physics(2009)(2012)

``xEFuuAuZyFVwFAYRhzK``x1344947635``xbooks_2012``xEnglish``x

We are providing a mirrored copy of some pashto text books for levels 1-12. The books have been prepared by the Afghan Ministry of Education.``x``x``x``x``x``x``x``x``x``x``x1``x``xeducation``x1``x``x``x Medusoid``xadmin``x

پوهان مخکې په دې توانېدلي ول، چې داسې يوه کيمياوي ماده جوړه کړي، چې د ماليکولونو فورمول يې د لمر له وړانګو سره داسې تعامل وکړې چې محرک شي یعنې د لمر خوا ته وخوځېږي، چې په بيالوژي کې دغه پروسې له رڼا سره مېنې يا ((photophilia)) وايي او د په نباتاتو کې د فوتو سينتېز يا له رڼا نه د انرژي اخيستلو ((photosynthesis)) پروسيجر پياوړی کوي، ځکه نو نباتات، ګلونه او په تېره بیا لمرګل مخه تاوده لمر ته اړوي، چې له لمره اړينه انرژي واخلي، چې د خاوري نه د اخيستو تغذيوي موادو د هضم لپاره د فوتوسينتېز په بڼه يې وکاروي، چې خپله تغذيه بشپړه کړي.

نن سبا په پوهنيز ډګر کې ډېرې پرمختياوې او بیوتخنيکي پرمختګونه رامنځ ته شوې دي، چې نن سبا پوهان په ګڼشمېر څېړنيزو مرکزونو کې د بيولوژيکي عناصرو په جوړولو بوخت دي. د امريکا د ((Harvard University and Caltech)) په څېړنيز مرکز کې په دې توانېدلی دي، چې د موږک د زړه د سلولونو (حجرو) په کرنې او ودې سره داسې يو بيولوژيکي موجود خلق کړې چې په اوبو کې د سمندري کنديلونو په بڼه وخوځېږي، چې حرکات يې د ژوندي مېدوزا لمبووهلو ته ورته کېږي.

امريکايي پوهانو د موږک د زړه سلولونه وروسته له کرنې په يوې نازکې، نرمې او شفافې سرپټې پلاستيکي کڅوړه کې داسې ځای پر ځای کړې، چې د پلاستيکي کڅوړې نازکوالی د موږک کرل او روزل شوي د زړه سلولونه پکې کولی شي خپله خوځېدنه تر سره کړې. د څېړنې له پروتوکول سره سم دغه مصنوعي مېدوزا يا سمندري کنديل په اوبو کې د برېښنايي څړېکې په ترڅ کې لومری ځان غونج کړ او بيا يې بېرته پرانيست، چې وروسته له دې پخپله په حرکت راغی، چې د مصنوعي مېدوزا دغه حرکات په اوبو کې د طبيعي لامبوهونکې مېدوزا خوځېدنې ته ورته دي. د پلاستيک نرموالی د دې امکانات رامنځ ته کړې، چې د زړه د سلولونو خوځېدنه د انقباض او انبساط په بڼه تر سره کړي او د زړه حرکت ته ورته حرکت وکړي. امريکايانو خپل دغه مصنوعي خلقت ته د ((Medusoid)) نوم ورکړی دي، چې د ((Nature Biotechnology)) په وروستۍ پوهنيزې مجلې کې خپاره کړي دي.

د څېړنې نظر هغه مهال رامنځ ته شو، چې د امريکايي د څېړنيز مرکز يو څېړونکي د مېدوزا او د حیواناتو د زړه خوځېدنې سره پرتله کړې او په هغوی کې يې ځينې ورته والی په ګوته کړ، نو دې پايلې ته ورسېدو، چې د زړه د پمپ کولو ځانکړتياوې د مېدوزا په بڼه جوړ شوي مصنوعي بحري قنديل يا مېدوزوييد کې وښيي، نو ځکه يې دغه مصنوعي خلقت رامنځ ته کړ. اوسمهال د بيوتخنيکې څېړنو پوهان په دې هڅه کې دي، چې يو داسې مصنوعي مېدوزوييد جوړ کړي، چې د عصبي او مغزونو ((neuron)) د ساده سلولونو په مرسته وکولی شي له چاپېريال سره غبرګون وښيي يعنې د انرژي په لټه کې شي او یا د لمر له وړانګو سره عکس العمل وښيي.

پايله

د بيوتکنالوژي پرمختګ کېدلی شي په راتلونکي کې د دې امکانات رامنځ ته کړي، چې د دغه تخنيک په مرسته د انسان غړيو ته ورته بيولوژيکي غړي لکه زړه، ينه، بډوډي او داسې نور جوړ شي، چې په دې برخه کې د جېنانجينيري او بيوتخنيک په مرسته د بدن د يوشمېر غړيو د جوړولو امکانات رامنځ ته شوي دي، چې د بېلګې په توګه د غوږ يا پزې د پرېکېدلو او يا لمنځه تللو په ترڅ کې د بيوتکنالوژي په مرسته ساختګي بيولوژيکي غوږ پوزه جوړه شي او ناروغ ته پينه شي او د دې امکانات هم ډېر دي، چې د ډېرو ناروغيو د درمل لپاره بيو تکنالوژي د روغتياپالنې يو نوی پوهنيز اوښتون رامنځ ته کړي.


``xEFuFVZypyFBjspLgtT``x1343576063``xtechnology``xPashto``x
پوهان مخکې په دې توانېدلي ول، چې داسې يوه کيمياوي ماده جوړه کړي، چې د ماليکولونو فورمول يې د لمر له وړانګو سره داسې تعامل وکړې چې محرک شي یعنې د لمر خوا ته وخوځېږي، چې په بيالوژي کې دغه پروسې له رڼا سره مېنې يا ``x``x``xډاکټر لمر افغان``x``xمېدوزوييد يا د سمندري کنديل مصنوعي بديل``x``x``x``x``x``x1``x``xtechnology``x``x``x``x Thalassemia``xadmin``x

تلاسيميا د وينې يوه ارثي ناروغي ده، چې په ترڅ کې يې د وينې نيمګړي او يا غير نورمال هيموګلوبين جوړېږي، چې هيموګلوبينوپاتي (hemoglobinopathy) هم ورته ويل کېږي. هيموګلوبين د وينې په سروګرديو (erythrocytes) يا سرو کوروياتو کې يو ډول پروتينونه دي، چې په وسپنه سمبال دي. په وينه کې د هېموګلوبين دنده دا ده، چې د بدن ټولو برخو او غړيو ته آکسيجن ورسوي او له نسوجنو نه کاربونډاياوکسايد (CO2) رااوخلي او سږيو ته يې ولېږدوي، چېرې چې کاربونډاياوکسايد له ساايستنې سره له بدنه ايستل کېږي. يو نورمال هيموګلوبين د پروتينونو څلور زنځيرونه لري، چې دوه يې الفا (γ) او دوه يې د بېتا (β) ګلوبولين په نامه يادېږي. د تلاسيميا ناروغي هم په دوو غوره بڼو الفا (γ) او بېتا (β) تلاسيمياو وېشل کېږي، ځکه چې د هيموګلوبين د پروتينونو (γ) او (β) زنځېرونو ته په نېغه ښودنه کوي.

تلاسيميا يو اوتوسامال رېسېسيو (autosomal recessive) ناروغي ده، چې يو شمېر ماشومان له دغه ناروغي سره زېږېږي او د بشپړ درملنې امکانات يې نه شته. په نړۍ کې په ميليونونو خلک په دغه ناروغي آخته دي. الفا (γ) تلاسيميا زېاتره په هغو کورنيو کې موندل کېږي چې د آسيا په جنوب-شرق کې مېشت دي، لکه هندوستان، چين، فيليپين او د سيمې نور ملکونه. بېتا (β) تلاسيميا زياتره د مديترانه د سمندر چاپېر ملکونو لکه يونان، قبرس، تورکيه، ايتاليا او منځني ختيز سيمو کې چې افريکايي او آسيايي نژاده دي، موندل کېږي.

الفا (γ) تلاسيميا

د پلار او مور څلور جېنونه (دوه د پلار لخوا او دوه د مور لخوا) د الفا ګلوبولين د زنځير د جوړېدو ژمن دي، خو د دغه الفا ګلوبولينونو نېمګړتيا د الفا تلاسيميا د رامنځ ته کېدلو سبب ګرځي، چې د ناروغي تشدد يې د نيمګړو جينونو په شمېره پورې اړه لري.

مخکې ياده شوه، چې تلاسيميا يو اوتوسومال رېسېسيو ناروغي ده. اوتوسامال معنی دا ده، چې دغه ناروغي جنس يعنې نرينه يا ښځينه اړخ نه لري، یعني پلار او مور کېدلی شي دغه ناروغي خپل اولاد ته په ارثيت ورکړي او نرينه او ښځينه ماشوم دواړه کېدلی شي په دغه ناروغي آخته شي. دا چې ولې تلاسيميا يوه رسېسيو ناروغي ده، نو هغه بيا له لاندې سپړنې ښکاري. د سم هيموګلوبين د جوړښت لپاره څلور جېنونه وظيفه لري چې پوره الفا ګلوبولينونه جوړ کړي. د تلاسيميا تر ټولو خطرناکه بڼه هغه مهال ده، چې د هېموګلوبين د جوړښت لپاره درې يا څلور نيمګړي جينونه ولري. د بيتا زنځېر لرونکي هېموګلوبين د پروتين لپاره دوه جينونه اړين دي. د ناروغي تشدد هغه مهال پياوړی وي، چې يو ماشوم د دغو دوو اړينو جينونو نيمګړې يا ناقصه بڼه په ارثيت واخلي .

بېتا (β) تلاسيميا

د بيتا تلاسيميا په پېښېدو کې هم ارثيت خپله اساسي ونډه لري. د بيتا زنځیر لرونکو پروتينونو په جوړښت کې دوه جېنونه اړين دي، چې د نيمګړيو جېنونو په ترڅ کې بېتاتلاسيميا رامنځ ته کېږي. ناروغ ماشوم ته نېمګړي جېنونه د پلار يا مور لخوا په ارثيت کې ورکول کېږي، بيتا تلاسيميا هغه مهال رامنځ ته کېږي، چې يو له دغو دوو جېنونو ناقص يا نيمګړی وي، نو دغې ناروغي ته آسانه تلاسيميا (beta thalassemia trait) وايي، چې د دغه ناروغي په بهير کې ماشوم ته کمخوني پيدا کېږي، اما صحي خوراک او د درمل په توګه يې نسبي تداوي کېږي. کله چې د ناروغ دواړه جېنونه نيمګړي وي، نو د منځني ستونزو يا متوسطه تلاسيميا (beta thalassemia intermidia) او يا هم بله بڼه چې ډېره سخته ناروغي ده او د لويې يا پياوړې تلاسيميا (beta thalassemia major) په نامه يادېږي، رامنځ ته کېدلی شي. د تلاسيميا په دغه سخته ناروغي کې ډېره شديده کمخوني پيدا کېږي او دغه ناروغي ته د (Cooley`s anemia) يا د کولي کمخوني هم وايي. تلاسيميا نورې ځانګړې بڼې هم لري، چې د نورو جېنونو له نېمګړتيووا سره پېښېږي:

د تلاسيميا ناروغي نښې او نښانې هم ستونزمنې دي. د تلاسيميا د ناروغانو شکايت او نښې يو ډول نه دي، يو شمېر ناروغان ډېر کم شکايت کوي او د ناروغي نښې نه پکې ليدل کېږي، خو نور بيا د ناروغي ډېرې پیاوړې نښي لري، رنځور پخپله هم ډېر ناروغ وي او د ناروغ درملنه زياتره په روغتون کې بايد تر سره شي. د تلاسيميا ناروغي د يو ماشوم له زېږېدنې سره ليا موجوده وي، مګر ډېر لږ ماشومان د دغه ناروغي نښې نښاني په لومړيو څو مياشتو کې لري، چې وروسته له ۶ مياشتو د ناروغي نښې په ناروغ کې راڅرګندېږي او ورو ورو يې پياوړتيا ليدل کېږي. د دغه ناروغي ډېرې نښي له کمخوني سره تړاو لري او په ټوليزه توګه ډېرې پياوړې نه وي، خو بيا هم په ماشوم کې ستړتيا، نفس تنګي، بې سېکتيا او ستوماني تر سترګو کېږي. د ناروغ رنګ تښتېدلی وي يعنې پوستکی يې کمخونه ښکاري او سپين تښی وي. دغه نښې په لويه تلاسيميا کې تشخیصېږي او ډېر ژر په ماشوم کې راڅرګندېږي. د تلاسيميا ناروغي سره تړلې ستونزې زياتره د ناروغي په پياوړتيا پورې اړه لري او په تېره بيا د تلاسيميا د درملنې په موده کې رامنځ ته کېږي:

د تلاسيميا تشخيص په پيل کې ستونزمن دی، مګر طبيعي خبره ده، چې د دغه ناروغي د تشخيص لپاره د ماشوم له پلار او مور سره د ماشوم د حالت په اړه پوښتل ډېر غوره ګڼل کېږي، چې د ماشوم وده، فعاليت او ورځنی ژوند څنګه تېرېږي. د ماشوم ليدل او کتل په تشخيص کې خپل غوره اړخ لري، چې د کمخوني نښې، ډنګروالی، د ماشوم بې سېکتيا، خوبجني، ستوماني او کم اشتهايي د دغه ناروغي نښې ګڼل کېدلی شي.

د ناروغي د سم تشخيص لپاره بايد يوه سمه تشخيصي اډانه او پلان جوړ شي، چې د ناروغي پېژندنه سمه تر سره شي او له تشخيص سره سم د تداوي سم پلان ورته جوړ شي او د ماشوم پلار او مور د ناروغي او درملنې په اړه پوره معلومات تر لاسه کړي، چې د خپل ماشوم مراقبت او ساتنې ته نوره هم سمه پاملرنه وکړي.

د تلاسيميا په اړه روغتياپالنه د دغه ناروغي د نا بشپړې درملنې له ګواښ سره مخامخ ده. تلاسيميا يوه ارثي ناروغي ده او نشي کېدلی چې بشپړه تداوي شي. نننۍ روغتياپالنه کولی شي د ناروغي نښې او درمليزې ستونزې تر کنټرول لاندې راولي او د ناروغ ځورېدنه کمه کړي. د پرلپسې د وينې د ورکولو يا (blood transfusion) په توګې د ناروغانو ژوند ژغورل کېږي، د ناروغ ژوند او جسمي حالت يې بهتره کېږي، د ناروغ شکايات او ځورېدنه هم کمېږي، مګر بيا هم ناروغان د وينې اخيستلو د ستونزو لکه په وينه او بدن کې د ډېرې وسپنې پاتې کېدل د ګڼشمېر ستونزو ګواښ رامنځ ته کوي. ډېر ناروغان د زړه او ينې د وظيفوي نيمګړتيا له کبله ليا په ځوان عمر کې مړه کېږي، خو د تلاسيميا په تداوي کې د وينې او بدن د وسپنې د کمولو درملنه (chelation Therapy) په ترڅ کې د ناروغ عمر ډېرېږي، ژوند يې ښه کېږي او شکايات يې هم کم وي .

د تلاسيميا درملنه هم ستونزمن کار دی، ځکه چې د تلاسيميا درنځورانو د ناروغي بڼه له يو او بله توپير لري، نو يو ډاکټر بايد د هر ناروغ لپاره د هغه د درملنې يو ځانګړی تشخيصي او درمليز پروګرام جوړ او پلی کړي. د ناروغ مور او پلار ته د رنځور د روغتيا او ناروغي د درمل په اړه هر اړخيز معلومات ورکړي، چې د ناروغ په تداوي کې د پلار او مور همکاري ډېره غوره ګڼل کېږي . له بل پلوه د ډاکټر، ناروغ او د هغه د کورنۍ له غړو سره د اعتماد زمينه پياوړې کېږي.

د تلاسيميا بنسټيزه درملنه د کمخوني، د ناروغ د شکايتونو يا د ناروغي د نښو تداوي ده. د درملني بنسټيزه موخه د ناروغ د رنځورتيا د ستونزو او شکايتونو کمول او د درمليزو ستونزو مخنيوی او يا تر کنټرول راوستل دي. د تلاسيميا اساسي درملنه په خپل وخت سره د وينې ورکول (blood transfusion) او د بدن تقويه کول دي او د دې ترڅنګ د بدن ژغورل له اضافي وسپنې دي، چې د ترانسفوژين (وينې اخيستنې) په ترڅ کې بدن ته جذبېږي او په نسجونو (توکيو) کې پاتې کېږي. په داسې ملکونو لکه ايټاليا، هالنډ او يو شمېر نورو پرمختللو ملکونو کې د تلاسيميا د تداوي لپاره د دهډوکو د مغز ترانسپلانتېشن يا ناورغ ته له بل چا نه د وېنې د بنسټيزو يا سټو سلولونو ورلېږدول (bone marrow transplantation-BMT)دي، تر سره کېږي.

پرته له سيکلسېل تلاسيميا (sikkelcel thalassemia) نه د تلاسيميا په نورو بڼو کې د هډوکو د مغز د بياکرنې پروسيجر (BMT) يا د تداوي دغه توګه ډېره موفقه ده او روغتياپوهان د دې سپارښتنه کوي، چې هغه ماشومان چې د تلاسيميا په شديده بڼه آخته وي، نو يو داسې څوک دې پيدا کړي، چې د ناروغ لپاره د هډوکو وينه يې يا د هډوکو مغز يې د د ترانسپلانتېشن د تداوي لپاره د کارولو وړ وي، يعنې چې د (BMT) پروسيجر ته مناسب وي، چې ناروغ ته يې د هډو ماغزه وروکرل شي.

په روغتياپالنه کې د جېنېتيک اينجنيري په پراخه پيمانه کارول کېږي، چې د تلاسيميا په برخه کې هم د جېنېتيک انجينيري د کارولو هڅې په يو شمېر ملکونو کې روانې دې او پوهان ورته ډېر په تمه هم دي، چې د (genetic engineering to thalassemia) په مرسته د درملنې نوي امکانات رامنځ ته شي. د دغه پرمختللي تخنيک ځانګړنه په دې کې ده، چې د موليکولي او هستوي تخنيک په مرسته د نېمګړو جېنونو له ليرې کولو سره د سمو جېنونو ځای پر ځای کول دي، خو تر ننه دغه توګه ليا بريالۍ شوې نه ده.

پرته له دغو توګو د وينې د سټو سلولونو د کرنې او ودې چې د (stem cell cloning for thalassemia) په نامه يادېږي، هغه تخنيک دی، چې د وينې د سلولونو له سټې-حجرې نه نوي کلونونه يا بېلې شوې حجرې په لابراتوار کې کرل کېږي او وده ورکول کېږي او بيا د ناروغ په بدن کې د (stem cell therapy) په بڼه ځای پرځای کېږي، چې پايله يې په بدن کې د سمو هيموګلوبينونو توليد او د وينې د سمو سرو کوروياتو جوړول دي.

د ډېرو ماشومانو توری (spleen) د تلاسيميا ناروغي په ترڅ کې لويېږي او له اړتيا سره سم د جراحي عمليات په ترڅ کې ايستل کېږي، نو دغه ناروغان يو کاوړی ايمون سيستم يا د بدن کاوړی دفاعي سيستم لري، چې د انتاني ناروغيو په مقابل کې يې مقاومت کم وي، نو ماشومان بايد د ځينو پېښو لکه د عملياتېدلو، د غاښونو د ايستلو او يا هم د بل انتاني ناروغ سره پاتې کېدلو په ترڅ کې، د انتاني ناروغيو د مخنيوي لپاره انتيبيوتيک وکاروي. ځوانان او يا بالغ ناروغان بايد په داسې حال کې د انتيبيوتيک سمه درملنه تر سره کړي. ټول ماشومان، ځوانان او لويان چې د تلاسيميا ناروغي لري، نو بايد د سږي د باکتېريا ضد واکسينېشن (pneumococcal vaccination) او د والګي يا زوکام کلنی اړين واکسينېشن چې د مني په موده کې وي او (influenza vaccination) نومي، پر خپل وخت واخلي.

د تلاسيميا د درملنې بله ستونزه د وينې اخيستلو (blood transfusion) په ترڅ کې په بدن کې د وسپنې جذبېدل او ډېروالی دی. د ناروغ بدن نه شي کولی د وينې دغه ډېره وسپنه مصرف کړي او يا يې له بدنه وباسي. په ينه کې ډېره وسپنه کولی شي د ينې التهابي او وظيفوي تشنج رامنځ ته کړي، چې د دغه ناانډولتيا په ترڅ کې د ينې وظيفوي نيمګړتيا، د ينې سېروز او يا د ينې سرطان رامنځ ته شي. په زړه کې د وسپنې کېناستنه د زړه د نېمګړتيا او د زړه د سکتې سبب کېدلی شي. په بدن کې د وسپنې زياتوالی کولی شي د بدن د مرغړيو هارموني نينونې هم کاوړې يا په ټپ ودروي، چې د درقيي غدې نېمګړتيا، د پښتورګو د هارمونونو نيمګړتيا، د انسولين نيمګړتيا، په نرينه کې د تېستوستېرون او په ښځينه کې د اېستروجېن د کموالي سبب ګرځېدلی شي. د اينسولين د کموالي په ترڅ کې کېدلی شي ناروغ د شکر په ناروغي هم آخته شي.

له بدنه د اضافي وسپنې د ايستلو او يا کمولو لپاره يو شمېر ځانګړي درمل کارول کېږي. له بدنه د وسپنې د ايستولو درملنې ته (chelation Therapy) هم وايي. نن سبا له بدنه د وسپنې د ايستلو لپاره داسې درمل لکه (Desferal, Ferriprox or Exjade) کارول کېږي، چې په بدن کې وسپنه کموي او په وينه او نسجونو کې د وسپنې د ډېروالي مخنيوی کوي. همدا ډول د ناروغانو په درملنه کې سمه ډوډۍ، د ويتامينونو کارول هم غوره ګڼل کېږي، چې د ويتامين سي (vitamin C) لکه د يو ښه اوکسېډانټ په توګه، د کارولو سپارښتنه هم کېږي.

په درنښت

``xEFuFVZVpFFZjShwbzZ``x1343575033``xtechnology``xPashto``xتلاسيميا د وينې يوه ارثي ناروغي ده، چې په ترڅ کې يې د وينې نيمګړي او يا غير نورمال هيموګلوبين جوړېږي، چې هيموګلوبينوپاتي (hemoglobinopathy) هم ورته ويل کېږي. هيموګلوبين د وينې په سروګرديو (erythrocytes) يا سرو کوروياتو کې``x``x``xډاکتر لمر افغان``x``xتلاسيميا``x``x``x``x``x``x1``x``xmedicine``x``x``x``x Islam Arzakhtuna o Bashari Zahniatuna``xadmin``x

نن سبا په نړۍ کې پر مسلمانانو د ظلم انتها خپل څلي ته رسېدلې ده، د نړۍ په هر ګوټ کې پر مسلمانانو محشر جوړ دی. هېڅوک نه پوهېږي، چې د کفارو ځمکنی دوزخ ورته جوړ شوی دی يا دا چې مسلمانانو خپله ځانونه د حماقت په سکروټو ډاډه کړي دي. د غليم لخوا خو د عربي پسرلني انقلابونو تر نامه لاندې د اسلامي نړۍ په ګڼشمېر ملکونو کې داسې ټولنيز پرهارونه جوړ شوي دي، چې نننۍ اسلامي نړۍ يې په ټولنيزه او ذهني انارشي کې لاهو کړې ده او ټولنيز پرهارونه يې ورځ تر بلې نور هم پراخېږي او ژورېږي.

غير اسلامي نړۍ يا د کفارو ملکونو په ټولو اسلامي ملکونو کې هغه غوبل جوړ کړی دی، چې کفار ترې خوند اخلي، کمونيستان پرې شخوند وهي او د اسلامي ملکونو واکمن، شتمن او ځواکمن بيا خپلې چړچې پکې کوي، مګر اسلامي ولس په ټوله نړۍ کې ځپل کېږي، رټل کېږي او په خپلو وينو کې لمبول کېږي، چې د سپيو او مسافر هغه متل، چې وايي ((د سپیانو په خپلو کې جنګ وي، خو مسافر ته يې يوه وي)) ورپه يادوي.

مخکې به صليبي جنګونه په يو ډول ول، مګر نن سبا يې بله بڼه غوره کړې ده. نن سبا د اسلامي ولس پر ضد له عيسوي نيولې تر يهوده په لوېديز کې او له هندو نېولې تر بوديست او سکه په ختيز کې لاسونه يو کړي دي، چې په ډله يزه توګه مسلمانان هلته او دلته وژل کېږي. په بوسنيا کې د لسهاو زرو انسانانو وژل، په بيرما کې د مسلمانانو ژوندي سوځول، په عربي ملکونو کې د انارشي رامنځ ته کول، په مصر، ليبيا او سوريا کې قبيلوي شخړې لمسول، ديني جګړې رامنځ ته کول، مذهبي اورنو ته لمن وهل او د بې وزلو د سوځېدليو ټولنو لمبې اوچتول او په ګڼشمېر اسلامي ملکونو لکه افغانستان، عراق، ليبيا، سوماليا او داسې نورو مخامخ يرغل کول، هغه اسلام ضد پاليسي ده، چې په پرلپسې توګه د اسلام د مقدس دين له ظهوره بيا تر ننه په يوه او يا بله بڼه تر سره کېږي.

موږ او تاسو په افغانستان کې د بين الافغاني د جګړې د څلورمې لسيزې په درشل کې يو، چې په خپل هېواد کې مو له دوو ميليونو ډېر هېوادوال تر ننه ووژل شول او ليا هم وژل کېږي. تر اووه ميليونه افغان وګړي نن سبا پردېس دي، خو که سم فکر وکړو نو د افغاني ټولنې د بدمرغيو عاملين که نړيوال ځبرځواکونه او يا سيمه ييز ګاونډيان ول، مګر د افغاني ناخوالو ممثلين او يا لوبغاړي بيا خپله افغانان دي، چې هېواد يې د خپلو سليقو او بنسټپاليو جار کړی دی، چې له پرهارونه ډکه ټولنه يې ننني نسل ته په ميراث پرې اېښې ده او د راتلونکي نسل ژوند له ناندرو سره مخامخ دی. د خواشيني ځای خو دا دی، چې د افغاني ناخوالو مسؤلينو بيا تر ننه د افغانستان نوي نسل ته د ټولنيز ژوند سمه مارېينه وړاندې نه کړه، مګر ليا يې خپل اولاد په خپلو سليقوي شخړو کې ډوب کړی دی.

زما د دغه ليکنې سرليک ((اسلامي ارزښتونه او بشري ذهنيتونه)) دی، چې موخه يې د لوستونکو پام هغو پټو او بربنډو توپيرونو يا ټولنيزو ټکرونو ته دی، چې د اسلامي نړۍ ټول هېوادونه يې په يوه او يا بله توګه پکې ښکېل کړي دي او نننی له ستونزو، حسادتونو او سياليو ډک ژوند يې ورپه برخه کړی دی، چې يو عامل يې د مسلمانانو بې سوادي او يا له پوهې سره کرکه او بل عامل يې د خلکو ټنبلی ده، چې يوازې د څو پاکستاني ديني يا ايراني اخوندي کتابونو په لوستلو بسنه کوي، خو د نړۍ تخنيکي ودې او تکنالوژيکې اوښتونو ته يې شا کړې ده، مګر بيا هم غواړي چې له پر مختللو ملکونو سره په لوږه، بېچاره ګي او بدمرغي کې سيال پاتې شي، چې په افغانستان کې هم څوک د مليتوب او څوک هم د ياغيتوب ببولالې وايي، مګر د اسلامي نړۍ ۲ ميليارده اُمت او د افغانستان ۳۰ ميليونه ولس يې له هېره ايستلی او خپله سيمه او اسلامي نړۍ يې د اور په بټۍ اړولې ده.

زه څه موده مخکې په يو نړيوال هوايي ډګر کې د خپل سفر په موخه منتظر وم او د وخت د تېرولو لپاره د هوايي ډګر د انټرنت کافې خواته ورغلم او په انټرنت کې مې برېښنا پاڼې کتلې، نو دغه مهال راته يو بل مسافر رانېژدې شو او په انګرېزي يې رانه وپوښتل، چې آيا زه عرب يم! خو ورغبرګه مې کړه، چې نه عرب نه يم! نو بيا راته په فارسي لګيا شو ((شما کوردېن و فارسي بلدېن!))، ما سر ورته وخوځاوو، چې نه کورد هم نه يم! بيا يې راته وکتل او ويې ويل ((زبان را که مېخوانيد، حرف های عربي دارند، ولي عربي نېستېش، پس اين کدام زبانې؟))، ما ورته وويل، چې دغه پښتو ده! نو را ته يې کړو: اې، پشتو ام زبانې! زبانې کجايه! ما ورغبرګه کړه، چې د افغانستان ژبه ده! بيا يې راته ويل، چې پس شما فارسي بلدېن، بيا فارسي صحبت کنېم!

دغه شخص په بييه ټيټ وو، زېړې سترګې يې وي، ويښته يې خورمايي سره ول او نرۍ شنډې يې وې. زه پوه شوم، چې ايرانی خو دی، مګر د څه شي په مورد کې ورسره خبرې وکړم. مخکې له دې چې زه څه ووايم، نو راته وايي، چې: در ملک مان شکر ۹۸٪ مسلمانن، ۲٪ مان سوني اند! ما چې دغه خبره واورېدله، نو ورنه مې وپوښتل، چې تاسو څه کار کوی! راته يې وويل، چې: من استاد اجتماعيات در دانشګاه ام، در ايران، درين نزديکي ها پروفيسور مېشوم! ما هم په زړه کې تېر کړل، چې اوس دې لا ښه! دغه خو پروفيسور هم دی، خو سونيانو ته د کفر خطاب هم کوي! نو اوس به څه کوې! بيا يې له ما وپوښتل چې په افغانستان کې څه حال دی، نو ما هم ورلنډه کړه، چې زموږ په ملک کې هم ۸۵ ٪ سوني مسلمان دي، ۱۳ ٪ شيعه دي او نور يې ګډوډ دي. دغه خبرې تېرې شوې، مګر د دغه پروفيسور صيب خبرې مې په ذهن کې تلپاتې شوې!

دا ټولو ته څرګنده ده، چې مسلمانان په دوو څانګو يعني شيعه (۲۰-۱۵ ٪) او سوني مذهبه (۸۵-۸۰ ٪) وېشل شوي دي، خو بيا دغه څانګې په خپل منځ کې هم په ګڼشمېر لښتيو وېشل شوې دي، چې سونيان په حنفي، شافعي، مالکي او حنبلي بېلېږي او وهابيزم سره له سلفيزمه هم د سونيانو د برخې وړې څانګې دي. د سونيانو په منځ کې د حنفي مذهب له ۴۵ ٪ تر ۷۰ ٪ تشکيلوي، چې زموږ د هېواد مذهب هم حنفي دی. د اسلام مقدس دين څېړل او يا هم سپړل د يوې رسالې په محتوا کې نه ځايېږي، مګر بيا هم زه هڅه کوم، چې د اسلام د مقدس دين د پنځو ستنو په رڼا کې د ځينو مذهبونو کړو وړو ته يوه لنډه کتنه وکړم.

د اسلام مقدس دين لومړی رُکن د طيبې کلمه ده: لا الله الاللهُ محمدُّ رسول لله، مګر ما يو ځل له يوه ايراني شيعه نه وپوښتل، چې تاسو د طيبې کلمه څه ډول وايی، نو کليمه يې داسې راته تېره کړه: لا الله الاللهُّ محمدُّ رسول لله و علیُّ ولی اُلله ، خو يوه موده راسره د پاکستان د پنجاب يو وګړي ګډ کار کولو، نو له هغه مې هم يو وار دغه ورته پوښتنه وکړه، نو هغه بيا کليمه داسې ياده کړه: لا الله الا للهُ محمدُّ رسول لله و علیُّ وسيع اُلله، نو بيا تر ننه پوه نه شوم، چې ولې د دغو مذهبونو تر منځ په کليمه کې يووالی نشته. څه موده مخکې طالبانو يو سړی کلک نيولی وو، چې کليمه ورته تېره کړي، خو هغه خوار په هېڅ نه پوهېدو او بيا يو څېڼيور طالب جنګيالی افغاني دولتي چارواکو نيولی وو او ورته يې ويل چې څو ډوله کليمې پېژنې! اوس دا تاسو او دا هم د کليمو توپيرونه.

د اسلام دويم رُکن لمونځ دی. د لمانځه او اوداسه په برخه کې هم د بېلابېلو مذهبونو توپير له ورايه ليدل کېږي. توپيرونه له اوداسه نه نيولې د لمانځه تر ادا کولو پورې ډېر دي. څوک په اوداسه کې لاسونه له ورغويو څنګل خواته مينځي او څوک يې له څنګله د ورغويو خوا ته. يو شمېر پښې مسحه کوي او نور يې بيا حتمي مينځي. د عسکرانو لپاره لمونځ له عسکري بوټونو سره جايز دی، بس عجيبه کارونه دي. موږ حنفيان په ورځ کې پنځه وخته لمونځ کوو، نور يې يا ډېر کوي او يا يې کم کوي. څوک لاسونه په نامه نيسي، څوک يې په ټټر نیسي بيا نور په لمانځه کې لاسونه خوشې کوي. څوک پښې نيژدې کېږدي بيا نور يې پراخې کېږدي او د بل مقتدي له پوندو سره يې ونښلوي، چې ګواکې شيطان ترې تېر او بېر نه شي. په کېناستو کې هم د مذهبونو تر منځ توپير شته دی، څوک د پښو په پوندو کېني او څوک بيا د خپړې په تله ناست وي. پوښتنه دا ده، چې بې سواده خلک کوم لمونځ زده کړي او په څه ډول د لمانځه حرکات پر ځای کړي!

د زکات په اړه به ډېر څه نه ليکم، ځکه چې هېڅوک يې په خپله خوښه نه ورکوي، يا به يې په زور ترې اخلې او يا به يې له وېرې ورکوي، خو په شيعه ګانو کې بيا د خمسه ورکړه هم رواج ده، چې د اهل بيت برخه ګڼل کېږي. د حج مراسم هم په شيعه او سوني کې توپير لري، څوک کربلا ته تګ حتمي ګڼي او ورځي او نور بيا بسنه په مکې او مدينې کوي! په دې برخه کې هم بنسټيز توپير ليدل کېږي، چې ځينې د عمرې په حج بسنه کوي او نور بيا حج اکبر ته په تمه وي.

ما لکه ډېرو نورو افغانانو غوندې د اسلام په اړه لومړنۍ زده کړې په مدرسو کې کړې دي، چې د ملا صيبانو خبرې مې ليا اوس هم په ذهن کې شته دي، خو ډېرو پېښو ته هغه مهال چې لاځوابه وم، نن هم د لا ځوابي په همغه ګرداب کې لاهو يم. د جولای په ۲۰ نېټه د ۲۰۱۲ ميلادي کال د اسلام د مقدس دين درېيم رُکن يعنې روژه پيل شوه، چې د افطار يا روژه ماتي او همدا ډول د پشلمي دقيقه موده د روژې په مياشت کې ډېره غوره ګڼل کېږي، ځکه ليا په افغانستان کې به ملايانو ويل، چې روژه وروسته د ملا له آذانه ماته کړی، نو د افغانستان په بېلابېلو سيمو کې به چا راديو ته غوږ نيوه، چې د روژه د ماښام د آذان سره سم په خپل وخت روژه ماته کړي او يا به يې د سيمې جومات د ملا آذان ته غوږ نيولو او روژه يې ورسره ماتوله. همدا ډول د پشلمي په اړه هم ويل کېدل چې په دقيق وخت خوړل، څښل بايد بند کړی، اودس وکړی او د روژې نيت وکړی!

د مقدسې روژې په اړه د بقرې په سوره کې داسې راغلي دي:

أَيَّامًا مَّعْدُودَاتٍ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ فَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ وَأَن تَصُومُواْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ

۱۸۴ آيت: د ټاکلشويو ورځو لپاره به روژه نيسی، مګر هغه څوک چې په تاسو کې ناروغ دي، يا مسافر دي بيا دې نورې ورځې روژه ونيسي. دلته د روژې د تکاپو لپاره ارزښت ټاکل شوی دی، د هغو چا لپاره، چې نه شي کولی روژه ونيسي، بايد يو بې وزلي ته ډوډۍ ورکړي. که څوک په خپله خوښه روژه ونيسي، نو ښه به وي. د روژې نيول هغه مهال ثواب لري، چې څوک يې په ارزښت پوه شې.

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيَ أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلاَ يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُواْ الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُواْ اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

۱۸۵ آيت: د روژې مياشت هغه مياشت ده، چې قرآن کريم لکه د لارښوونې سمه رښکۍ د انسانانو لپاره پکې نازل شوی دی، چې د لارښوونې او توپيرنې يو واضح ثبوت دی. څوک چې غواړي دغه مياشت محسوسه کړي، نو روژه دې ونيسی. مګر هغه څوک چې ناروغ دي يا مسافر دي، په نورو ورځو دې روژه ونيسي. پاک الله ستاسو آرامي غواړي نه ستاسو ناکراري. که څوک د روژې شپې ورځې بشپړې کړې، هغه به د پاک الله اعظمت ته درنښت وکړې، ځکه چې ته په سمه لار يې او ته به شکر ګذاره وې.

موږ ته چې څه ويل شوي، هغه دا دي، چې روژه په ټولو بالغو انسانانو فرض ده. ناروغان، شودې ورکونکې ميندې، امېدواره ښځې، د مياشتني دورې په موده کې ښځينه، شيخ الفاني او لېوني انسانان مستثنا دي، خو په افغانستان کې هغه متعصبين يا مبلغين ګرځي، چې حتی دغه استثناعات هم په پام کې نه نيسي. هغه د ((خدا داد يا خدا بېردې))، چې په پاړسو کې بيا يزدانبخش هم ورته وايي، کانه په ټولو کوي او وچ او لومد ټول په دغه بې انصافي کې سوځول کېږي.

زما ژوند په بهرنيو ملکونو کې تېر شو، نو له روژې سره مې هم خپل خيالونه او اندېښنې پيدا کړې دي. کله په داسې ملک کې وم، چې حتی حلاله غوښه هم نه پيدا کېدله، نو ورځې شپې به مو په کبانو او هګيو تېرولې او کله به په داسې ځای کې پېښ شوم، چې له سهاره به يو وار په ۱۵۰۰۰ (پنځلسزرو) جوماتونو کې محمدي آذان وشو او له شيرين خوبه به يې پاڅولم، خو نن سبا هم په يوه داسې سيمه کې ژوند کوم، چې چاپېرګاونډيان مې کفار دي، چې نه د روژې په راتګ خبرېږي او نه يې هم په تګ! بس يو زه يم چې زړه مې ورته رپېږي او سترګې مې يې انتظار کوي، خو يو شمېر دوستان بيا مخکې له مخکې يو د مبارکي ايمېل هم راواستوي، چې: رمضان مبارک! نو زه له ځانه سره وايم، چې اسلامي ملکونو کې په روژه کې هم خوراکي توکي قيمته کېږي او خلک يې هم له غربته ټوله ورځ وږي نس هېخوا او دېخوا په روزي پسې ګرځي، چې ماښام ته به هم په نس موړ شي او که نه! نو دا څه ډول مبارکي ده! زه خو روژه يو فرض ګڼم، چې نه کړل يې ګناه ده! نو ځکه زه هم روژه نيسم! او يا کېدی شي شعوري ګټه به پکې وينم!

د روژې بله په زړه پورې پېښه دا ده، چې په ډېرو کفري ملکونو کې اسلامي مرکزونه نه شته او نه هم په اينټرنېت کې د هرې سيمې د روژې د مهال وېش په اړه څه موندلی شې، بس خپل ساعت ته به ګورې او شېبې به شمېرې. په مدرسو کې يې يوه موده راته ويلي شوي ول، چې کله په سيمه کې آذان نه کېږي، نو د تورو سپنسيو او سپينو سپنسيو ګوټک واخلی او تر هغه روژه مه ماتوی، چې د دواړو ګوټکونو توپير و نه شی کړلی، يعنې چې سپين سپنسي هم لکه تور غوندې ووينی، نو ما هم دغه تجربه يو ځل تر سره کړه، خو د روژه ماتي له اصلي وخته ليا دوه ساعتونه نور هم تېر شول، خو ما ليا هم سپين ګوټک له تور ګوټکه توپيرولی شوی، نو له ځانه سره مې وويل، چې دا توګه د شبکورانو يا هم بې عينکيانو لپاره ده، مګر نه زما لپاره!

د دې لپاره چې د سږ کال روژه هم په سمه توګه ونيسم، نو هوډ مې وکړ، چې په انټرنېت کې د روژې مهال وېش ځان ته پرينټ کړم او له شېبو سمو سره سم روژه ماته کړم او پلشمی هم سم پای ته ورسوم، مګر په مهال وېشونو کې له بېلابېلو روژه ماتيو او پلشميو له وختونو سره مخامخ شوم، نو سهار وخته ولاړم او په څو جوماتونو وګرځېدم، خو د مالکيانو (مراکشيانو) له جوماته، حنفيانو (تورکانو) له سبزي فروشي او شيعه ګانو (المناک) تر نامه لاندې د شيعه ګانو له يو دوکانه مې د روژې مهال وېشونه راواخيستل. عجيبه خو دا ده، چې نه په روژه ماتي او نه هم په پلشمي کې وختونو له يو او بل مذهب سره سر خوري، خو زما ګټه په حنفي مهال وېش کې ده، هم مې مذهب دی او هم يې وختونه ګټور دي، ځکه په دې سيمه کې شيعه ګان ۲۰ ساعته، مالکيان ۱۹ ساعته او حنفيان ۱۸ ساعته روژه نيسي. په يو شمېر ملکونو کې چې د ځمکې د اُستوا له ليکې نه ډېر شمال يا خورا جنوب ته واقع دي، نو د ورځې او شپې توپير يې نا څرګند وي، ځکه نو بيا د دغه سيمې مسلمانان روژه د خپل نيژدې ګاوند په پرتله يا هم د سعودي عربستان له وخت سره سم نيسي.

له معلوماتو سره سم روژه په پېغلوټو او تنکي ځوانانو کې د هغوی له لومړنۍ مياشتنۍ وينې او په ځوانانو کې د لومړني د مني له خوشې کېدو سره پيلېږي. زما اندېښنه دلته دا ده، چې کله موږ د يو واړه زېږېدلې ماشوم د غاښونو ايستل په پام کې ونيسو، نو د غاښونو د راوتلو لومړنۍ نښې د وريو د تخنېدلو او يا هم دردونو سره مل وي، ځکه ماشوم د مور په تي خولې لګوي او يا هم يو شی خولې ته وړي او ورۍ پکې خښوي، چې د وريو درد او تخنېدل یې کم شي، خو د غه پېښه د غاښونو د ودې پيليزه پېلامه ده، مګر نه د غاښونو پوره وده، ځکه ماشومان لومړی شيري غاښونه وباسي او بيا په اوه کلنۍ کې مخکني شيري غاښونه يې لوېږي او پر ځای يې کلک غاښونه راوځي، نو د غاښونو وده يوازې د غاښونو د راوتلو په لومړيو نښو نه پاييږي.

د پېغلوټو له لومړنۍ مياشتنۍ وينې او د ځوانانو د لومړنۍ مني توييدنه سره د هغوی د جسم وده نه بشپړېږي، ځکه نو ليا هم د رُشد په حالت کې وي، چې د بدن ټول سيستمونه لکه: عضمي سيستم، ساايستنه، د وينې جريان، بولي سيستم، جنسي وده او په تېره بيا د مغزونو وده د بلوغت په دوره کې خپله غوره دوره تېروي. تاسو ته به معلومه وي، چې د يو تنکي ځوان په شونډو له ۱۳ کلنۍ نه وروسته ورو ورو برېتونه را شنه کېږي، ځکه نو وايي چې خط پر مخ د صنم راغی! د ځوان په مخ يې ږېره را شنه کېږي، د تخرګ او پښو د کت وېښته يې راپيدا کېږي، غږ يې توپير مومي او هېکل يې لويېږي، نو درنو لوستونکو دا هغه بدلونونه دي، چې موږ يې وينو، مګر په بدن کې دننه هم د جسم ټول غړي خپله غوره او اړينه فيزيولوژيکي وده کوي، نو اوږده لوږه کېدلی شي د يو انسان د سمې ودې خنډ وګرځي او يا يې هم په نورماله وده کې توپير رامنځ ته کړي. د ځواني يا بلوغت دغه بدلونونه په نجونو کې هم تر سره کېږي، چې په هغوی کې هم اوږده لوږه د بدن د نا انډوله ودې سبب کېدلی شي، نو روژه بايد په داسې حالت کې ونيول شي، چې يو انسان کامله وده کړي وي. په ټولنيز ژوند کې يو انسان وروسته له ۱۸ کلنۍ له تنکي ځواني وځي، خو د روغتيا پالنې له نظره يو انسان تر ۲۱ کلنۍ پورې خپله وده په ټولو برخو کې بشپړوي.

په بشري ټولنو کې زياتره نجونه له ۱۶ کلنۍ نه مېړوښې کېږي، چې د روغتياپالنې له نظره تر دغه مودې پورې د نجونو جسمي وده بشپړه کېږي، خو د انسان ذهني او روحي وده بيا د چاپېريال په فينوتيپيکې عواملو په اغېز پورې اړه لري، چې ځينې نجونه بيا هم د خپلې بشپړې ودې لپاره يوې اوږدې مودې ته اړتيا لري، خو ځينې داسې انسانان هم شته، چې څو لسيزې به يې عمر کړی وي، مګر کړه او وړه به يې د نابالغه انسانانو وي، نو ښه ويل شوي، چې: ((عقل په سر دی نه په سال))، نو د يو انسان سمه روزنه هم د هغه په جسمي او رواني وده کې خپل اغېز درلودلی شي.

رابشو دې ته، چې امېدواره ميرمنې ولې بايد روژه و نه نيسي. هر انسان غواړي چې خپل نسل دنيا ته راوړي، ويې روزي او سالم يې خپلې ټولنې ته تقديم کړي. د يو نوي انسان ژوند ليا له القا پيلېږي او لومړنۍ وده يې په نطفه کې وي. له القا نه پنځه ورځې وروسته ليا په نطفه کې د انسان لومړنی زړه د وينو د رګونو په بڼه په خوځېدو راځي. د نطفې په لومړيو څو اونيو کې د بدن د غړيو بېلابېلې برخي جوړېږي او په رحم کې دغه راتلونکی انسان د خپلې مور له وينې خوراکه مواد ترلاسه کوي، نو د مور لوږه په نطفه او ماشوم ډېر اغېز لري، چې کېدی شي د ماشوم د بدن ځينې برخې سمه وده ونه کړي او د معيوبيتونو سبب شي. د نطفې د ناسمې حالت په هغه غبرګولو ماشومانو کې ښه لېدل کېږي، چې د يو ماشوم وده سمه نه وي، ځکه چې په رحم کې د پلاسينتا (مشيمة يا غبرګينه) له نا سمې ودې سره تړاو لري او د مور له وينې پوره خوارکي مواد نشي تر لاسه کول، ځکه نو د بل ماشوم په پرتله جسماً وړ او ضعيف وي. د محاشرت (خانه داري) په ترڅ کې، د حامله داري په موده او شودې ورکولو په بهير کې د دې سپارښت کېږي، چې ميندې او پلرونه له سېګرټو، دوخانياتو، الکولي مشروباتو، ګڼشېر درملو له استفادې ډ ډه وکړي، ځکه کېدلی شي د ماشوم په وده ناغېړه اغېز پرېږدي.

يوه مسلمانه يا افغانه مېرمن د خپل ژوند په اوږدو کې په منځنۍ توګه تر پينځو ماشومان راوړي، چې له ۱ تر ۲ نقصانونه هم ورپېښېږي. يوه مور تر ۲،۵ کلونو پورې خپل ماشوم ته شودې ورکوي، چې وروسته له دغه مودې يې د بل ماشوم په نس کېدلو چانس هم ډېر دی. که موږ د يوې مېرمنې د امېدواري او ماشوم ته د شودو ورکولو موده په پام کې ونيسو، نو يوه ښځه د پېنځو ماشومانو لپاره وروسته له القا نه د هر ماشوم لپاره لپاره ۹ مياشتې امېدواره وي او د القا لپاره هم تر بلې مياشتني وينې پورې هم يوې مودې ته اړه ده، چې په تخميني توګه ټول ۴ کلونه کېږي او د ۵ ماشومانو د شودې ورکولو موده بيا ټول ۱۲،۵ کلونه کېږي، چې د يوې مېرمنې د ژوند لږ تر لږه ۲۰ کلونه د اولاد په پيدايښت، تغذيه کولو او روزنه تېرېږي، چې په دغه موده کې د يوې مېرمنې لپاره د روژې نيول حتمي نه دي او په اسلامي ټولنه کې د يوې مېرمنې لپاره د روژې جبرانول د فديې په بڼه هم نا ممکن دي، ځکه چې د اسلامي ټولنو ۹۵ ٪ مېرمنې په کورنو کې ناستې دي او نفقه يې پر مېړه فرض ده، خو ګڼشمېر کونډې او بورې هم شته، چې د اولاد د نفقې پېټی يې هم پر اوږو بار دی.

د بشر تر ۱۰ ٪ خلک ليا له ماشومتوبه ناروغ ځېږېدلي وي او د دې جوګه نه دي چې روژه ونيسي او له ۳۰ ٪ تر ۷۰٪ زياتره انسانان وروسته له ۴۵ کلنې په يوه او يا بله ناروغي اخته کېږي، چې د وينې فشار يوه له ډېرو پېښېدونکو ناروغيو سره شمېرل کېږي. د وينې لوړ فشار د نړۍ په تورپوستو کې د سپين پوستو په پرتله ډېر ليدل کېږي. د ((Fields et al, 2004)) له څېړنو سره سم په اروپايي ملکونو کې تر ۴۴ ٪ ځوانانو کې د وينې د فشار ناروغي ليدل کېږي او د يو شمېر نورو پوهانو لکه ((Wolf-Maier et al, 2003)) له څېړنو سره سم په جاپان کې د وينې د فشار ناروغي تر ۷۰ ٪ رسېږي او د يو شمېر امريکايي پوهانو لکه ((Charry and Woodwel, 2002)) له څېړنو سره سم په امريکا کې په کال کې ۳۵ ميليونه خلک د وينې د فشار د شکايتونو له عمله روغتنونو او کلينيکونو ته ځي.

نن سبا د نړۍ ۲۸۵ ميليونه خلک د شکر په ناروغي آخته دي، چې زياتره يې په هندوستان او چين کې دي. په چين کې د شکر ناروغان تر ۱۵۰ ميليونه اوښتي دي. په امريکا کې ۲۸-۲۶ ميليونه خلک په شکر ناروغي مبتلا دي. په دې برخه بايد ياده شي، چې نن سبا څېړنو ښودلې ده، چې هغه ملکونه چې د سؤ تغذي سره مخامخ ول او يا يې اړين خوراکي توکې نه درلودل او لوېديزو ملکونو ته پردېس شوي دي، نو په لوېديزو ملکونو کې د پردېسو په منځ کې هم د شکر ناروغي ډېره ليدل کېږي، ځکه چې د هغوی بدن د هغو خوراکه موادو سره عادت نه وو، ځکه چې هغوی په خپلو سيمو کې د لوږې له شرايطو سره ځان عيار کړی وو، نو لوږه هم کولی شي انسان له دا ډول ستونزو سره مخامخ کړي. هر کال تر يو ميليون هندوستانيان د شکر ناروغي له کبله مري او په امريکا کې د شکر ناروغي کلنی لګښت ۴۶ ميليارده ډالره دی او په اروپا کې هم تر ۱۶-۲۰ ميلياردو آيرو پورې رسېږي. څېړنو دا هم ښودلې ده، چې د شکر ناروغي د ناروغانو کچه کال پر کال تر ۴۶ ٪ پورې لوړېږي.

ګڼشمېر نورې ناروغي هم شته، چې ناروغ ته يې د روژې نيول کېدلی شي سخت تمام شي او يا يې روغتيايي حالت داسې ستونزمن شي، چې بيا به يې مياشتې په درملنه تېرېږي او په داسې ملکونو لکه افغانستان غوندې، چې د روغتيايي مرستو بيمه نه لري، نو کېدی شي د شکر ناروغي د يو ناروغ تداوي ډېره قيمته تمامه شي او کېدلی شي په بدن کې د شکر ناروغي داسې اخطلاتات لکه ديابېتېک نفروپاتيا، ديابېتيک انجيوپاتيا، ديابېتيک ريتينو پاتيا، ديابېتيک نوروپاتيا، ديابېتېک اسيدوز او يا کوما هم رامنځ ته شي، چې بيا يې درملنه هم ستونزمنه کېږي او د انسان د ژوند کيفيت هم ورسره خرابېږي او د ناروغ عمر هم تر څو کلونو پورې لنډېږي.

د لوږې سره ډېرې داسې ناروغي لکه انورېکسيا (anorexia) چې د بدن تر څنګ د انسان په مغزي سيستم کې د رواني ستونزو د رامنځ ته کېدلو سبب ګرځي، ستونزمن کېږي. له لوږې سره په بدن کې داسې يو حالت رامنځ ته کېږي، چې د بدن د پروتينونو او نورو اړينو توکیو د لمنځه وړلو سبب ګرځي، چې دغه حالت ته بيا کاخېکسيا (cachexia) وايي، چې بدن د انوباليزم (anabolism) يا روغونې ځانګړتيا له لاسه ورکوي او د بدن استقلاب د کتوباليزم (catabolism)پړاو ته رسېږي، چې د انسان بدن ورو ورو له ډنګرېږي (پوست او هډوکی) ګرځي او انسان له منځه ځي.

د معدې التهاب، زخمونه او لوړ تيزابي حالت هغه ناروغۍ دي، چې د روژې په نيولو سره کېدلی شي، چې د معدې د دردونو، د عصارې زياتوالي، خونرېزي او سوروېدلو سبب شي، چې پايله يې د انسان مرګ کېدلی شي. په معده کې دوه فکتورو د هضم لپاره اړين دي، چې يو يې تخرېشونکي فکتورونه (د معدې تېزاب او ځينې هارمونونه، چې په هضم کې اړين دي) او د معدې دفاعي فکتورونه (د معدې القلي ترشحات او ډوډۍ چې خوړل کېږي) بېلېږي. د لوږې په ترڅ کې په معده کې ډېر تېزاب نينېږي، چې د معدې او کولمو د داخلي پوښ د تخرېش کېدلو سبب ګرځې، ځکه نو په روغتيا پالنه کې د دې سپارښت کېږي، چې انسان بايد په ورځ کې درې ځله حتمي او که کولی شي تر ۶ ځلو لږ لږ ډوډې وخوري، چې په دې توګه د معدې هاضمه حالت معتدل وساتل شي او ډوډۍ پخپله د معدې تېزاب خنثی کوي، چې د معدې او اثنا عشر (دودنوم) د تخرېشېدو، التهابي کېدو، زخمېدو او سوروېدو مخنيوي کېږي، ځکه نو د معدې ناروغانو ته داسې درمل ورکول کېږي، چې په ورځ کې يې تر څو ځلو استفاده کړي، نو روژه نيول هغو خلکو ته چې د معدې تکليف لري نا مناسب کار دی.

د انسان په بدن کې بولي سيستم ډېر غوره ګڼل کېږي، چې د دغه سيستم اساسي وظيفه بډوډي تر سره کوي، چې بدن د ناپاکو توکيو څخه پاکوي، وينه تصفيه کوي او پاتې شونې مواد له ميتيازو سره له بدنه وباسي. د بډوډو ګڼشمېر ناروغۍ تر يو ټوليز نامه لاندې (chronic kidney disease) يادېږي، د بډوډو تېږې، د ګلومرولونېفروز، هايدرونفروز، رېنال سيندرومس، بييلونفرايتېس او د بډوډو ګڼشمېر نورې ناروغۍ دي، چې په بدن کې د اوبو د کمښت له کبله کېدلی شي، چې نور هم ستونزمن حالت ته ورسېږي. نن سبا په نړې کې د بډوډو د وظيفوي نيمګړتيا له کبله خلک د دياليز پروسيجر ته اړ دي او يا هم بايد د بل چا بډوډي ورته د عمليات په مرسته واچول شي، نو تنده کېدلی شي، د بډوډو مزمنې ناروغۍ نورې هم پياوړې کړي، نو هغه خلک چې د بډوډو ناروغي لري، نو هڅه دې وکړي، چې له روژه نيولو ډډه وکړي.

په روغتيا پالنه کې ډېر داسې تشخيصي توګې کارول کېږي، چې په هغې کې د کانترست (contrast) په نامه يو ډول مواد کارول کېږي، چې بډوډي زيانمنوي، نو کله چې دا ډول څېړنې تر سره کېږي، نو په لومړي ګام کې دغه ناروغانو ته د پوره مايعاتو د څښلو سپارښت کېږي او ياهم د سيرومونو په مرسته د (pre/posthydration) درملنه تر سره کېږي، چې ناروغ ته د يوې ټاکلې مودې په بهير کې تر ۲ ليټره مايعات په شين رګو کې ورتزريقېږي، چې په دې ډول د بډوډو وظيفوي حالت ته کوم نقصان و نه رسېږي.

د پښتورګو (suprarenal gland) ناروغي هم خپل اغېز د انسان په بدن لري، چې د (adrenal exhaustion) په نامه يې يادوي، نو دغه ناروغان د هارموني درملنې تر څنګ ويتامينونو او سم خوراک ته هم اړتيا لري، پرته له سمې تداوي کېدلی شي د ناروغ بدن د وظيفوي نا انډولتيا سره مخامخ شي، چې په ځانګړي توګه د دغه ناروغانو بدن د سترس، انتاني ناروغيو او وېرې په مقابل کې مقاومت نه لري، ځکه نو بايد هر کله خپل درمل په خپل وخت وکاروي، نو اوږد مهاله لوږه او تنده کېدلی شي دغه ناروغان هم له ناڅاپه پېښو سره مخامخ کړي، ځکه نو بايد د روژې د نيولو په اړه له خپل کورني ډاکټر سره مشوره وکړي.

داسې ډېرې نوري ناروغۍ شته، چې متواترې درملنې ته اړتيا لري، چې په دغه يوه ليکنه کې د روغتيايي ستونزو ټولې بڼې نه شي يادېدلی. درمل هم خپل ځانګړنې لري. يو شمېر درمل په روغتونو کې د وينې په شين رګو او يا هم سوررګو کې تزريقېږي، خو ګڼشمېر داسې درمل شته چې بايد په ورځ کې څو ځله استعمال شي، نو په دې برخه کې د وينې د لوړ فشار او د شکر د درملنې په عمومي اډانې باندې به لنډه روښنايي واچوم، ځکه د مخکې یادو شويو ناروغيو او دهغوی د درملنې په اړه بايد يوه لويه رساله وليکل شي، نو زه په لنډو معلوماتو بسنه کوم.

په روغتيا پالنه کې د لوړ فشار درمل په لږ تر لږه پنځو ډلو وېشل کېږي:

Diuretics, Beta-blocker. Angiotensine Converting Enzyme Remmer, Angiotensine II receptor antagonist and Calcium antagonist.

د دغو درملو کارول خپله ځانګړې اډانه او وخت لري، ځېنې درمل په رګونو کې بدلون راولي، چې فشار ټيټ کړي، ځينې بيا د بډوډو له لارې د وينې فشار تر کنټرول لاندې راولي او يو شمېر درمل بيا ادرار يا ميتيازې ډېروي، چې له ميتيازو سره ناروغ د وينې پوتاشيم (K)، سوديم (Na) او فاسفور (Ph) هم له لاسه ورکوي، چې په لوږه او تنده کې کېدلی شي يو انسان د الکتروليتونو يعنې (hypo/hypernatremia) له کبله له رواني تشنجاتو سره او د (hypo/hyperkalemia) سره د زړه له سکتې سره او د (Hypo/hypercalcemia) سره د بدن له دردونو او د عضلاتو له انبساط او ټکانونو سره مخامخ شي، نو يو ناروغ چې د لوړ فشار تکليف لري بايد سم تداوي شي، که خپل درمل په وخت ونه کاروي، نو د لوړ فشار له بحران يا کريزيس (hypertension crises) سره هم مخامخ کېږي، چې دغه حالت هم د زړه او مغزونو د سکتې له مخاطرې سره مل حالت دی او کېدلی شي، چې د مغزونو د رګونو د چودېدنې سبب هم شي.

پروسږ کال د کابل په خواجه جمع شريف کې په هديره کې وم، چې له يو چا خپله يوه کليواله مېرمن هم راوستې وه او زيارت يې کولو، موټر يې ودرولو، مېرمن له موټره ليا نه وه را ښکته شوې، چې د سابندي حمله پرې راغلله او په زور يې سا ايستله! زه ورته نېژدې شوم، نو ومې وپوښتله چې مورې څنګه يې؟ نو راته يې ويل چې زړه مې رپېږي، بې سېکه یم او سا مې بندېږي، هوا نه رارسېږي! ما يې لاس ونيولو، ورته مې وويل کراره شه، هر څه به ښه شي، په مړوند مې يې لاس کېښود او نبض مې يې وکتلو، نبض يې غېر نورمال او ډېر چټک وو، نو ورنه مې وپوښتل، چې خورې دوا څه شی خورې او کوم ډاکټر ته ورغلې يې! مېرمنې راته سر وښورولو او يو کڅوړه يې له موټره راکړه! ما ترې وپوښتل چې روژه دې ده! راته يې ويل، چې هو روژه مې ده! ما يې درملونه وکتل، نو د يو درمل، چې د زړه د خوځېدنې د کنټرول لپاره ورکول کېږي، هغه مې له کڅوړې راوايست او ناروغې ته مې وروښود او ومې پوښتله: دغه درمل دې څه وخت خوړلی، نو يې راته ويل، چې پرون د شپې! ما ورته وويل، چې ډاکټر دې څه ډول هدايت درته کړی دی! ځواب دا وو، چې هر ۸ ساعته به له دغه ګولۍ يوه دانه خورې، نو ما ورته وويل، چې تاسو خو شل ساعته مخکې دغه ګولۍ خوړلې ده، نو اوس خو ستاسو په وينه او پر زړه د دغه درمل تآثيرات په نشت حساب دي! نو ځکه مو اوس د زړه خوځېدنه غير نورمال شوې ده، سا مو بنده بنده کېږي او وېرې پر سر اخيستې يې!

ما له هغو ګوليو يوه دانه له پاکټه راوايستله او دغه مظلومې مېرمن ته مې ورکړه. په روژه پسې مه ګرځه اوس دې روغتيا مهمه ده. په موټر کې مو څه راوړي دي اوبه لری او که نه. اوبه خو نشته، خو زويه له کليه مې لږ څه تروې راوړې دي، نو ما ورته وويل، چې تروې خو به مو ډېرې تروشې نه وي، نو ناروغې راته ويل، چې نه سهارنۍ دي، تازه دي او ليآ خوږې دي. ګولې يې خولې ته کړه او له تروو سره يې تېره کړه! د څو شېبو لپآره په موټر کې ناسته وه، رنګ ورو ورو تازه شو، ما يې نبض وکتلو، د زړه رپېدا يې نوره سمه شوې وه!

دغه پېښه د ناروغې لپاره يو ډېر بېړنيز حالت وو، که ريښتيا ووايم، به دغه حالت کې بايد دغه ناروغې ته ستنه لګول شوې وی، چې درمل يې ژر په وينه کې جريان پيدا کړی وی، خو دغه مهال زه د غره پر سر، تر سوځونکي لمر لاندې په هديره کې درېدلی وم، نو ځکه مې په تروو او يوې ګولې په دغه بېړنيز حالت کې بسنه وکړه. مېرمن ورسته له نيم ساعته بشپړ په حال راغله او په سپېره ډاګ يې سر تور لاس د خدای لور ته پورته کړل، شکر يې وايستلو او ما ته يې هم د هوساينې دعا وکړه! داسې پېښې زما په ژوند کې ډېرې رامنځ ته شوې دي، ځکه مې نن هم د دغه ليکنې د ليکلو هوډ وکړ.

د شکر ناروغي هم خپله ځانګړې تداوي لري، چې يو شمېر ناروغان د انسولين (insulin) ستنې کاروي او نور بيا د شکر ناروغي تابليتونه کاروي، چې ځينې يې په ورځ کې ۳ يا ۴ ځله بايد وکارول شي، ځکه بايد دغه تابليتونه په هرو ۸-۶ ساعتونو کې مريض وکاروي، پرته له دې د ناروغ په وينه کې د درمل کچه کمېږي او د شکر د ډېروالي يا کموالي له مخاطرې سره مخامخ کېږي. د انسولين درمل هم اوږدمهاله او لنډ مهاله اغېز لرونکي بڼې لري، چې اوږدمهاله يې زياتره مخکې له خوبه استعمالېږي او لنډ مهاله يې د ورځينيز ژوند له ريټم سره سم کارول کېږي. نن سبا د انسولين پمپونه هم جوړ شوي دي، چې ستنه يې تر پوستکي لاندې په بدن کې خښه کړي وي او د ناروغ بدن ته د ۲۴ ساعتونو په بهير کې اړين انسولين تر پوستکي لاندې ورنينوي يا ورتزريقوي. د شکر د نامناسبه درملنې ستونزې (hypoglycemia, hyperglycemia, acidosis) او تر ټولو ستونزمن حالت يې رواني تشنجات، بې سدتيا يا کوما (glycemic coma) ده، چې د انسان د مړينې سبب ګرځېدلی شي، نو روژه د شکر د ناروغانو لپاره يو له مخاطرې ډک کار دی.

په روژه کې د کابل په يوه کوڅه کې يوه مېرمن چې له خپل خاوند سره روانه وه، پر سړک ناڅاپي ولوېدله، زما يې درب ته پام شو، څو متره اېخوا ته پرته وه، په دوړو سپېره وه، ورنېژدې شوم، د مېرمنې د خاوند رنګ سپين تښی وو، لاسونه يې رېږدېدل، نارې يې وهلې، او خدايه مېرمن مې مړه شوه، خلکو مېرمن مې مړه شوه! مېرمنه بې سيکه په خاورو کې پرته وه، رنګ يې تک زېړ وو، په تندي يې لمدې او سړې خولې بهېدلې، ټوله رېږدېدله، ځان يې لکه مړی سوړ وو.

مېړه ته مې يې وکتل او ومې پوښته، چې مېرمن دې روژه ده! غبرګون يې غير ارادي وو، هې وروره زما مېرمن مري ته يې د روژې پوښتنه کوي! دغه زوی مړې د شکر ناروغي لري او روژه هم نيسي! ما له جوبه دوې دانې شيرنۍ راوايستې او د مېرمنې په خوله کې مې ورکړې. هلته يو تبنګچې هم درېدلی وو، خو خوږې اوبه يې نه درلودلې، مګر د فانتا بوتلونه يې په تبنګ کتار کړې ول. له هغو فانتاوو مې يو بوتل راوخيست، سر مې يې خلاص کړلو، ډېرو خلکو رډې رډې راته وکتل! مګر ما د فانتا بوتل ورو د پرتې، بې سيکه او نيمه بې سده مېرمنې خولې ته ورنېژدې کړ، مېرمنې څو غوړپه ترې وکړل!

زه پټه خوله ورته ناست وم، څه مې نه ويل او د پېښې ننداره مې کوله. مېرمن سترګې پرانيستلې، يو پلو او بل پلو ته يې وکتل او سترګې يې ورغړولې. ما ورته غږ کړ خورې څنګه يې؟ پر ما څه شوي! سترګې مې توره تياره شوې، سر مې ولاړ، ما ويل چې زوی مړې نور نو د ژوند څکه نه کوې! مېرمنې يله ګويي کوله او يا نه پوهېده! خو لاسونه يې غورځول، پښې يې ښورولې او يو او بل ته يې سره نيژدې کولې، د مېرمنې پرتوګ لومد وو، د بې سدي په حالت کې يې غير ارادي ميتيازې تللې وې! د مېړه له اوږې مې يې شال راواخيست او د مېرمن پر پښو مې يې ورواچولو. ټکسي مې ودرولو، مېړه او مېرمن دواړه په ټکسي کې پورته شول. ما لاس ورته پورته کړ، خو مړې يې له ټکسي لاس راته اوږد کړ او ويې پوښتم: وروره ته ډاکټر يې!...

د قرآن اعضيم الشان په آيت کې د روژې په برخه کې مسافرت ته هم اشاره شوې ده. داسې روايتونه شته، چې کله يو انسان په ورځ کې ۴۷ مايله، چې ۷۵،۶ کيلومتره کېږي، نو د روژې نيول پرې فرض نه دي، پرته له دې چې بل وخت وکولی شي، خپله روژه ونيسي. زما اندېښنه دا ده، چې نن سبا خلک د ترافيک په ګڼه ګوڼه کې له يوې سيمې بلې سيمې ته د ورځې تر ۳۰۰ کيلومترو واټن هم وهي، نو دغه خلک ټول کال کار کوي، نو تر ټولو خطرناکه خو ليا دا ده، چې په اوسني ترافيک کې چې يو انسان د فکر نيولو سم جسمي او رواني حالت و نه لري، نه دا چې خپل ژوند له ګواښ سره مخامخ کوي، خو همدا ډول د نورو خلکو له ژوند سره هم لوبه کېږي، چې په لوږه کې يو انسان ډېر ستومانه وي، خوبړن وي او د موټرو د ټکر امکانات يې زيات وي. ما پخپله د روژې په مبارکه مياشت کې تېر کال او درې کاله مخکې دوه ځلې ټکر کړی دی، چې له ۱۳۰-۱۴۰ کيلومتره د سړک څنګه ته له وسپنيز دېوال سره ونښتم، خو ډېر نور خلک مې هم د مرګ له مخاطرې سره مخامخ کړي دي، ځکه په اوسنۍ روژه کې په رخصتي کې کور ناست يم او دغه ليکنه ليکم. څوک به وايي، چې ۱۴۰۰ کاله مخکې سفرونه سخت ول، مګر له هېره مه باسی، چې هغه مهال هم سفر په آسونو او اوښانو کېدلو او ترافيک دا ډول له ګڼو ګوڼو ډک نه وو!

د ډاکټرانو کارونه، د دقيقو ماشينونو سره په دقت کار کول او ګڼشمېر نور مسلکونه چې د کار پر مهال ډېرې ځيرتيا ته اړتيا لري، چې دقيق کار د دغو مسلکونو يو اړين اصل ګڼل کېږي، ځکه د يو جراح په روژه نيولو سره کېدلی شي د عمليات په وخت کې داسې اشتباه تر سره شي، چې بيرته جبرانول به يې ډېر ستونزمن يا ناشونی کار وي او کله کله يوه تېروتنه د انسان د مړينې سبب هم ګرځېدلی شي، نو د ګڼشمېر کارونو او مسؤليتونو په اړه د اسلام مقدس دين د علماوو فتوا ليا هم نا څرګنده ده. څو کاله مخکې د مصر د ديني علماوو يوه پرېکړه د مصر د فوتباليستانو په اړه تر سره شوه، چې د هغوی کار (د فوتبال لوبه) يې ډېر ستونزمن وګاڼه او هغه لوبه يې د مصر ملي ارزښت وبلله، نو د خپل ملي ټيم فوتباليستان يې له روژه نيولو معاف کړل. يو شمېر بيا د جنګياليو په اړه فتوا صادره کړې ده، چې د جنګ پر مهال روژه و نه نيسي، چې نن سبا د سوريې په جګړه کې دواړه خواوې ځانونه شهيدان بولي، يو او بل ترهګر، غاصب او ظالم هم نوموي او دواړه خواوې ځانونه مجاهدين بولي او روژه هم نه نيسي! نو عجيبه د یک با او دو هوا کيسه روانه ده!

ما له ډېرو خلکو آورېدلي دي، چې يو ناروغ کولی شي د يو ډاکټر په سپارښت روژه و نه نيسي، خو اندېښنه دا ده، چې که په ټولنه کې يو څوک پوه شي، چې پلانکی روژه خوري، مخکې له دې چې د هغه په ناروغي، مسافرت، کاري اړتيا او ګڼشمېر نورو اړتياوو پوه شي، نو د کفر ټاپه پسې راواخلي او د مرتد په نامه يې ورټي. د افغانستان د طالبانو په واکمني کې يې په ډېرو خلکو د يو وخت لمونځ په ډېرو ځايونو کې څو ځله همدا يو لمونځ په تېر کړی وو او ډېر به يې پرته له اوداسه هم په لمانځه درولي وي!

پايله

د اسلام د مقدس دين خادم او اسلام پوهان بايد د مسلمانونو د يووالي او د هغوی د پوهاوي لپاره پوهنيز سيمينارونه جوړ کړي. په ټولنه کې د پوهنيز بهير سره همکاري وکړي، چې په اسلامي ملکونو کې د ټولنيزې ودې او اقتصادي پروګرامونو د پلي کولو امکانات رامنځ ته شي. په ټولنه کې بايد منورين خلکو ته قناعت ورکړي، چې د ټولنې په وده او خوداکتفا کېدلو کې د خپلو ملکونو له ادارې سيستمونو سره مرسته وکړي، چې اسلامي ملکونه په توليدي ملکونو بدل شي، نه دا چې لکه نن د نورو په مجاني توکيو به شخوند وهي.

د روژې مقدس مياشت په اړه بايد ياده شي، چې زموږ ديني عالمان بايد په دې پوه شي، چې هر انسان خپل جسمي او رواني ځانګړي خصوصیات لري، څوک به ناروغ وي، څوک به ضعيف وي او څوک به يو داسې کار لري، چې د روژې نيول به ورته نا ممکن وي او یا به د نور او خپل ژوند له ګواښونو سره مخامخ کوي، نو د ټولنې د چارواکو مسؤليت دا دی، چې خلکو ته د دې امکانات رامنځ ته کړي، چې په خپله خوښه له روژې سره مينه پيدا کړي او په خپله خوښه روژه ونيسي. د دنيا ډېر ملکونه دي، چې مسکينان نه لري او موږ هم بايد په ټولنه کې داسې شرايط رامنځ ته کړو، چې ملک مو خوداکتفا شي او په ټولنه کې بې وزله ونه لرو، بيا نو په خپله ټولنه کې د مسکين نس مړول يا فديې ته هم اړتيا نه پيدا کېږي.

``xEFuFVZFVZpXkhXInVg``x1343573570``xislam``xPashto``xنن سبا په نړۍ کې پر مسلمانانو د ظلم انتها خپل څلي ته رسېدلې ده، د نړۍ په هر ګوټ کې پر مسلمانانو محشر جوړ دی. هېڅوک نه پوهېږي، چې د کفارو ځمکنی دوزخ ورته جوړ شوی دی يا دا چې مسلمانانو خپله``x``x``xډاکټر لمر``x``xاسلامي ارزښتونه او بشري ذهنيتونه``x``x``x``x``x``x1``x``xislam``x``x``x``x 2012 Altaf Mohmand``xadmin``x

هم هغه کلې هم هغه کوڅه ده
زړه مي پکښي نه لګي چې څه قيصه ده

زما خو هسی هم ده ډيره خوښه
ښائسته ښائسته وړه وړه ده

نن دا سپوګمئی هم رانه مخ پټوی
خدائ خبر دا رانه په څه خفه ده

زه دا خپل شلېدلي ګرېوان ژاړمه
ته دې ته ګوره د خندا نه شنه ده

ما خو له ازله بس هم مینه تا سره کړې
ستا حسسن پخوانې دې که زما مینه زړه ده

دا خو یو کړئ وه چه تا تیره کړه
لا خو د دردونو سلسله پرته ده

سترګې دې شرمېږي راکتې نه شي
بیا دې جوړې کړې څه نشه مشه ده

زه ورته په شعر کې د زړه حال ووایم
دا راته زر وائی شاعری دې خه ده

رنګینه ستا شعرونه د پیښور ګلونه
هره مصرعه دي د کابل منړه ده


نور ووسيدئ نهء شم پهء دي خلقو ليونو کښي
ځم چرته ووسيږم به پهء لري تورو غرو کښي

نور کارونه هم د پښتنو کوه زړګيه
ټوله پښتو نهء ده پهء څادر او پهء څپلو کښي

د توبي نه پس چه بيا پهء ګناه سر شم
نو پښتو مي جوړي نشته پهء توبو کښي

دا چه تا تري کډه کړي ده زړګيه
زړهء مي نهء لګی د کلی پهء کوڅو کښي

ووس دي زلفي مخ نه لري کړه سحر کړه
چي ټول عمر مي تير نهء شی پهء تيرو کښي

ستا ميني پهء رشتيا جوړ ليونئ کړم
چه مي شماری ليونی هم ليونو کښي

پهء خړه پړه پښتنه ليلا ميئن يم
رنګينه ليکم پري شعرونه پهء ساده پښتو کښي


داسې درته نهء وايمه نه کنه
لږ خو مې خبرې ته غوږ ږده کنه

ځان له راته ووايا چې څهء وائ
د دنيا مخکښې مې ياره مهء رټه کنه

لاړو چې جانان دلته تهء څهء کوې
څهء شی ته ايسار ئ خو پاڅه کنه

هغه غلطی مې راته نيغه نيغه مهء کوه
شل ځله خو وشوه بس پريږده کنه

زهء خو ستا خبرې هميشه وړمه
تهء مې هم خبره کله وړه کنه

ستوروسپوږمئ هيره کړه چې وېلیدې
هسې دې اسمان کښې ځليده کنه

عشق سړئ پهء شاړو سر کوی منم
خو کله کله کور ته خو راځه کنه

رنګين خو نور درنه څهء نهء غواړې
لږ ورته مسکئ شه نو بيا ځه کنه

``xEFFVkyVFZAMSEgdQnJ``x1343534401``xpoetry``xPashto``x

نور ووسيدئ نهء شم پهء دي خلقو ليونو کښي
ځم چرته ووسيږم به پهء لري تورو غرو کښي

نور کارونه هم د پښتنو کوه زړګيه
ټوله پښتو نهء ده پهء څادر او پهء څپلو کښي

``x``x``x``x``xالطاف مومند``x``x``x``x``x``x``x``xpoetry``x``x``x``x Khyal Muhammad``xadmin``x

Ghazal master Ustad Khyal Muhammad has attained the status of a living legend. With his heavy and melancholious voice, he has perfected the art of singing Ghazals. We present a few of his popular ghazals and songs.

هجره پروګرام

Following are some Tappa's sung jointly with Haroon Bacha in their album Walwala ولوله:

``xEFukFpZpAyemBTKbEM``x1342307096``xvideo``xEnglish``x

Ghazal master Ustad Khyal Muhammad has attained the status of a living legend. With his heavy and melancholious voice, he has perfected the art of singing Ghazals. We present a few of his popular ghazals and songs.``x``x``x``x``x``x``x``x``x``x``x``x``xmusic, khyal muhammad``x``x``x``x Rahman Baba Kalam``xadmin``x

رحمان بابا خو څه د تعرف محتاج نه دې۔ داسې به يو پښتون هم نه وي، چه د رحمان بابا نوم نه خبر نه وي۔ دوئي د پښتو ژبې يو ستر صوفي شاعر وو او چه پښتو ادب کښې کوم مقام ته دوئي رسېدلي، بل شاعر هغه پائې ته هم نه رسي۔

مونږ دلته د رحمان بابا د کلام يو څو نمونې وړاندې کؤؤ۔ هيله لرو چه تاسو به خوښ شي۔

``xEFukFpEVppwrXStUIR``x1342301500``xvideo``xPashto``x

رحمان بابا خو څه د تعرف محتاج نه دې۔ داسې به يو پښتون هم نه وي، چه د رحمان بابا نوم نه خبر نه وي۔ دوئي د پښتو ژبې يو ستر صوفي شاعر وو او چه پښتو ادب کښې کوم مقام ته دوئي رسېدلي، بل شاعر هغه پائې ته هم نه رسي۔``x``x``x``x``xرحمان بابا کلام``x``x``x``x``x``x``x``xmusic, rahman baba``x``x``x``x Dubai Program``xadmin``x

``xEFukFppykFvUJYUdRY``x1342300623``xvideo``xPashto``x

``x``x``xنزير محمد و ملګري``x``xدبئي پروګرام``x``x``x``x``x``x``x``xmusic, nazir muhammad``x``x``x``x Ghaarhay o Naaray``xadmin``x

Khair Muhammad Khandan, born in 1956, is a popular singer from Paro Khel village, roughly 30 km from Khost city. He started singing whilst still at school at Rahman Baba School in Kabul.

Most of his poetry are selected from the works of Nawab Amir Zai, who also went to the same school with him. Although the poetry is not deep in meaning, it does reach through to the common man and touches topics of patriotism, and issues related to the Pashtun diaspora living in the middle east and the west. His songs have a local folk touch to them. Many of his folk songs have been rendered into new musical compositions. For instance, "Gul Sanam" by Farhad Darya was quite popular, although it was initially sung by Khair Muhammad many many years before Farhad got hold of it.

Nawab Amir Zai
Nawab Amir Zai


Original Gul Sanam song by Khair Muhammad

Khair Muhammad Khandan is also popular for another genre of songs called the Naaray. Naaray are epic poems, recounting incidents of bravery by tribe members or the whole tribe in general. They were initially sung by the older women-folk in villages and are similar to the Ghaarhi sung in Balochistan, the Kasr of the Marwats, or the Charbeta and Badala. The difference is that Naaray are sung in chorus, occassionally with drum-beats, whereas the Charbeta and Badala are sung by a single singer, and are accompanied with instruments like the Harmonium, Rabab and Tabla.

One such Naara presents the following picture:

وړکو تړلې په ملئې کمربندونه جنګ ته ځي
د پکتيا د ژڼو صبا لښکر دې

Boys are laced with bandoleers round their waists
Men of Paktia, tomorrow we go to war!

Khair Muhammad Khandan was also a candidate for the Olasi Jirga elections in 2005 from Paktia province. However, he was not successful and only managed to get 0.6% of the votes.

We provide you with some of his classical Naaray.


Note: More information about Naaray is given in this article by Muhammad Zaman Khan Achakzai

``xEFukkAAFVAdAUPyErI``x1342299359``xvideo``xEnglish``x

Khair Muhammad Khandan, born in 1956, is a popular singer from Paro Khel village, roughly 30 km from Khost city.``x``x``xKhair Muhammad Khandaan``x``xغاړې و نعرې``x``x``x``x``x``x1``x``xkhair muhammad, gharhay, folk, music``x``x``x``x Land of my Childhood``xadmin``x

Land of my childhood, how I yearn for you,
Your children so fair, maids as pretty as flowers,
Handsome, stalwart sons brandishing guns as adornment,
With gazes averted from our mothers and sisters,
And your men courteous and true to their word,
Your cities were the praise and envy of people from lands afar,
Yea, they were called the Cities of Flowers,
O where, o where, have you gone,
Land of my childhood, how I yearn for you.

The kehwa-khanas of Qissa-Khwani in Kabalae Darwaza,
The seekh kababs of Sabiri astride the ganda nallah,
The aroma of tikkae mingling with the dust and smoke,
Roganae, kulchae, amrasae and zalobae to make you drool,
Ucha mewa, sheer chai, and the chugha besides a winter log fire,
The sitar to draw a chord and mangae with accompanying beat,
O where, o where have you gone,

Land of my childhood, how I yearn for you.
The citadel of Bala Hissar of my distant memory,
With crumbling walls yet majestic and intimidating,
The Chauk Yadgar, a confluence spot of yore for the mazdur,
The Ghanta Ghar clad in its brick elegance striking the hour,
The glory of Sethi Mohalla, a pearl set in an oyster,
The masjids of Qasim Ali Khan and Mahabat Khan,
The Samdo ki Gali of Kohati Darwaza,
O where, o where have you gone,

Land of my childhood, how I yearn for you.
The plaintive cry of the mashki filling mangee door to door,
Sprinkling the parched earth on a hot torrid afternoon,
The rich age of craftsmen priding themselves in their wares,
A rich time when there was respect between the old and young,
A rich time when one's word was an irrevocable bond,
The reverence and awe of the passing Moharram procession,
The human sound of the azaan floating over the air waves,
The clip clop of a horse drawn tonga a melodious beat,
O where, o where have you gone,

Land of my childhood, how I yearn for you.
But nay, tarry a while and ponder,
How could you go away, it was I who abandoned you.
Why didn't you beckon me to stay and grow in your shade,
Why didn't you enfold me to your bosom from distant places,
Why didn't you reach out to me then, as I reach out to you now,
Why didn't you plead with me, not to forsake you to the wolves,
O why, o why did I go and forsake you my beloved.

Land of my childhood, how I yearn for you.
I berate myself for returning so late in the day,
But I perceive a silver lining in the resilience of your being,
May the Almighty cleanse your soul and restore your dignity,
I shall cherish the day when, by His will, you shall rise from the ashes like the Pheonix.
Land of my childhood, how I yearn for you.


Poetry by Lt Col Liaquat Shah (Retd) who has adopted 'Musafar' as his pen name

``xEFuEypEZZABgKDfFEP``x1341601779``xpoetry``xEnglish``xO where, o where, have you gone,
Land of my childhood, how I yearn for you.``x``x``xMusafar``x``x``x``x``x``x``x``x1``x``xpoetry``x``x``x``x Afghan Exit Program 2014``xadmin``x

درنو هېوادوالو او محترمو دوستانو!

تاسو ته معلومه ده، افغانستان د وروستيو څو لسیزو په بهير کې د ټولنیزو ستونزو، سياسي کړکېچونو او د بې امنيتي له ګواښونو سره مخامخ شوی دی، چې په وروستيو څو لسيزو کې د ځبرځواکونو د سيالۍ ډګر هم ګرځېدلی دی. په وروستيو څو لسیزو کې پر افغانستان د بېلابېلو ځبرځواکونو يرغلونه تر سره شول، چې په وروستيو لسو کلونو کې پر افغان ولس د امريکا ځبرځواک يوه بله غیر اخلاقي، نا انډوله او شؤونيستيکه جګړه تپل شوې ده، چې له بده مرغه دغې جګړې په افغانانو کې د سېپراتيزم (بېلنتوب)، اداري فساد، اخلاقي فساد او بې امنيتي امکانات رامنځ ته کړي دي. په افغاني ټولنه کې یې د بې اعتمادي، بې امنيتي او بې وزلي احساس په خلکو کې رامنځ ته کړی دی، چې نن سبا د ټولنې اکثريت په ټولنيز سايکولوژيک ستونزو اخته شوی دی.

د لس کلنې جګړې عاقبت دا شو، چې د افغاني مقاومت په ترڅ کې امريکا او د هغوی متحدين دې ته اړ شوي، چې له افغانستانه پښې سپکې کړي او په راتلونکو دوو کلونو کې د افغانستان امنيتي چارې افغانانو ته وسپاري، خو لويديزوالو له هېره ايستلې ده، چې اوسمهال افغانستان د شلمې پېړۍ په وروستۍ لسيزه کې په قومي، سمتي، ژبني او مذهبي ښکېلاک کې نښتی دی، چې د لويديزوالو ځواکونو له وتلو سره به په يو ډېر غمجن عاقبت اخته شي. له بل پلوه په رسنيو کې داسې ګنګوسې هم راڅرګندې شوې دي، چې ګواکې افغاني سرتيريو او صاحب منصبانو ته د دې شرايط رامنځ ته کېږي، چې په لوېديزو ملکونو کې پناه وغواړي، دغه ذهنيت هم په افغاني ځواکونو کې د تېښتې او بې مسؤليتي څپې خپرې کړې دي، چې عادي افغانان يې له وېرې سره مخامخ کړي دي.

موږ په هر حالت کې د افغانستان خپلواکۍ ته ارزښت ورکوو او د افغانستانه د لويديزوالو ځواکونو د سوله ييز وتلو هر کلی کوو، خو مخکې له دې چې نړيوال ځواکونه له افغانستانه ووځي، د افغانستان د سوله ييز ژوند لپاره ځيني اړين ميکانيزمونه بايد رامنځ ته شي، چې د لويديزوالو د ځواکونو له وتلو وروسته په افغانستان کې يوه ژمنه سوله ييزه اداره پاتې شي او د افغانستان داخلي امنيت په ټولو سيمو کې پياوړی شي او د بهرنيو لاسوهنو او ګواښونو مخنيوی وشي، دغو موخو ته د رسېدلو لپاره ځيني ټولنيز معيارونه بايد وڅېړل شي او په پام کې ونيول شي:

:د اداري سيستم کدري پاليسي

تاسو ټولو ته څرګنده ده، چې د افغانستان ټول اداري سيستم (مقننه، قضائیه، اجرائيه) بشپړ په فساد کې ډوب دی، ګڼشمېر يې زورواکان دي، یو شمېر يې جنګي جنايتکاران دي او اکثريت يې غير مسلکي کارواکان دي. له بده مرغه چې نه په نظامي برخه کې او نه هم په ملکي ادارو کې د خلکو کارونه پرته له بډو، سپکاوي او تنظيمي ارتباطاتو نه تر سره کېږي، د خلکو ځمکې په وچ زور نيول کېږي، يو شمېر خلک په غير مشروع توګه له ملي شتمنیو نه ګټه پورته کوي او د بهرنيو مرستو نه سؤ استفاده کوي، چې نن سبا د افغانستان خلک د نننۍ واکمنۍ نه خوابدي دي، ځان په دولتي سيمو کې بې امنه احساسوي او د مقاومت په ليکو کې ورګډېږي، چې د افغانستان نننۍ جګړې ته يې يو تلپاتی کرکتر ورکړی او افغاني مقاومت نن سبا د ملي پاڅون رنګ نيولی دی.

د افغانستان په امنيتي ځواکونو کې تر درېنيم ميليونه کارکوونکي ګومارل شوي دي، چې د جنرالانو شمېر يې له شپږو زرو اوښتی دی، ټول غير مسلکي خلک د ادارې په بېلابېلو برخو کې ګومارل شوي دي، خو تنخواوې يې بيا د بين المللي چارواکو نه هم اوچتې دي. نن سبا د افغانستان امنيتي چارې په درې ګونو څانګو (د دفاع وزارت، د کورنیو چارو وزارت، د امنيت رياست) کې د کال ۱۲ ميليارده ډالره لګول کېږي، چې د دغه امنيتي سيستم د ساتلو او وظيفوي پوتنسيال لپاره د دغه لوی لګښت امکانات افغاني ټولنه نه لري او په دې اړه بايد مشخص ميکانيزمونه وسنجول شي، نه دا چې افغانان بيا په خړ ډاګ پرېښودل شي او د خپلمنځیو شخړو قرباني شي.

کدري پاليسي په افغاني ټولنه کې يوه بله لويه ستونزه ده، چې نن سبا په لکهاو غير مسلکي خلک په اداري سيستم کې په کار ګومارل شوي، خو له ۶ ميليونو ډېر نور خلک لا د کارموندنې په هلو ځلو کې دي، چې د ټولنيزو ناخوالو يو اساسي فکتور ګڼل کېدلی شي. په اداري سيستم کې بايد يوه سمه کدري پاليسي پلې شي، چې کارونه څانګپوه او مسلکي خلکو ته وسپارل شي، ترڅو د افغانستان د ادارې لپاره يو ښه کدري بنسټ رامنځ ته شي. د کارموندنې په برخه کې بايد د امنيت او اقتصادي سيستم داسې چاپېريال رامنځ ته شي، چې سوداګر په افغانستان کې پانګونه وکړي، خو تر ټولو مهمه دا ده، چې د وګړو باور د افغانستان په اداري سيستم رامنځ ته شي، چې د افغانستان خپلواکي او مسلکي اداره د دغه باور اساسي رکن ګڼل کېږي.

افغانستان بايد خپل مسلکي کدرونه ولري، خو د دغه ټولو اهدافو لپاره امنيت، د کار زمينه او حقوقي چاپيريال ډېره غوره ګڼل کېږي. د کدري سيستم لپاره بايد لاندې ښوونيز، روزنيز او د منجمنت ميکانيزمونه پياوړي شي، چې افغان ماشومان، ځوانان، پېغلې وکولی شي په لوست سمبال شي.

په پورته يادو شويو تحصيلي او روزنيزو مؤسسو کې باید افغانان پرته له تبعيضه وکولی شي خپل روزنيز پروګرامونه پر مخ بوزي او خپلې لوړې زده کړې تر لاسه کړي او وکولی شي د مسلکي زده کړو لپاره بهرنيو هېوادونو ته د لياقت او روغ رقابت پر بنسټ ولېږل شي. په افغانستان کې بايد د تحصيلي مرجعو لپاره د موډرنېزېشن ټولې غوښتنې لکه: کمپيوټرېزېشن، انترنېټ، برېښنايي او غير برېښنايي کتابونه، موډرن لابراتوارونه، تر سره شي. ښوونيز او تحصيلي تعميراتي واحدونه بايد جوړ شي، چې د تحصيلي سيستم جوړښت بشپړ په پښو ودرېږي.

په افغاني ټولنه کې قومي جوړښت هم يو سياسي اړخ لري، چې د بېلابېلو استخباراتي موسسو لخوا د خپلو شومو اهدافو لپاره کارول کېږي، چې هر ځبرځواک په خپل وار سره دغه فکتور د افغانستان په کورنيو شخړو کې کارولی دی او زموږ خلک يې په وينو کې لمبولي دي. د نړۍ په ګڼشمېر خپرونو، کتابونو او څېړنيزو موسسو کې د پښتنو شمېر له ۵۵ ٪ تر ۷۰ ٪ ښودلی دی، خو په ځينو اساسو شرايطو کې دپښتنو سلنه په ټولنه کې ټيټه ښودل کېږي، چې دغه دريځ له پښتنو سره ټولنيزه جفا ښيي او د نورو ټبرونو لمسونې ته شرايط چمتو کوي، چې په وروستيو څو لسيزو کې يې موږ او تاسو شاهدان هم يو. موږ افغانان بايد علمي څېړنو ته په درنه سترګو وګورو او خپل ځان د احساساتو په منګولو کې لاهو نه کړو او د هرې ټولنيزې پديدې لپاره يوه علمي پرېکړه تعقيب کړو.

له خواشينۍ سره بايد ياده کړو، چې د څو لسيزو جګړو په ترڅ کې د افغانستان اقتصادي سيستم بشپړ له منځه تللی دی، نو د افغانستان د ټولنيز اقتصاد لپاره بايد هر اړخيز کار وشي، چې په دې برخه کې د کدرونو روزل او له پرمختللو پوهنتونو سره مشورې او د هغوی سپارښتونه به د افغانستان د اقتصاد لپاره حياتي رول ولوبوي، نو بیا يادوم، چې وروسته د نظامي ځواکونو له ايستلو لا ډېر څه په افغانستان کې شته، چې اصلاح شي او يا سم ووايم بېخي له سره جوړ شي.

د افغانستان په اقتصاد کې د لويو لارو جوړول، د سړکونو پخول او د هېواد امنيت يو غوره فکتور ګڼل کېدلی شي، نو سر له اوسه بايد بهرني هېوادونه هڅه وکړي، چې خپل نظامي عمليات بس کړي او ټولنيزو او ملکي پروژو ته مخه کړي، چې هم افغانان د جګړې له ذهنيته ليري شي او هم به د افغانانو او بهرنيو ملکونو تر منځ د باور زمينه رامنځ ته شي، چې په دې برخه کې د څانګپوه افغانانو مشورو ته بايد غوږ ونيول شي او د هغوي د کاري پوتنسياله بايد د افغانستان د ودې لپاره سمه استفاده وشي.

افغانستان يو زراعتي هېواد دی. د افغانستان ۷۵٪ خلک په بزګري، مالداري او يو شمېر په لاسي صنعت، چې بنسټ يې بيا هم زراعت دی، بوخت دي، نو د زراعت لپاره بايد د مېکانيزه سيستم شرايط رامنځ ته شي. نن سبا زموږ بزګران لا ځمکه په یوم او بېل اړوي، يووې او غوبل په غواګانو، خرونو او آسونو کوي. د ښه زراعت لپاره د تراکټورونو او کامباينونو د راوړلو او کارولو پروژې بايد پياوړې شي.

په افغانستان کې د اوبو ډېر سيندونه شته، خو له دغو روانو اوبو نه د افغانستان د زراعت او برېښنايي سيستم د پياوړتيا لپاره پوره کار نه دی اخيستل شوی. له بل پلوه افغانستان هغه ملک دی، چې ډېر وخت روښانه لمر لري، چې موږ کولی شو د افغانستان د دغو طبيعي امکاناتو څخه د برېښنا د توليد لپاره سمه استفاده وکړو، چې په دې برخه کې د پر مختللو هېوادونو مرستو، سپارښتونو او لارښوونو ته اړتيا ليدل کېږي، نو د افغانستان په طبيعي برخه کې ډېر څه شته، چې ورته پام وشي او په افغانستان کې سوله ييز ژوند پياوړی کړي.

افغانستان د وروستيو څو لسيزو په بهير کې د دې امکانات نه درلودل، چې د خپلو طبيعي زېرمو څخه سمه او هر اړخيزه ګټه واخلي، نو افغانستان نن هم د دې امکانات نه لري، چې خپل کانونه په مسلکي توګه راوباسي او د خپل ټولنيز ژوند او د هېواد د زېربنا لپاره ترې ګټه پورته کړي، نو بيا هم په دې برخه کې افغانستان بهرنيو ملکونو ته یوه اړه ټولنه ګڼل کېږي. له بل پلوه افغانستان د منځنۍ آسیا او د هند د تودو اوبو ترمنځ يو ښه ترانزيتي موقعيت لري، نو افغانستان دې ته اړ دی، چې بهرني پرمختللي ملکونه له افغانانو سره په دې برخه کې مرسته وکړي، چې دغه ترانزيتي لاره د افغانستان، سيمې او نړيوال سوداګري لپاره حياتي لاره وګرځي، نو د افغانستان دغه جيوپوليتيک موقعيت کېدلی شي، د سيمې د سم انډول او د افغانانو د سوکالي لپاره وکاورل شي.

د افغانستان په اړه د بهرنيو ملکونو پاليسي لا هم سمه نه ده. افغانستان د نړيوالو ځبرځواکونو د سيالۍ او د ګاونډيانو د لاسوهنو ډګر ګرځېدلی دی، خو په دغه سيالۍ او لاسوهنو کې افغان ولس برباد شو، تباه شو او په غربت کې لاهو شو، چې په وروستيو څو لسیزو کې يې تر ۲ ميليونو خلک ووژل شول، ډېر يې معيوب شول، ګڼشمېر مېرمنې يې کونډې شوې، ميندې يې بورې شوې، ماشومان مو يتيمان شول او تر ۷ ميليونو خلک مو مهاجرتونو ته اړشول. افغانستان د نړيوال مخدره موادو د قاچاق مرکز وګرځېد، چې نن سبا افغانستان تر يو ميليونه زياد روږدي وګړي لري او ټوله نړۍ يې د هيروينو له مخاطرې سره مخامخ کړې ده.

۱- د افغانستان په پېښو کې ځبرځواکونه هم خپل اړخ لري، ځکه په افغانستان کې په ورورستيو څو لسيزو کې بېلابېلو ځبرځواکونو تيري تر سره کړي، چې نن سبا هم افغانستان د ځبرځواکونو د سيمه ييزو سيالو ډګر دی، چې لاندې ياد شويو ملکونو او ځبرځواکونو خپل اغېز د افغانستان په ناخوالو کې پرې اېښی دی.

نن سبا ناټو په نړۍ کې يکه تازي کوي، خو په ننني نړيوالو شرايطو کې د تخنيک تر څنګ د سيمې ډيموګرافي خپل اړخ لري. له ۲۰۰۱ ميلادي کاله په آسيا کې د شانګهای تړون رامنځ ته شوی، چې د ناټو په مقابل کې نوی قطب ګڼل کېدلی شي. د هندو-چين فکتور بايد په پام کې ونيول شي، ځکه د نړۍ دريمه برخه نفوس چې ۲،۵ ميليارده کېږي، په همدغو دوو ملکونو کې ژوند کوي. له بل پلوه د روسیې رول ته د شانګهای په تړون کې بايد سم ځير شو، خو اسلامي نړۍ هم بايد له پامه و نه غورځول شي، ځکه د نړۍ لږ تر لږه ۲ ميليارده خلک يا مسلمان دي او يا هم له اسلام سره خواخوږي لري، نو د نړۍ د امنيت لپاره بايد دغه فکتورونه ټول په پام کې ونيول شي، ځکه نو سيمه او نړۍ بايد د جګړې له ګواښه وژغورل شي. له بده مرغه نن سبا په نړۍ کې په لسهاو ملکونه په اټومي وسلو سمبال شوي دي، چې د افغانستان چاپېريال ملکونه هم په دغه بشر وژونکې سلاح سمبال دي، نو بيا هم يادوم، چې د افغانستان امنيت، اداره او ټولنيزه وده، د ټولې سيمې د سوله ييز ژوند زمينه او د نړيوالو اټومي ګواښونو د مخنيوي تضمين رامنځ ته کوي.

د افغانستان په پېښو کې ګاونډيانو هم خپلې لاسوهنې نه دي سپما کړې او تر خپله حده يې خپلې لاسوهنې تر سره کړې دي، چې نن سبا د کلتوري، استخباراتي او نظامي سياليو مرکز هم د لاندې نومول شويو ملکونو لپاره افغانستان ګرځېدلی دی.

ځکه نو پورته ياد شوي ملکونه بايد د افغانستان په اړه يو مثبت سياست خپل کړي، چې د افغانانو، ګاونډيانو او نړيوالو لپاره لپاره د منلو وړ وي، د سولې پيغام د ټولې سيمې او ټولې نړۍ لپاره ولري، چې هم افغانان، هم سيمه او هم نړۍ د ورورولي الهام ترې واخلي. نن سبا په افغانستان کې يو شمېر زورواکان د يو او بل بهرني ملک لخوا يې ملا تړکېږي او لويه سرمايه ګذاري پر دغو زورواکانو کېږي، چې نن سبا يې په افغانانو کې د بې باورۍ، بې تفاوتۍ او جګړې ذهنيت رامنځ ته کړی دی. ښه به دا وي، چې د دغو خلکو د پولي، سياسي او ټولنيز ملاتړه لاس واخيستل شي، چې په افغاني ټولنه کې د ټولنيزو سمبولونو د رشد سمه زمينه رامنځ ته شي، چې د جګړې ذهنيت په سوله ييز ذهنيت واوړي.

د وروستيو څو لسیزو په بهير کې په افغانستان کې د بنسټپالۍ تخم کرل شوی دی. له خواشينۍ سره بايد ياده شي، چې نن افغانستان نه يوازې د بنسټپالۍ ځاله ګرځېدلې ده. له بده مرغه د بنسټپالي تر څنګ قومي، ژبني او سمتي افراط هم خپل اوج ته رسېدلی دی. د افغان ولس د ناپوهي او بې تحصيلي نه په ناوړه توګه ګټه پورته کېږي او د سوله يیز ولس ژوند يې له ګواښونو سره مخامخ کړی دی، نو د دين، مذهب او ټولنيزې فلسفې په اړه بايد سمه زمينه رامنځ ته شي، چې خلک وکولی شي د سوله ييز ژوند لپاره خپل ذهنيت په انساني ارزښتونو وپوهوي، چې د دې لپاره بيا هم امنيت، روزنيز مرکزونه، ټولنيز انډول او طبيعي خبره د کار کولو امکانات اړين برېښي.

افغانستان يو وروسته پاتې هېواد دی، اقتصادي امکانات يې له نشت سره برابر دي، خو له بده مرغه په ميليونونو ډالر په داسې رسنيو لګول کېږي، چې د افغانانو لپاره نه د سولې پيغام لري او نه هم روزنيز الهام. په افغانستان کې يواځې په کابل کې تر ۵۰ ډېر تلويزيوني چينلونه شته، چې په هېڅ بل مملکت کې يې ساری نه ليدل کېږي. نن سبا جرمني د نړيوال اقتصاد يوه لويه ټولنه ګڼل کېږي، نو څو تلويزيوني چينلونه لري! زه فکر کوم، چې شمېر به يې له افغانستانه ډېر کم وي، خو زما په ګومان د افغانستان لپاره د دومره ډېرو خپرونو درلودل يو رسنيز انارشيزم ګڼل کېدلی شي. په چاپي خپرونو کې د افغانستان رسنۍ يواځې په کابل کې تر ۱۰۰۰ اوښتې دي، چې په ټولو کې تکراري مواد خپرېږي، په ليکنو او راپورونو کې د اشخاصو، ټولنیزو او سياسي ډلو عفت او حيثيت په پام کې نه نيول کېږي او افغان ولس يې په قوم پرستي، مذهب پرستي او سمت پرستي کې لاهو کړی دی. دا پخپله د افغانستان په امنيت کې يو لوی ګواښ ګڼل کېدلی شي، نو د رسنيو څانګپوهنې ته هم بايد اړيڼ پام وشي او داسې رسنۍ په افغاني ټولنه کې فعاله شي، چې د ټولنې د يووالي، سولې، امنيت او پرمختګ لپاره د افغانانو ذهنيت چمتو کړي.

له بده مرغه په وروستيو څو لسيزو کې د افغانستان روغتيايي سيستم ته ډېر زيانونه اوښتي دي. نن سبا افغاني ټولنه يو سم او هر اړخيز روغتيايي سيتم ته اړتيا لري. تاسو ته معلومه ده، چې د هر انسان روحي، رواني، جسمي او ټولنيزه روغتيا د يوې هوسا، سوکاله او با امنه ټولنې ژمنتيا ګڼل کېږي، نو د روغتيا په برخه کې بايد داسې ګامونه پورته شي، چې خلکو ته پر وخت څانګپوهه روغتيايي مرسته ورسېږي، معلوماتي مرکزونه جوړ شي او ماشومانو ته پر وخت واکسينيزېشن تر سره شي. د روغتيايي زده کړو لپاره بايد يو پرمختللی درسي نصاب جوړ شي، چې افغاني روغتيايي چارواکي وکولی شي، خپلو خلکو ته سمه روغتيايي مرسته وکړي. په افغانستان کې بايد د روغتيايي مرستې په ټولو برخو کې تعميراتي سيستمونه جوړ شي او په نړيوال ستندرد روغتيايي مرکزونه رامنځ ته شي.

د افغانستان په راتلونکي اداري سيستم کې بايد ښکېلې ډلې په پام کې ونيول شي. د وسلوالو ډلو بې وسلې کول، د امنيت او سوله ييز ژوند تضمين دی. بايد داسې چاپېريال رامنځ ته شي، چې په نوې اداره کې صادق، کارپوه او انرژيک خلک وګومارل شي. د دې امکانات بايد رامنځ ته شي، چې د هغه شمېر جنګي جنايتکارانو او زورواکانو جنايتونه په نړيواله يا افغاني ملي محکمه کې تر څېړنې لاندې ونيول شي او له جرم سره سم سزا ورکړل شي. پرته له دې په افغانانو کې د باور، مسؤليت او ګډ کار زمينه نه شي رامنځ ته کېدلی.

په پای کې خپلې خبرې راغونډوم. زما په ګومان سر له اوسه بايد د افغانستان د زېربنا، سوله ييزو مؤسسو او ټولنيز اقتصادي سيستم بيا رغاونه باندې لاس پورې شي، چې ورو ورو د سولې چاپېريال په افغانستان کې پياوړی شي. د افغانستان د نننۍ ادارې پر ځای بايد يوه مسلکي اداره رامنځ ته شی. د راتلونکو ټاکنو لپاره بايد د نويو سمبولونو د رامنځ ته کېدلو شرايط، د هغوی ملاتړ او په راتلونکو انتخاباتو کې د هغوی ګډون بايد تضمين شي.

د راتلونکو انتخاباتو په مرسته بايد داسې يوه اداره رامنځ ته شي، چې د افغانستان لپاره يوه څانګپوه اداره وي، د ګاونډيانو لپاره د ښو اړيکو ژمنه اداره وي او د نړيوالو لپاره د سوله ييز ژوند تضمينوکې اداره وي، چې په افغانستان، سيمه او نړۍ کې د سولې، برابري او ورورولي چاپېريال رامنځ ته کړي. د جي اېف کېنيډي خبره بايد په ياد ولرو، چې وايي: بدلون د ژوندون قانون دی. هغه څوک چې يوازې تېر مهال او اوسمهال ته پام کوي، نو راتلونکی يې له هېره وتلی وي، نو ښه به دا وي، چې لا اوس د راتلونکي افغانستان په اړه سم ګامونه پورته کړو.

په درنښت


دا مقاله په برلین کې یې د افغانستان تر ۲۰۱۴ وروسته په کنفرانس کې ولوستله شوې ده``xEFuEVFVZkltTWnzHJb``x1341535728``xarticles_2012``xPashto``xتاسو ته معلومه ده، افغانستان د وروستيو څو لسیزو په بهير کې د ټولنیزو ستونزو، سياسي کړکېچونو او د بې امنيتي له ګواښونو سره مخامخ شوی دی، چې په وروستيو څو لسيزو کې د ځبرځواکونو د سيالۍ ډګر هم ګرځېدلی دی. په وروستيو څو لسیزو کې پر افغانستان د بېلابېلو ځبرځواکونو يرغلونه تر سره شول، چې په وروستيو لسو کلونو کې پر افغان ولس د امريکا ځبرځواک يوه بله غیر اخلاقي``x``x``xډاکټر سيد نصير احمد``x``xد بهرنيو ځواکونو له وتلو وروسته د افغانستان برخلیک``x``x``x``x``x``x1``x``xafghanistan``x``x``x``x Afghanistan mo Khpal Kor Day``xadmin``x

افغانستان مو خپل کور دی

څه ښکلی ګلشن دی خړ خړ یی کرونه دي
څه ښایسته وطن دی جیګ جیګ یی غرونه دي
د هر چا یی خوخ خپل خپل محلونه دي
واوری په وریږی په کی هر رنګه ګلونه دي
خاوره یی ډکه له هر رنګه عیزت غیرته دی
هر خواته په کی ځی رنګا رنګ په کی سیلونه دي
خیالی ګلستان دی کلک کلک یی کمرونه دي
څه ښایسته وطن دی جیګ جیګ یی غرونه دي
لوی لوی یی ډاګونه تور تور یی راغونه دي
سپینی چینی لري بی جوړۍ یی باغونه دي
تاریخ یی د میړانی بی ساره افسانی کیسی لري
هر کور کلي کی یۍ لګیدلي د الیکین چیراغونه دي
قدرمن یۍ د هر میلت د هر قام کلتورونه دي
څه ښایسته وطن دی جیګ جیګ یی غرونه دي
د لیو ولیانو شهیدانو په کی قبریستان دی
ځکه هر وخت دلته هر ظالم غلیم په لړځان دی
څوک چی په بد نظر ورته ګوري سترګی یی وباسی
ورک یی هر درد غم کړۍ زمونږ سر او ځان دی
د باتورو توریالیو په کی پراته زرور سرونه دي
څه ښایسته وطن دی جیګ جیګ یی غرونه دي
بس کړی دا جنګونه دا وطن د ورانیدو نه دی
می پریږدی تنها دا خاوره د هیریدو نه دی
ارمان ارمان چی خپل بچیان یی رحم ترحم
ورباندی نه کړي څه ګیله له پردو نه دی
چور تالا شو دا ټول د رقیبانو کارونه دي
څه ښایسته وطن دی جیګ جیګ یی غرونه دي
پلرو نیکو مو ساتلی په غټو حیمتو باندی
می خرسوی د ډالرو په قیمتو باندی
په یوالي سلا شی یو بل سره پوخلا شی
لری کړۍ نفرتونه د ایخلاص په نیتو باندی
هر اتفاق اتحاد مو دښمن لره زورونه دي
څه ښایسته وطن دی جیګ جیګ یی غرونه دي
له د وطنه د ورانکارو غدارانو ډلی وباسی
هر غلیم په زور د یوالي ورورولې وباسی
تیری دښمنی مو هیری کړی د وطن هر غم
خپګیان په ازادی په خوښی خوشحالې وباسی
د څه لپاره ولی په بل د غم سره ورونه دي
څه ښایسته وطن دی جیګ جیګ یی غرونه دي
ډک له هر رنګه قیمتي کاڼو کهانونو دی
ښایسته ښکلی د دنیا له ډیرو ملکونو دی
پیدا به نه شي زمونږ وطن ټولی دنیا کی وګرځې
ذبیح لله یی مین ده هر وخت یۍ ستایلی په شعرونو دی
هر بچي باندی یی د جوړولو ډیر پورونه دي
څه ښایسته وطن دی جیګ جیګ یی غرونه دي

له ټول جهانه ښایسته یی افغانستان وطنه

ستا له لوړ نوم نیشانه شو قربان وطنه
له ټول جهانه ښایسته یی افغانستان وطنه
د یوالي ناری به د ټول لر او بر کوو
د خپلواکی انقلاب به د زرور کوو
مونږ په ننګ ناموس د وطن سر ورکوو
د رنګا رنګ ګلونو باغ یی ګلستان وطنه
له ټول جهانه ښایسته یی افغانستان وطنه
هره سپه د تاریخ د دی له جیګ حیمته ډکه
تیری افسانی د دي ټولی له غیرته ډکه
دا خړه خاوره د دی ډیره له جورته ډکه
په جیګو غرو د سر شار یی ګران وطنه
له ټول جهانه ښایسته یی افغانستان وطنه
تر څو چی دا دنیا وي هر بچی به د پالنه کړه
له هر غلیم غدار څخه به د هر رنګه ګټنه کړه
د ښکولي نوم نیشان به د هر افغان ساتنه کړه
په تا تیرږو له خپل مال او ځان وطنه
له ټول جهانه ښایسته یی افغانستان وطنه
د ورانولو هی جازت به د ور نه کړو هی چاته و لله
دا مو قسم دی هیڅ کله د نه هیروو هي چاته ولله
په بی ننګی بی غیرتی به د پری نږدو هي چاته ولله
ټولی نړۍ ته دی دا زمونږ علان وطنه
له ټول جهانه ښایسته یی افغانستان وطنه
په دعا د ذبیح لله دی خدای نور ورکړي دا جنګونه
کاشکی په تا یو زلي بیا راشي د صولی ازادې غګونه
چی ټول افغانان درته جوړ کړو د خوشحالې جشنونه
خدای د بیا راته روښانه کړي قهرمان وطنه
له ټول جهانه ښایسته یی افغانستان وطنه

زمونږ وطن ښکلی افغانستان دی

زمونږ وطن د شملورو زمریو دی
ډک له کاڼو د لاجورو لالو دی
داسی وطن بل چیری نه شته دی
لکه ګلستان د زړورو افغانانو دی
کور د قامنو میلتنو په شریکه دی
ساتلی یی په خپلو سروو مټو دی
هر بچي باندی یی ډیر ګران دی
هر بلا نه ګټلی باترو شازلمو دی
ډیرغیرتي زمریان یی روزلي دي
هر وخت قهرمان د تیرو پیړیو دی
چا چی لیدلی زړه یی ورنه وړی دی
قانون یی جوړ د مخورو له جرګو دی
په زړه د اسیا لوړ پراخه پروت دی
ډیر ښکولی په جګو غرو ډاګو دی
د شنو باغو به یی څه وایم مست یی
زیړ مازدګری په ګودرو چینو دی
بی شانه بی جوړی ښایسته دی
خړ رنګ یی د کورو بامو دی
وړ د هرنګه ستایلو صعفتو دی
جوړ د سروزرو له کهانو دی
د کوم ښایست ستاینه یی به کوی
ذبیح لله یی مین د چنارو په ونو دی

شیرن وطن می

ولله نه می هیریږي شیرن وطن می
ډیر ډیر می یا دیږي شیرن وطن می
ښایسته ملک د جهان دی
ښکلی نوم یی افغانستان دی
چا چی لیدلی زړی یی ورنه وړی دی
په دنیا باندی ماته دۍ جنت نیشان دی
د هر چا خوښیږي شیرن وطن می
ډیر ډیر می یا دیږي شیرن وطن می
منم ایروب امریکا لري ښکلي ښارونه
پیدا به نه شي زما د وطن دا جګ غرونه
قسم ډک له هر رنګه صعفتونو دی
قربان یی شم له ډاګنو له خړو کرونونه
زړه زما ورڅخه نه بلیږي شیرن وطن می
ډیر ډیر می یا دیږي شیرن وطن می
کور د ډیرو میلتنو قامونو دی
کلتور یی ډک له ښو ریواجونو دی
باتور ننګیالیو ساتلی له هر بلا نه دی
د تاریخ سپه یی ډکه له میړانو دی
داسی ګلستان بل چیری نه پیدا کیږي شیرن وطن می
ډیر ډیر می یا دیږي شیرن وطن می
د چینو ګودرونو ښکلی ګلشن دی
د شملورو د جرګو وطن دی
سر او ځان د ټولو افغانانو دی
زما ذبیح لله یی ارمان دیدن دی
زړګی زما ور په سی خوږیږي شیرن وطن می
ډیر ډیر می یا دیږي شیرن وطن می
ټول وطن ګلي ګلذار دی
په جګو غرو باندی سر شار دی
د هیری دو نه دی په ما ګران دی
خدایه کور می د مور او پلار دی
پردي وطن کی وختونه نه تیریږی شیرن وطن می
ډیر ډیر می یا دیږی شیرن وطن می

وطن می یادیږي

ډوب په یادو خیالو کی د خپل وطن یم
لویه خدایه بی وطنه ډیر خپه غمجن یم
رانه تاو د ور سری لمبی دي سوزیږم
ګنا خو نه دی چی د خپل ګلشن مین یم
کور می ډیر یادیږي کلنه چی مسافر یم
کله به ورشم ډیر یی ارمانجن د دیدن یم
دا څه کیږي ګیله له چا وکړم نه پوهیږم
له قیصمته که له ځانه ولله ډیر هیران یم
هر سومره ځان خوشحالوم نه خوشحالیږم
څنګه به یی له یاد وباسم د یادو یی بندیوان یم
اوس خو له ځان سره خبری کوم ډاریږم
ذبیح لله لا لیونی نه شم خوږمن خوږمن یم
وای یي هر چا ته خپل وطن کشمیر دی
ماته می خپل کابل جان کشمیر دی

خوږه ژبه پښتو

ستاسو خوږه ژبه پښتو یمه
کړې می نوره هم اسانه راتلونکو پښتنو ته
ما کړې په هر علم روښانه راتلونکو پښتنو ته
غواړم سحي امانت پوره وساتل شمه
سو چی دا دنیا وي خپلواکه وساتل شمه
کله څنګه چی یم هم دا شان ته وساتل شمه
هم دا رقم پاتی شم ښایسته راتلونکو پښتنو ته
ما کړې په هر علم روښانه راتلونکو پښتنو ته
واورې یو سو نصیحت وصیحته کومه
د خدای لپاره مه می ورکوې ژړا درته کومه
نور می مه بدلوې داخبره هر چاته کومه
دا سپاریښتن کوم اوسني پښتنوته راتلونکو پښتنو ته
ما کړې په هر علم روښانه راتلونکو پښتنو ته
مه می خپه کوې ستاسو خوږه پښتو یمه
زه خو ستاسو لکه شیرینه لیلا مو یمه
لیږ قدر راکړې درنده ژبه د پیړیو یمه
سیالي می باربره کړې نورو ژبو سره راتلونکو پښتنو ته
ما کړې په هر علم روښانه راتلونکو پښتنو ته
په دنیا بله داسی ښایسته اسانه ژبه نه شته
لکه زه له ۴۴ تورو څخه جوړه نه شته
نورو ژبو کی زما ډیر هرفونه نه شته
ډک کړې راباندی ډیر کتابونه راتلونکو پښتنو ته
ما کړې په هر علم روښانه راتلونکو پښتنو ته
ولی می شرموې خواست ورنه کومه پښتنو نه
ولی می په بی عیزتې باسې له هر مجلسو نه
اخیر ولی د څه لپاره راسره کیږي دا ظلمو نه
څه له می څخته وې ورته راتلونکو پښتنو ته
ما کړې په هر علم روښانه راتلونکو پښتنو ته
غمازان درڅخه کڼوي څخته وي می
ذبیح لله نه می پریږدي ورکه وي می
هر رنګ دامونه راته جوړ دي عجزه وي می
غواړي کړي می بد رنګه راتلونکو پښتنو ته
ما کړې په هر علم روښانه راتلونکو پښتنو ته

د پښتو ریواجونه

ډیر با غیرته با عیزته دي د پښتو ریواجونه
ډک له هر رنګه صعفته دي د پښتو ریواجونه
ټولی پیسلی یی کیږي په جرګو باندی جوړ
له هر لوړ قانون حیمته دي د پښتو ریواجونه
په د وطن کی د دنیا له ډیرو کلتورو قانونو
ګټور او ښه پښتنو ته دي د پښتو ریواجونه
پښتنو لاړ شې په ټولی دنیا کی وګرځی
پیدا به نشه هي چیر ته د پښتو ریواجونه
پښتو خوږه ژبه دی پښتونوالي می خوښیږي
ګران له هر څه ما ته دي د پښتو ریواجونه
ذبیح لله خو وایي وړو زړو ته می هیروې
د قدر وړ هر چا ته دي د پښتو ریواجونه

د صولی او افغانستان ښکلي شعرونه


صوله رانه غله
ورکه سپینه کفتره ده
بیا رانه غله مروره ده
هر څه مو وران ویجاړ شو
دا ناځوانه لا منتظیره ده
د زوریدلوغمجنو افغانانو
زړه ورته بی سبره ده
ډیرو یی ارمان ګورته ویوړ
کبرجنه ډکه له غروره ده
نه پوهیږم ولی د چا غږ نه اوری
چیرته ناسته غلې قراره ده
زه ذبیح لله شریفي به په جرګه
ورشم پته یی له چا سره ده

و صولی راشه

و صولی راشه د افغانانو
دا د غم تورتومنه رڼا کړه
ډیر ودردیدل وژړیدل نور یی
وچی له سترګونه ژړا کړه
له یو بل سره مرور خپه
سرګردانه زړونه پخلا کړه
پاک دا بی زایه سمتي میلتي
غلت نفرتونه له هر چا کړه
ډیر انسانان یی وخوړل ورنه
ورکه د جنګونو غمجنه بلا کړه
افغانستان ښایسته باغچه دی بیا یی
خزان وهلي ویده ګلونه په خندا کړه
خدایه ته ورته ووایه چی راشي
قبول مو دغه سوالونه دعا کړه
ډیر یی ارمانجن یم زما د ذبیح لله
شریفي دا ارمان خبونه ریښاتا کړه

ټوپک سالار غلَه لڼډغر

افغانستان له لاسه د کمونیستانو
مجاهیدنو قمندانانو ورک تبا شو
زیندان دوزخ ورنه جوړ له لاسه
د منافیقو سوفیانو شیخانو ملا شو
له راتږ سره د لڼډ ګیرو بی ګیرو
مکارو دیموکراتانو چور تالا شو
د د غو غلو لڼډغرو ټوپکیانو له لاسه
وطن اخته په دردو غمو غوغا شو
دا نن ورځ چی افغانان دردیږي
له لاسه د دغو شیطانانو په ژړا شو
ګرفتار ژوند په رنګا رنګ مرضنو
بد عملیو جنجالونو د هر چا شو
ذبیح لله شریفي ځکه په دومره اسانۍ
خوراک د دنیا د وحشتناکو غټو بلا شو

افغانه د خدای لپاره لږ راویښ شه

پوهیږی څوک د چیغوینه جنګوینه
ولی د خپل کور کې وهینه ازاروینه
افغانه د خدای لپاره لږ راویښ شه
ولی دی هره ورځ ختموینه قتلوینه
څوک د په یو نوم څوک د په بل نوم وژني
دښمن دی غواړي نسل دی برباد ورک کړي
ځکه درباندی تپل شوي دي دغه جګړی
نور په دی باندی پوهه شه
ولی د څه لپاره څوک دي
بی ګنا دردوینه زوروینه
افغانه د خدای لپاره لږ راویښ شه
ولی دی هره ورځ ختموینه قتلوینه
یو د خټو غریبانه خړ کورګی لری
د دښمنانو دۍ هغه هم نه درباندی
فیرضوکیږي لوریږي
در ویجاړه وي یی
د ځمکی هوا له لاری یی
په نښه کړی یی ولي دي
شپه ورځ دی رنګا رنګ
په یو نوم په بل نوم باندی
هر قم د زوبلوینه بمباروینه
افغانه د خدای لپاره لږ راویښ شه
ولی دی هره ورځ ختموینه قتلوینه
مدرسی ښوونځۍ در بنده وي
په بمو یی الوزوی ورانوي یی
دښمن دۍ په د عمل باندی غواړي
چی د افغانانو اولادونه بچیان
غلامان نوکران لاسپوسي
ووسیږي ورسته پاتي شي
یاغي باغي وحشت ګر تروریست شي
د نورو د ګټو په خاتر وجنګیږي
افغانان باید په نړۍ کې هیڅ وخت
سر او ځان را جګ نه کړینه غلیوینه
افغانه د خدای لپاره لږ راویښ شه
ولی دی هره ورځ ختموینه قتلوینه
ته لا د غفلت په خوب ویده یی
ته لا له خپل ځانه ناخبر یی
چی ولی خوار او زار یی
چی ولی مدام په فریاد ژړا یی
دا د لوی غورور دی
یو ورور دۍ بل ورو ته
وایي دا می تربور دی
دا می میلتي سمتي نه دی
څوک به د دا بد ورسته پاتۍ
غلت ریواجونه دودونه
له منځه وړینه ورکوینه
افغانه د خدای لپاره لږ راویښ شه
ولی دی هره ورځ ختموینه قتلوینه
کله به پوهیږی په د باندی چی کوم
کار کې دی ګټه دی په کوم کار کې
د تاوان دی څوک به دا ووایي چی
یوالي ورولي کې د ګټه دی څوک
د دښمن دی څوک د دوست دی
وطن او ځان له د غو غملړو جنجالو
نه څنګه وژغوری خلاص یی کړی
څوک به مو وطن په صوله
اتحاد اتفاق ازادوینه راوړینه
افغانه د خدای لپاره لږ راویښ شه
ولی دی هره ورځ ختموینه قتلوینه
له پردیو ظالمانو دښمنانو نه
ګیله نه کیږي باید هم ونه شي
ولی چی دښمن دښمن دی
خپل یاغي باغي وحشت ګر
تروریست افغان ته به څوک ووایي
چی ته دا بد کارونه عملونه
د څه لپاره د چا لپاره کوی
ولی د خپل قام اولس زوروی
په یو نوم او په بل نوم یی
وژنی ترور روی یی
علم تعلیم پر مختږ ته یی
نه پریږدی مخه یی نیسی
وطن د په سور ور درولی
اخیر ولی د چا په لمسون ته
دا بد غلت عملونه کارونه کوینه
افغانه د خدای لپاره لږ راویښ شه
ولی دی هره ورځ ختموینه قتلوینه
ولی مو بل کړي د سمتي میلتي
د ځان ځاني ورنه دي
د چا لپاره اخیر ولی
په خپلو کی سره جدا یۍ
څوک یی په لر څوک یی
په بر سره تقسیم کړي یې
ارمان ارمان افسوز دی
چی شهید صمد خان
خان غفارخان نه شته
چی د یوالي لاری دروښیي
راویښ مو کړي وموښوروي
سره یو شۍ پوهه شۍ
ذبیح لله شریفې دا ورته ووایه
چی اوس به څوک ورته
د یوالي ناری جیږوینه وهینه
افغانه د خدای لپاره لږ راویښ شه
ولی دی هره ورځ ختموینه قتلوینه

``xEFuEVFuEAFyluvpPnV``x1341534193``xpoetry``xPashto``x``x``x``xذبيح الله شريفی``x``xافغانستان مو خپل کور دې``x``x``x``x``x``x1``x``xafghanistan, poetry``x``x``x``x Random Generation of bi-directional Graphs in Omnet``xadmin``x

The Omnet usman.html manual has code for generation of random topologies. The type of network generated can contain uni-directional, or bi-directional edges. Usually, people working with networks require generation of bi-directional graphs only. What you will see here is a small hack to the Omnet Engine, which can enable you to do that. (Note: I am not an expert on Omnet so most probably there is another simpler way of doing this. If you do, please leave a comment).

The files you need to modify are:

  1. src/sim/distrib.cc
  2. include/distrib.h
  3. src/sim/nedfunctions.cc

Modifications to distrib.cc

You need to create a new function (runiform). What this does is that it retains the random number generated from a previous call to uniform(). The random number is generated every 2-calls.

double runiform(int rng) {
static int r = 0;
static double l = 0;
if(r%2 == 0) l = uniform(0,1);
r++;
return l;
}

Modifications to distrib.h

Add the following lines below NAMESPACE_BEGIN:

SIM_API double runiform(int rng=0);
inline SimTime runiform(int rng=0) { return runiform(rng); }

Modifications to nedfunctions.cc

The current usman.html manual (July 4, 2012) shows a different way of doing this. The code in the manual is not consistent with what I found in the source (4.2.2). You need to add the following code to where the other continuous random variate generation code is present.

DEF(nedf_runiform,
"quantity runiform(int rng?)",
"random/continuous",
"Retains the value generated from a previous call to uniform()",
{
int rng = argc==2 ? (int)argv[1] : 0;
return cNEDValue(runiform(rng), argv[0].getUnit());
})

Compilation and Usage

If you have already compiled omnet once, you can simply run make and compile the engine again. When complete, fire up your editor and open your .NED file. You can now generate bi-directional graphs using the following code from the manual (which is adopted to this hack):

module RandomGraph {
parameters:
int count;
double connectedness; // 0.0 submodules:
node[count]: Node {
gates:
in[count];
out[count];
}
connections allowunconnected:
for i=0..count-1, for j=0..count-1 {
node[i].out[j] --> node[j].in[i]
if i<j && runiform() > connectedness;
node[j].out[i] --> node[i].in[j]
if i<j && runiform() > connectedness;
}
}
``xEFuEuFFlFkzbHbJSYr``x1341433832``xtechnology``xEnglish``xThe Omnet usman.html manual has code for generation of random topologies. The type of network generated can contain uni-directional, or bi-directional edges. Usually, people working with networks require generation of bi-directional graphs only. What you will see here is a small hack to the Omnet Engine, which can enable you to do that.``x``x``xOmar Usman``x``x``x``x``x``x``x``x``x``xnetworks``x``x``x``x Tora Balbala``xadmin``x

Kamal Gardezi is a folk singer from the capital of Paktia province. We present some of his songs which are locally referred to as غريزې سندرې. These songs represent an element of patience. The poet is Firdaus Pardesi.

د فردوس پردېسي په کلام کښ د کمال ګردېزي غرنئي سندرې

``xEFukFpFpyEeGJArskN``x1338955201``xvideo``xEnglish``x

Kamal Gardezi is a folk singer from the capital of Paktia province. We present some of his songs which are locally referred to as غريزې سندرې.``x``x``xKamal Gardezi``x``x``x``x``x``x``x``x``x``xmusic, kamal gardezi``x``x``x``x Peryan o Pishakay``xadmin``x

په اسلامي کتابونو کې راغلي دي، چې پر ځمکه درې ډوله داسې مخلوقات دي، چې د يو او بل په ژوند کې یا مداخلې کوي او يا هم يو اوبل کنټرولوي، چې دغه مخلوقات انسانان، پيريان او پلوشي دي، چې ابلیس (شيطان) هم يو پرښته وو، خو حضرت آدم (ع) ته يې سجده ونه کړه او د خدای (ج) له امر يې سرغړونه وکړه، نو ځکه له جنته وشړل شو او تر ننه يې په مسلمانانو پسې رااخيستي ده او په يو او بل نامه يې غولوي، خو افغان ته بيا ښه پلمه پیدا شوې چې هر څه په شيطان اړلوي او وايي چې (این کار شيطان است!)، بس په دې ټينګار کوي، چې شيطان له اوره جوړ شوی او هوښيار دی، خو انسان له خټو جوړ شوی، ځکه نو کدو سری دی او شيطان مېغولانېش!

داسې ويل کېږي، چې په ټولنه کې د خلکو لخوا بېلابېل نکلونه او ټوکې جوړېږي، بيا لکه سيمه ييزې کيسې له يوې سيمې بلې ته انتقالېږي، نو افغاني ټولنه هم له دا ډول نکلونو او خبرو سره غبرګه د بشر د ژوند په بهير کې خپل موجوديت ته تلپاتې کرکتر ورکړی دی، خو په افغانانو کې د ليکلو نادودي، د زده کړې د نشتوالي او د بېسوادي له اړو دوړو سره دا خپل خيالي نکلونه د کيسو په ډول يو او بل ته سره اوروي او بل نسل ته يې لېږدوي، چې د خپل ټولنيز ژوند بهير ته يو فولکلوريک مګر خيالي تسلسل ورکوي، مګر ما ته د دغه کیسو رواني او روحی اړخ او ټولنيز اغېز ډېر په زړه پورې ښکاري، ځکه چې هره ټولنه د خپلو ټولنيزو، اقتصادي او مذهبي غوښتنو سره سم هر ډول خيالي يا وطني نکلونه سره جوړوي، چې په هغې کې هرومرو احساساتي، د وېرې، افراط، بنسټپالي او ځانغوښتنې اړخونه موجود وي، چې د ښو، بدو او مغرضو خلکو لاس هم پکې بر وي.

ما هم بيلابېلې کيسې او نکلونه اورېدلي دي، خو زما پلار، چې د افغانستان له زړو ډاکترانو او متدين خلکو څخه ؤ، خو لکه په افغانستان کې چې دود دی، نو زما په روزنه او ذهني وده کې هم زما پلار غوره رول لوبولی دی، نو طبيعي خبره ده، چې زه به هم له خپل پلار سره ګډ هلته او دلته تلم او راتلم، چې ځينو مېلمستياوو ته به هم ورسره تلم، خو زموږ ميملستون به هم تل له مېلمنو ډک وو، چې د هېواد له بېلابېلو سيمو به د لوړې او ښکتې پوهې خلک راتلل، څوک به له دوزخه غږېدو، بل به دې لحد خبرې کولې او بل به له شيشکو او پيريانو ګډ وو، چا به د ملا او چا به د بلا کيسې کولې.

يو شمېر خلکو به ځانونه طبییان او ډاکټران کړل، نورو به د صوفيانو خبرې کولې او بل به بيا حکيم وو، خو زما ذهن به د دوی له نخرو او خبرو سره مصروف وو، مګر کله کله به له داسې پېښو سره مخامخ شوم، چې د پېښې په اړه به ډېر وخت په سوچونو کې لاهو وم، خو د ليدلو پېښو پايله مې نشوای موندلی، کله به مې ليدل چې چا به مداري ګري کوله او ستن به يې نېغه په اوبو کې ودروله، بل به لور د سکرو په سکروټو کې کېښود، له سکروټو به يې سور شوی وسپنيز لور را وايست او پخپله ژبه به يې تېر کړ، چې پر ژبه به يې د لاړو جزا وختله او له خولې به يې تاوونه پورته شول او بيا به يې د يو ناروغ په شمزۍ د لور د نوک ورو ورو وارونه وکړل، چې ګواکې په دې ډول يې د ناروغ د ملې بادونه ايستل او د ناروغ د ملا دردونه يې تداوي کول.

بس د ژوند خوالې او ناخوالې به يادېدلې، خو زما لپاره تر ټولو په زړه پورې د پېريانو، دېوانو او شيشکو کېسې وې، چې اوريدل يې يو خوند او نورو ته يې نکل کول بل خوند درلود، مګر په تياره او په تېره بيا په بيابان او له هديروسره به د دغو کيسو له يادون سره به د سړي وېښته شخ ودرېدل، زړه به دې له وهمه ډک شو او پښې به دې سستې شوې، ځان به دې په رېږدېدو شو، خو د تېښتې او چيغې وسه به دې نه درلودله، نو د ناچاري په نړۍ کې به لاهو شوې او له وهمه به دې پاک الله ته مخه کړه، د پاک رسول تر څنګ به دې هم چاريار ياد کړل او هم به دې وليان په زړه کې تېر کړل!

مګر کله کله به د انسان ذهن په داسې پېښو سر شو، چې د بېلابېلو کېسو پر ځای به د رواني تشنجاتو څرک داسې پکې لګېدو، چې له معمولي ژونده به يې توپير درلود، د وهم، دهشت او وېرې انګازې به پکې وې، چې ښه بېلګه يې په ځينو کورنيو کې د ښځو د پېريانو نيولې ول او په تېره بيا دا ډول پېرياني به زياتره پېغلې نجونه وې او يا به هم هغه ښخې چې کورنۍ ستونزې به يې لرلې، چې په دغه پېرياني حالت کې به يې هر څه له خولې بادېدل، کله به يې د مينې خبرې کولې او کله به يې د لوږې او کورني ظلمونو، خو د يو شمېر خبرې به داسې ګډې وډې وې، چې تا به ويل چې ريښتيا هم کومه بلا درته لګيا ده.

تر ټولو په زړه پورې د دغه پېرياني مېرمنو او يا پېغلو تداوي وه، نو د درملنې لپاره به يې دغه ښځې او يا نجونه کلکې وتړلې، يا به يې ملا غوږ ته کېناست او بيا به يې په کرکجن غږ وپوښتلې، چې تاسو څوک ياست او له دغه بدمرغې نجلۍ څه غواړۍ، نو بيا به د دغو ښځو او يا پېغلوټو پېريان راوبوږنېدل او په خبرو به راغلل. که چېرې به پېريان په خبرو رانغلل، نو نجونه به له خپل ځايه په ټوکېدو شوې او په ځنګېدو به شوې، خو جنکشانو به له جوبه درګې، خلکي يا قلمونه راوايستل او د نجونو د ګوتو تر کت به يې قلمونه یا درګې ورکړې او بيا به ملا صيب آيتونه ويل او چوف او کوف به يې روان ؤ، په چا به يې لاړې موښلې یا شنلې او بل ته به يې ځياړې په خوله کې ورتوکولې، خود پېرياني خوارکيو نجونو ګوتې به يې کېکاږلې، چې د درګو او قلمونو نښې به تر ډېرو ورځو د هغوی په نازکو ګوتو کې پاتې شوې وې، خو له ډېره خوږه به نجونه هم د پېريانو په ژبه خبرې پيل کړې، چې چا به دمينې بټۍ سره کړه او چا به د بدمرغيو تبۍ توده کړه!

په ګوتو کې د قلمونو په کېکاږلو جزا په افغانستان کې معمول وه، نو ځينو ښوونکو به موږ ته ويل: تا که نباشد چوب تر فرمان نبرد ګاو و خر! بس دغه د ښوونځيو حال وو، نو په ښوونځي که به موږ ته هم يو او يا بل استاد په همدا ډول جزا راکوله، نو د ګوتو د درد احساس هر ماشوم په خپله محسوس کړی وو، خو کله به چې ما دغه حالت د پېرياني ښځو او نجونو وليد، نو خورا به متآثر شوم، خو د پلاره او يا هم خپلوانو نه به مې وپوښتل، چې د دغه خلکو لاسونه او ګوتې نه خوږېږي، نو دوی به ويل چې نه، کله چې د دغه نجليو ګوتې کېکاږې، نو دغه درد پېريانو ته ورځي، پېريان يې احساسوي او بيا د هغې پېريان په خبرو راځي، نو ځکه يې په ګوتو کې درګې يا قلمونه ورکوي او بيا يې کېکاږي، چې پېريان يې په خبرو راشي، چې بيا سم حال ووايي!.

د پېريانو په اړه مې له ډېرو خپلوانو او ټولګيوالو پوښتنې کولې، خو چا به ويل، چې پېريان په ځينو سيمو کې خلک له سهاره په شګو ولي او لمانځه ته يې راپاڅوي، چې له خلکو لمونځ قضا نشي، نو ګواکې د امرالبلمعروف کانې کوي او بل چېرې بيا په کندوانو کې ناست وي او د خدای ذکر کوي، خو خراب پېريان هم شته، چې خلک ځوروي او د شپې يې کورونو ته ډبرې ورغورځوي او خلک خوب ته نه پرېږدي. پېريان له پشۍ، سپي او نورو حيواناتو ځان پټوي او په تيارو ځايونو کې شپې ورځې سبا کوي، ځکه که چېرې د سپي سترګې پرې ولګېدلې، نو هرومرو پسې غاپي، له سيمې يې ځغلوي او ځوروي يې، نو پېريان هم هڅه کوي، چې له سپيو او پشيانو سره مخامخ نه شي، نو په يو پټنځای کې پټ وي، ځکه نو زياتره په تکوي، کندو او تناره کې مېشت وي.

وايي، چې د يو هېواد سپاهي، سرتېری او منصبدار د وليانو حيثيت لري او د پاک انسان پر سر د خدای د ملايکو سيوری وي، نو ځکه ځان بايد له بدو دودونو وساتي، خو عسکري چارواکي هم شيطان لري، نو يو ماښام افغاني منصبدارانو په قشله کې ډېره کړې وه او قمار يې وهلو او ټول په کمسايي وهلو او فلاش کې غرق ول، چې ناببره يو له دغو بدمرغو منصبدارانو نه پېريانو ونيوو او ځان به يې پورته کړ او پر ځمکه به يې ووېشتو او یا به په زغرده له ديواله سره ونښتو، خو نيول يې هم څه اسانه کار نه و، نو شپږ نور منصبداران په نښتي ول، چې دغه پېريان ځپلی ټينګ کړي، خو دا کار نا شونی وو، نو وروسته له يو څو شېبو، چې ماشيني منصبداران ډېر ستړي شول، نو پيريانو ته په زاريو شول، چې وروسته له زاريو او پوښتنو پېريانی صاحب منصب هم په خبرو راغی او يله ګويي يې پيل کړله، له خولې يې ځګونو سر کړی وو او هر څه به يې له خولې بادېدل. دغه مهال يو تن له منصبدارانو له پېريانو سره خبرې پيل کړې: دا خو ډېر ښه سړی دی، نو ولې تاسو دغه غم لړلی ځوروی، نو پېريانو ورته په ځواب کې وويل: دغه ستاسو ملګری زموږ د بچي په پښه ختلی دی او د هغه پښه يې ماته کړې ده، نو موږ هم چې د دغه سړي پښه ماته نه کړو، نو نه يې پرېږدو!

نو بل منصبدار ورغبرګه کړه: خیر دی! ويې بښيی! بل بیا ويل! مګر دا څنګه ممکنه ده، چې هغه به ستاسو د بچي په پښه ختلی وي، ځکه چې تاسو خو نه ليدل کېږی او نه هم په کورونو کې اوسېږی، نو ستاسو بچی چېرې ؤ، چې دغه غملړلی یې په پښه ورختلی وو؟ نو پېريانو ورغبرګه کړه: زموږ بچی د دروازې تر لخک لاندې پروت وو، دغه بدمرغي په لخک پيښه اېښې وه، نو ځکه زموږ د بچي په پښه ختلی او د هغه پښه يې ماته کړې ده! بل منصبدار ورته ووېل، چې نور ځایونه کم ول، چې ستاسو دغه زوی مړی بچی تر لخک لاندې پرېوتلی وو! دا پوښتنه نه وه، مګر بده بلا وه، نو د منصبدار پېريان يې داسې وبوږنول، چې پايله يې د پېرياني منصبدار د پښې ماتېدل او له قشلې د نورو منصبدارانو تښتېدل ول! نو پام کوی، چې په لخک پښه کېنږدی، دغه دود په روسانو او لوېديزوالو کې هم دود دی، چې په لخک له وېرې پښه نږدي!

زما يو ملګری وايي: زما پلار راته يو ځل کيسه کوله، چې د افغانستان يوې ډېرې ليرې سيمې ته د طبيب په توګه د کار لپاره استولی شوی وم، نو يوه ورځ يو څوک له خپلې مېرمنې سره راغی او راته يې وويل، چې مېرمن مې پېريان نيسی او ډېر بد حال مې دی، نو تاسو خو پيرخانه ياست، که زما سره مرسته وکړی او زما د مېرمن پيريان وباسی! پلار مې ویل: زه هک پک پاتې شوم، چې اوس څه وکړم! زه خو نه ملا يم، نه مې قصيدې بپخې کړې، نه مې له پيريانو سره سرو کار دی او نه مې هم ګوډې زده دي، نو دغه سړي ته مې وويل، چې دغه کار زما له وسې نه دی پوره، خو يوه دوا به ستا مېرمن ته ورکړم!

مخکې له دې چې دغه ناروغې ته د عصبي تسکين کوم درمل ورکړم، نو اړين ول، چې له ناروغې سره د هغې د رواني حالت په اړه ځينې پوښتنې وکړم، چې سم درمل ورته وليکم، خو د دې لپاره چې له مېرمنې سره يوازې خبرې وکړم، نو له مېړه مې يې وغوښتل چې له کوټې بهر ولاړ شي، چې زه يې له مېرمنې سره خبرې وکړم او معاينه يې کړم، زما له غوښتنې سره سم د دغه مېرمني مېړه له معاينه خانې ووت.

ما له دغه مېرمنې سره روغتيايي مرکه پيل کړه، چې د دې ستونزه څه ده، څه شی د دې سبب کېږي، چې په دې داسې حالت راځي، نو طبيعي خبره ده، چې د کورني ژوند د خوالو نا خوالو په اړه مې هم ورنه وپوښتل. د مرکې په پيل کې يې کرار غوږ نيولی وو، خو ځواب يې نه راکاوو. دغه غمځپلې يو ورا په ځنګېدو شوه، بيا په غوړمبېدو شوه، چادري او پوړنی يې له سره بیرته کړل، ما ته يې غاښونه وچيچل، د خپلو ويښتو په شکولو شوه، چې يو واريې پر ما را ترپ کړل، نو ما له ځانه ټېل وهله، بيا يې راباندې ترپ کړل، نو دلته ما هم راونيوله، سمه مې فرش کړله، په معاينه خانه کې سم اخو ډب جوړ شو، خو ما په معاينه خانه کې يو سوټی درلود، چې کله به کور ته ستنېدم، نو د سپيانو د شړلو لپاره به مې دغه سوټی راسره ګرځولو، خو دغه غم لړې نه کرارېدله، بله لاره راته پاتې نه شوه، نو سوټی مې پسې راواخيست، چې یو دوه کوتکه مې کش کړه، نو په زاريو يې راته پیل کړل: د خدای په لحاظ نوره مې مه وهه! زه پيرياني نه يم! هسې مې نخرې کولې!

وروسته له دغو خبرو مې پرېښوده او بيا مې ترينه وپوښتل، چې ولې دې دا پېرې او نخرې کولې؟ دغه مېرمنې د خپل کور ستونزې راته په ګوتو کړې او ما ورته ووېل، چې مېړه به يې قانع کړم، چې په کور کې ښه رويه وکړي! د دغه مېرمنې له مېړه سره مې بېل خبرې وکړې، چې له خپلې مېرمنې سره سم چلند وکړي، نو ورته مکې وويل، چې اوس مې يې پيريان وايستل، نو ښه چلند ورسره کوه، چې بيا ورته پېريان پيدا نه شي! وروسته له دې مې له دواړو سره خبرې وکړې، خو د ښځې په شتون کې مې د هغې مېړه ته وويل، چې ښځه دې بيا پيريانو ونيوله، نو بيا يې ما ته راوله، چې پېريان يې ورته کرار کړم! ځکه اوس يې له پيريانو سره زما ياري شوه! نو بيا دغه ښخه پيرياني نه شوه، خو مېړه به يې هره مياشت لږ کوچ ما ته راوړل، د خير دعا به يې راته کوله، چې مېرمن مې دېره بي بي ښځه شوې ده! نو زه هم نه پوهېږم، چې د هغه ښخې کورنی ژوند ښه شو او که د سوټيو وارونو يې پيريان د تل لپاره وتښتول!

په ښوونځي کې به مو هم همدا ډول نکلونه اورېدل، خو د پېريانو تر څنګ به د شيشکو او بلاو کيسې هم وې، چې د ماشومانو په ذهن به يې د وېرې سيوری خپور کړ، ځکه چې هره کیسه پخپل اصل کې سايکولوژيکي يانې رواني اړخ هم لري، چې ماشومان ترې اغېزمن کېږي. په افغانستان کې يو وخت يو متل ويل کېده، چې «اګر مرګ مېخواهي کندز برو!»، نو د کندز د دښتو په اړه هم ډېر څه ويل شوي دي، نو له هغو کېسو څخه یوه هم د سېرلي کیسه ده.

په افغانستان کې په تېره بيا په کليو کې کوژده کول او بيا چغالبازۍ ته تلل هم يو انقلابي کار ګڼل کېږي، ځکه چې کوم نر دی چې په روښانه ورځ د خپلې نجل ليدلو ته ولاړ شي، نو زوم هڅه کوي، چې د شپې په تياره کې، له کليوالو، اوښيو او خوسره پټ به د نجل ديدن ته ځي، خو د چغلبازي دغه اړخ بيا له يو شمېر ستونزو سره هم مل وي، کله په زوم غله ورپېښ شي، کله هم په تياره کې لار ترې ورکه شي او په خپل کلي کې سرګردان ګرځي او کله يې هم لېوان پسې راواخلي او ويې داړي، مګر تر ټولو بدتره دا ده، که د کليوالو او يا هم خوسرګنيو لاس ته ولوېدلې، نو مخ به دې در تور کړي، په خره به دې سپور کړي او په کلي کې به دې ګرادګرد راوګرځوي، چې د کلي رېشخند او د نجل د پېغور به شې، خو که پېريانو ته په لاس ورغلې، نو له منډو به دې په ترړو ډېر ستړی او ستومانه کړي او له اخو توخه به دې وباسي، مګر که ګرم شوې، نو هرو مروبه د ننواتې پسه حلالوې!

وايي، چې يوه شپه يو زوم د چغلبازۍ لپاره له يو کلي بل ته په تپه تياره کې په بایسکل روان شو، نو شپه په اوږده شوه او په يوه دښته کې يې يو وړ سېرلی وليدو، چې بغېدا! خو زوم هېخوا دېخوا وکتل، مګر بله مېږه، پسه، يا شپون او يا بل څوک يې ونه ليدل، نو په دغه واړه سېرلي يې زړه وسوځېدو، نو هوډ يې وکړ، چې دغه سېرلی د ليوانو او شغالانو له ګواښه وژغوري، نو سېرلی يې د بايسکل په کنجوغه ورواچوو او په خپله لاره روان شو، خو کله چې يې لږ څه ميزل وکړ، نو بايسګل ورو ورو دروندېدو او په لاره سم نه تللو، خو کله يې چې کنجوغې ته وکتل، چې ګوري د سېرلې پښې تر مځکې رسېدلې دي او په مځکه يې څښوي، نو په زړه کې يې تېر کړل، چې عجيبه سېرلی دی، تر اوسه دومره کی وو او اوس بيا ورته وګوره، چې پښې يې تر مځکې رسېدلې دي، نو له ځانه سره يې وويل: بس د خدای حکمت دی! سېرلی يې له کنجوغې ښکته کړ او د بايسکل په ميل يې کېنولو، نو بيا يې پښه پايډل ته کړه، لږ چې په بايسکل ولاړ، نو سودا ورولوېدله، چې دغه سېرلی دی او که سېرلۍ!، نو ورو يې د سېرلي د پښو په کت کې لاس وروږد کړ، نو د سېرلي مايې يې لاسته ورغلې او چنګال يې کړې، خو د سېرلي خوټې يې ليا په لاس کې نيولې وې، چې سېرلي په غږ کړ، چې «تولش کردي، چند کيلو بود!»، کله چې دغه سړي د سرلي دغه خبرې واورېدلي، نو له وېرې يې زړه ودرېدو، له بايسکله ښکته ولوېدو، نو بې سده تر سهاره په دښته کې پروت وو، چې د سهار له لمانځه سره سم بيا خلکو د کندز په دښتو کې ومونده او کور ته يې بوتلو، مګر چې پته ولګېده، چې چغلبازيو ته راغلی وو، نو بيا يې له دود سره سم مخ ورتور کړ او په کچره يې چپه په کته کېنولو او شارګشتي يې ورکړه، خو زوم د ننواتې لپاره نه پسه او نه هم وری درلود او نه هم د هغه غيبي سېرلي درک په دښته او نه هم په بيابان کې وو!

خلک وايي، چې په دم او چوف خلک پېريان راوېښولی شي او په خبرو يې راوستلی شي، يو ملګری مې وايي: کله چې زه ماشوم وم، نو له يوې پېښې سره مې سرو کار شو، هغه دا چې زموږ کره يو پسه له کوره وتلی وو او ورک شوی وو، نو زما پلار کور ته يو ږيرور سړی راوست، خو زه پوه نشوم، چې ملا وو، قاري وو او که کوډګر! لنډه دا چې د دغه سړي کمال دا وو، چې پېريان يې غږول او غله يې په شدومد پيدا کول، نو زموږ کره هم دې ته راغلی ؤ، چې د پسه د ورکېدو ليکه ومومي، يعني غل پيدا کړي!

کله چې ملا صيب کوټې ته ننوت او زما پلار له نورو خپلوانو سره ټول کېناستل، نو ملا صيب په قرائت پيل وکړ، نو په کوټه کې پرته زما له پلاره نور خلک هم ول او ماشومان هم ډېر ول، نو ملا صيب پر ما او يو بل ماشوم غږ وکړ، چې مخې ته يې کېنو، خو را ته يې وويل چې په خپل ورغوي کې به ګوری، وروسته له دې يې زما او د هغه هلک په ورغوي کې د قلم له مشواڼۍ نه لږ رنګ راواچولو، نو د ملا صيب له سپارښتنې سره سم ما هم خپل ورغوي ته کتل او بازي ګوشي مې نه کوله او ملا صيب ته غوږ وم. ملا صيب يو دوه آيتونه ولوستل او په موږ يې کوف او چوف وکړ، نو بيا يې لومړني ماشوم ته وويل، چې په ورغوي کې څه ويني، نو ماشوم پړينګ وهل په ژړا شو او ويې ويل چې هېڅ هم نه وينم! خو ملا صيب نورو ته وويل، چې دغه ماشوم له غله وډار شو، نو ځکه له وېرې حال نشي ويلی او ژاړي!

ملا صيب بيا غاړه تازه کړه او بل آيت يې تېر کړ، نو وروسته له آيته يې ما ته مخ راواړولو، چې ورغوي کې دې وګوره، چې غل وينې او که نه! نو کله چې ما سر ورغوي ته ورنېژدې کړ، نو د خپلې څېرې سيوری مې وليد، ځان پورې حيران شوم، په زړه کې مې تېر کړل، چې ما خو پسه نه دی غلا کړی!، دا څه وينم!، نو ژر مې خپل سر بيرته کړ، نو ملا يو وار غږ کړ، چې هغه دی دغه ماشوم غل وليد! خو ما ملا ته وکتل او ورته مې وويل، چې چېرې دی، زه خو هېح هم نه وينم! کله چې هغه سر رانيږدې کړ، نو د ملا صيب څېره په رنګ کې راښکاره شوه، نو ما هم غږ کړ، چې اوس يې وينم! ملا صيب خوشال شو او ما ته يې وويل څوک وينې، نو سم ورته وګوره!

ما له بېړې ورغبرګه کړه، چې يو ږيرور سړی دی او زموږ پسه يې له پړي نيولی او بيايي يې، نو ملا را ته وويل، چې څوک دی؟ پېژنې يې او په دغه کوټه کې شاوخوا وګوره، چې دلته شته او که وي نو څوک دی، موږ ته يې راوښيه! نو ما خو د ملا صيب څېره ليدلې وه، نو ورغبرګه مې کړه، چې کټ مټ ملا صيب تاسو غوندې دی، نو ملا صيب راباندې غور وهل، چې سم وګوره، نو ما ورته وويل، چې رانيږدې شه پخپله يې وګوره، نو سر يې چې راوړاندې کړ، نو په رنګ کې يې خپله څېره انځور شوه، نو ما ورته وويل، چې دغه ده، وګوره، دا سړی تاسو نه ياست؟ ملا صيب نورو ته مخ واړولو، چې د دغه ماشوم عمر ډېر دی او ځيرک دی، نو خبرې له خپل زړه جوړوي، نو بايد له کوم واړه ماشومه وپوښتل شي! نو زه هم هم له ملا او هم له دغه بلا خلاص شوم، خو له کوډو، پيريانو، ديوانو او شيشکو سره مې ‌ذهن لکه تل غوندې مشغول پاتې شو.

د شيشکو کيسې ډېرې دي، نو له هرچا به مې يو څه اورېدل، خو په زړه پورې دا وه، چې بلا، شېشکه، روې، آلمستي او داسې نورې ټولې ښځينه وي او لکه چې نارينه شيشک نه وي، خو په عيسوي ملکونو کې هم اروا او داسې نور ښځينه اړخ لري، خو دېو بيا نارينه وي، نو دلته به د دواړو په اړه، د ځينو افغاني کېسو يادون وکړم. وايي، چې نظافت او پاکي د ايمان يوه برخه ده او عبادت هم د دين ستنه او جنت ته د تګ توشه ده، نو داسې څرګندونې کېږي، چې که څوک د څلوېښت ورځوشپو په بهير کې غسل ونکړي او له عبادته ډه ډه وکړي، نو هرو مرو په شيشکه اوړي.

د افغانستان په کليو کې شيشکې ډېرې وي، خو دغه شيشکې د ورځې نورمال ژوند کوي، خو د شپې لخوا خلک ځوروي، کورونو ته يې ډبرې وراچوي، چرګان يې ورته وژني، خوب ته يې نه پرېږدي. وړخونه بندوي او يا د نورو خلکو مځکو ته اوبه ورخوشې کوي، لنډه دا چې څه مضريتونه يې چې له لاسه راشي، نو هماغه تر سره کوي. ويل کېږي، چې هره شيشکه يو پوستين پر سر لري، که دغه پوستين دې يې تر لاسه کړ، نو دغه شيشکه به تاته تسليم شي او بيا به لکه کنيزه تا ته کار کوي، خو نر شه د شيشکې دغه پوستين ترې وکاږه!

په زړه پورې دا ده، چې د شيشکو هم د کلي له اوسقال، ملا، ملک او نورو مشرانو سره سرو کار وي، خو ماشومان او غريبان ترې وېرېږي. په يو کلي کې همدا ډول يوه شيشکه وه، خلک وايي، چې د ورځې به چا فکر هم نه کولو، چې دا به شيشکه وي، خو په تياره که به سمه بلا وه او د څو سړيو زور يې درلود، چې ونې به يې له ريښو سره راايستلې، د ژونديو ځناورو به يې زړونه له ټټره راايستل او د زړه وينې به يې څښلې. دغه دکلي شيشکه به اول دسر په غورځېدو شوه او بيا به په غوړمبېدو شوه، نو کوم نر وو، چې ځان ورته ټينګ کړي، خو دغه بلا يو وار د کلي په ملا پېښه شوې وه، بس سم په غېږو ورغلې وه، خو ملا په دې توانېدلی وو، چې د شيشکې پوستين ترې وباسي او ويې تښتوي، خو دغه پوستني به يې د اوړو په کندو کې ساتلو. خلک وايي، چې! که د شيشکې پوستين دې ترې واخيست، نو هرو مرو يې په کندو کې پټ وساته، ځکه چې اوړه شيشکې ته قسمي دي، نو شيشکه د دې توان نلري، چې له اوړو نه خپل پوستين بيرته راواخلي.

د ملا هم څو ورځې ښه ست تېر ؤ، کله به يې د شيشکې پېروی خوړلو او کله به يې هم حلواوې وهلې، خو د شيشکې څه له لاسه نه راتلل او تل به يې ملا صيب ته زارۍ کولې، چې له بنده يې خوشي کړي او پوستين ورته بيرته ورکړي، خو د ملا صيب چېرې پیروی او حلواوې هېرېدلې، نو په شيشکه به يې نور هم ظلم کولو، خو شيشکه هم لاس تر زنې نه وه ناسته او تل په دې هڅه کې وه، چې خپل پوستين بيرته ترلاسه کړي، نو وروسته له ډېرې مودې خپل مقصد ته ورسېدله. په هغه ورځ شيشکه د ملا له کوره سره پټه ناسته وه، چې د ملا مېرمن په قهر او غضب بهر راووتله او له ځانه سره ډونګېدله، چې دا څه شی دي، چې د اوړو په کندو کې يې راته اچولي او زما اوړه يې په جوټه کړي دي، نو د شيشکې پوستين يې هسې ايسته وارتېږو، خو شيشکې ته بيا خدای ورکړه او پوستين يې له ځانه سره يووړ او په هماغه شپه يې پر سر کړ او په ملا صيب پسې حجرې ته ورغلله، نو ملا صيب د ماسخوتن له لمانځه وروسته په کوډو موډو اخته وو، چې شيشکه غوټه په حجره ورننوتله! د ملا اروا قبض شوه، شيشکې د ملا ږيرې ته لاس واچاوه، خو مسکين ملا صيب شيشکې ته ډېرې زارۍ وکړې، مګر شيشکې يې زړه بوټ له کوګله راواېست! نو ملا له خپلو کوډو سره په وينو کې لت پټ شو او شيشکه هم له دغه کلې تری تام شوه!

يوه ورځ په ښوونځي کې يو ماشوم راغی او ويې ويل، چې ورور يې له وهمه ډېر ناروغ دی او تبه لري، نو موږ ورنه وپوښتل، چې ولې؟ نو دغه ماشوم راغبرګه کړه، چې ورور مې آلمستي ليدلې ده، نو زه پوه نه شوم، خو يو بل ماشوم مې وپوښته، چې بلا، شيشکه، روې نومونه مې اورېدلي، مګر دا آلمستي يې ليا څه شی دي، نو هغه راته وويل، چې بلا ښيي، نو بل وویل، چې نه دا خو ښځينه بلا ده، نو شيشکه ښيي. زموږ ټولګيوال هم دا خبره ومنله، چې ورور يې کومه روې او يا شيشکه ليدلې وه.

هغه ماشوم داسې ويل، چې ورور يې د شپې لخوا خوړ ته تللی و، چې خپلو ځمکو ته اوبه ورکړي، نو هلته يې له لېرې يوه شيشکه ليدلې وه، چې لوڅه لغړه وه، ويښته يې تر پښو پورې ول، کله يې چې اوبه څښلې، نو غولانځې او تي يې د لښتي په اوبو کې لګېدل! زما په ورور يې چې سترګې لګېدلې وې، نو له سترګو يې اور بادېدلو! زما ورور همالته له وېرې بې سده شوی وو او بې سده هملته لوېدلی وو، نو سهار د کلي خلکو د سهار له لمانځه سره سم کور ته راوست او اوس يې ډېره سخته تبه ده، په ځای کې پروت دی، شونډې يې وتلې دي او له خولې يې ځګونه ځي، کله کله له وېرې هسې کوکارې وهي.

موږ ټول ماشومان ول، نو دغه پېښې پر موږ هم اغېز وکړ، نو له خپل سياله مو وپوښتل، چې دغه شيشکه له چا سره څه کوي، نو هر ماشوم به غږ وکړ او يو څه به يې وويل، نو يو وويل چې دخلکو وينې څښي، بل به ويل چې په سړي داسې ګذار کوي چې سړی له اخو ټوخه وباسي او بل ويل چې سړی وژني، ځکه چې رسوا نشي، نو له يوه ماشومه مې وپوښتل، چې څنګه رسوا نشي؟ هغه راغبرګه کړه، چې که چېرې يو سړی په تېره بيا چې ښځه ۴۰ ورځې او شپې د خدای عبادت ونکړي، ځان پرېنمينځي او يا غوسل ونکړي، نو هرومرو په شيشکه اوړي، نو سر له دغه ورځې ما هم له وېرې په خپل نظافت کې ډېر پام کولو، چې حتی په کور کې يې د شويه اصطلاح راته کاروله او ويل به يې، چې غاړه او ورمېږ دې ډېر مه کيسه کوه، چې د ورمېږه پوستکی دې نازکېږي او په ژمي کې به دې د غاړې ساړه کېږي، بيا به لکه شويه ګانو غوندې مفلر( د غاړې دسمال) په غاړه کې اچوې!

د ژوند د دغو پېښو په اړوند سره زه هم د دوو اورنو تر منځ شوم، له يوې خوا له شيشکې نه وېره، له بل پلوه په ژمې کې د ورمېږه ساړه، خو د جضرت سليمان (ع) خبره: «د ژوند هره پېښه تېرېږي، که له خوښي ډکه وي او که له خواشيني سره مله وي!»، نو د ماشومتوب ورځې هم تېرې شوې، نه مې شيشکه وليدله او نه مې هم د غاړې ساړه وشو، خو له مسلمانانو او کافرانو سره مې سرو کار شو، مګر دا ډول پېښې د هر انسان د خاطراتو نړۍ جوړه کړي ده، چې د ژوند د نندراتون يوه برخه يې ګرځي، چې څوک يې له هېره وباسي، خو بل ورسره لاس او ګرېوان پاتې شي!

په درنښت

ډاکټر لمر

``xEFFlkZyVZpteDBfKqi``x1338276570``xarticles_2012``xPashto``x
په اسلامي کتابونو کې راغلي دي، چې پر ځمکه درې ډوله داسې مخلوقات دي، چې د يو او بل په ژوند کې مداخلې کوي، انسانان، پيريان او پلوشي``x``x``xډاکتر لمر افغان``xلومړۍ برخه``xد پېريانو او شيشکو نکلونه ټولنيزه زېږنده او که رواني ستونزه``x``x``x``x``x``x1``x``xculture``x``x``x``x Gaju Khan``xadmin``x
د عبدل ولی خان پوهنتون ميډيا څانګې له طرفه د ګجو خان ژوند په حقله دستاوېزي فلم``xEFFZVFyEpFZeihDxlR``x1337536103``xvideo``xPashto``x
د عبدل ولی خان پوهنتون ميډيا څانګې له طرفه د ګجو خان ژوند په حقله دستاوېزي فلم``x``x``xفرهاد علي خاور``x``xخان ګجو``x``x``x``x``x``x1``x``xhistory, geneology``x``x``x``x Songs of the Taliban: Continuity of Form and Thought in an Ever-Changing Environment``xadmin``x

Note: This article appears in the latest volume of Iran and Caucasus (16:2012) and is reproduced here for the general interest of our visitors.


The second half of the 1990s saw the emergence of a new, distinctive type of Afghan poetry, the Taliban tarana performed in Pashto by one or more vocalists without instrumental accompaniment and characterised by the melodic modes of local folk music. Over the last fifteen years the tarana chants have gained wide distribution within Afghanistan and Pashto speaking parts of Pakistan, as well as among the Pashtun diaspora. Considering their unambiguous ideological status and their immense popularity within the country of origin they can be regarded as the signature tune of the Afghan insurgency. The present article, which focuses on the literary roots of these songs, attempts to demonstrate that their authors are following century old patterns of Pashto oral and written poetry while adopting traditional material to the needs and the milieu of contemporary Afghan society. The publication is supplemented by a transcription and English translation of five tarana chants.

For reasons of both a historical and cultural nature, poetry can be considered the most popular and illustrious form of literary expression in Pashto. Educated Afghans pride themselves on belonging to a "Nation of Poets" and even the most unsophisticated villager is able to recite Rahman Baba or to relate the words of a popular song. Describing the truly extraordinary position poetry occupies in Pashtun daily life, the great connoisseur of Pashto literature James Darmesteter pointedly observed, that "Wherever three Afghans meet together, there is asong between them"; and everyone who has visited Afghanistan or North-Western Pakistan in recent years knows that this state of affairs has not changed much since.

Spanning almost four centuries of recorded history, Pashto poetryhas been cast into many forms and deals with a considerable variety ofsubjects. Contemporary types of lyrical expression include a sizablenumber of poems articulating the feelings and opinions of authors whoadhere to the tenets of the Taliban Movement.

``xEFFZuFFkVAUoWIxgGa``x1337433259``xliterature``xEnglish``x
The second half of the 1990s saw the emergence of a new, distinctive type of Afghan poetry, the Taliban tarana. Considering their immense popularity they can be regarded as the signature tune of the Afghan insurgency.``x``x``xMikhail Pelevin, Matthias Weinreich``xIran and the Caucasus, 16 (2012) 45-70``x``x``xtaliban-song.pdf``x``x``x``x1``x``xpoetry, taleban``x``x1``x``x Death in Light of Medical Sciences``xadmin``x

د روغتياپوهنې پر بنسټ د یو انسان يا بيولوژیکي موجود مرګ څو پړاوونه او بېلابېلې بڼې لري، چې په دغه ليکنه کې به په لنډ ډول وسپړل شي.

ناڅاپي مرګ

یو شمېر انسانان د زړه د حملې، چې د قلب سکته هم ورته ویل کېږي په اثر کې مري چې علت یې د زړه ناڅاپه درېدل دي او دا مرګ زیاتره وخت په ناڅاپي توګه په هر عمر کې رامنځته کېږي. د زړه د درېدو پر مهال انسان خپل شعور له لاسه ورکوي، نو که احیاناٌ په یوه چا د زړه حمله راشي نو دغه سړی خپل بیولوژیکي محرک خاصیتونه له لاسه ورکوي، یعنې چې زړه یې ودرېږي، ساه يې بندېږي، بې هوشه کېږي او یا کاملاٌ د سده وځي، دغه حالت ته مرګ ویل کېږي.

که په دغه وخت کې، یعنې د زړه د حملې يا سکتې پر مهال يو انسان ته سمه روغتیايي مرسته ورسیږي چې په روغتیا پالنې کې دغه مرستې ته ریانیمشن یا د بیا را ژوندي کولو یا لایف سپورټ پروسیجر ويل کېږي. په مړینه کې د روغتیا پالنې د پوهې پر اساس یو کلنیکي او بل بیولوژیکي مرګ دی، یعنې مړينه دوې بېلې بڼې لري. د کلنیکي مرګ اساسي نښې دا دي، چې یو انسان د زړه حرکت نه لري، ساه نه وباسي او خپل شعوري حالت یې کاملاٌ له لاسه ورکړی وي. په دې وخت کې د اکبري مغز سلولونه لا ژوندي وي. د کلنیکي مرګ په اړه نظریات داسې دي چې یو انسان کولای شي تر اووه دقیقو هم بېرته فعال مغزونه ترلاسه کړي، يعنې که په وخت رېانيمیشن ترسره شي.

کلينيکي مرګ

د کلنیکي مرګ موده کیدای شي د چاپيریال په شرایطو پورې په نیغه ارتباط ولري، د بیلګې په توګه: یو انسان که په اوبو کې ولوېږي او غرق شي، نو زړه يې درېږي، سږي يې له اوبو ډکېږي او ماغزه يې له فعاليته لوېږي. د اوبو حرارت کیدی شي د انسان د جسم سلولونه او د مغزو سلولونه يې ډېر ژر ساړه کړي، چې د حرارت ټيټه درجه د سلولونو په کانسېروېشن يا ساتنې کې اساسي رول لوبوي او یا دا چې انسان تر واورو لاندې شي نو کیدلی شي ډېر ژر د کلنیکي مرګ حالت ته ورشي، په دې وخت کې کلنیکي مرګ کیدلی شي تریوه ساعته هم دوام وکړي. موږ کولی شو بیلګه یې د هالند د سلطنتي کورنۍ شاه زوی چې په اتریش کې تر واورو لاندې شوی و وګورو، چې سيمه ييز روغتیایي ټیم وکولی شول چې وروسته له یونیم ساعته شاه زوی د واورو له لاندې نه راوباسي، خو هغه مړ شوی و، خو مرستندوی روغتیايي ټیم وکولی شوی، چې مړ شوی شهزاده د یوه ساعت په اوږدو کې ریانمیشن کړي، یعنې بيرته يې راژوندی کړي. د پاچاه زوی زړه، سږيو او د مغزو لویه برخه بېرته په فعالیت راغلل او اوسمهال په لندن کې د عصبي ناروغیو په يو ستر روغتيا يي مرکز کې تر تداوي لاندې دی.

له بل پلوه هغه خلک چې په اوبو کې غرق شوي وي، خو کله چې له اوبو نه راویستل شي، نو دا خلک هم زیاتره وخت د کلنیکي مرګ په حالت کې وي، نو په طبابت کې دغه خلک تر انتنسیف تداوي لاندې نیول کېږي او تر هغه وخته ریانمیشن کېږي، یعني د زړه مساژ، سږيو ته هوا ورکول او ځيني وازواکتيف درمل (نورادرنالين، اېفدرين، اتروپين)، چې زړه بېرته په خوځېدو راشي، نو د بدن د حرارت درجه هم ورو ورو ور لوړوي او تر هغه وخت ریانمیشن ادامه پیدا کوي، چې دغه خلک بېرته د زړه حرکت پیدا کړي، یعنې وروسته له مرګه يې راژوندي کوي، نو کیدای شي دغه خلک بېرته خپل نورمال ژوند ته ادامه ورکړي.

د جنګ په صحنه کې ډېر سرتېرې چې ویشتل شوي وي، نو وينه يې توده وي او کیدی شي د زړه حرکت یې دومره بطي شوی وي چې سد یې له لاسه ورکړی وي، چې له کلنیکي نګاه نه کیدی شي مړی یادشي، که په وخت مرسته ورسره وشي، زړه یې بېرته په فعالیت راځي او ماغزه یې هم بېرته عادي وظیفوي حالت ترلاسه کوي، یعني چې له کلنیکي مرګه ژغورل کېږي او بېرته را ژوندي کېږي، نو کلينيکي مړينه، د بشپړ مرګ يو عبوري حالت ته ويل کېږي.

بيولوژيکي مرګ

په روغتیا پالنه کې د مرګ دوهمه بڼه بیولوژیکي مرګ دی. بیولوژیکي مرګ هغه حالت ته وايي چې د انسان نه تنها چې زړه درېدلی وي، نو ساه هم نه وباسي او مغزو ته نه جبرانېدونکی نقص رسېدلی وي، یعنې خپل وظیفوي حالت يې بشپړ له لاسه ورکړی وي، یعنې د مغزو سلولونو (حجراتو) ته بېرته نه جوړېدونکي بیولوژیکي نقصان رسېدلی وي، چې وروسته له ريانيمېشن نه دغه خلک لا شعور وي، خو د زړه او د بدن د نورو سيستټونو د بيا فعالېدلو امکانات يې شته.

دېکورتېکېشن (لاشعور)

د مغزو د شعوري وظیفوي بيرته نه جوړېدونکې نقیصې ته په روغتیايي ترمینالوژي کې دېکورتیکشن وايي، چې په دغه حالت کې یوانسان خپل شعوري فعالیت بشپړ له لاسه ورکوي، مګر زړه یې حرکت لري، د سږیو ساه ايستنه يې د تحت الشعوري مرکزو له خوا کنټرولیږي، لنډه دا چې د بدن نور ټول سیسټمونه یې فعالیت کوي پرته له شعور نه، خو ناروغ لکه ټولنيز شخص او انسان لا شعور وي..

په پرمختللو هېوادونو کې د ارګان د ترانسپلانتیشن تخنیک ډېر پر مخ تللی او بیولوژیکي مرګ په روغتونونو کې هغه حالت ته وايي چې یو انسان د اکبري مغزو شعوري فعالیت له لاسه ورکړي، نو ځکه دغه خلک که مخکې له مخکې يې موافقه کړي وي اويا يې کورنۍ موافقه وکړي، نو وروسته د مغزو له مړينې (دېکورتيکېشن) نه د جسم د غړيو د ترانسپلانتېشن پروسیجر ته ور معرفي کېږي یعني د دوی بډوډي، سږي، جګر، پانفرانس، زړه او حتی د بدن نورې برخې د بیولوژیکي پرزې په شکل بل انسان ته اچول کېږي، چې چاته بډوډي، چا ته هم سږي او چا ته هم ينه يا زړه وراچول کېږي.

د مړينې تر څنګ په طبابت کې داسې حالتونه هم شته، چې د يو انسان زړه داسې ورو حرکت کوي او بې سده وي، چې مرګ ته ورته حالت وي. دغه پېښه زياتره په هغه خلکو کې، چې رواني تکليفونه لکه (سايکوز، ايستيريا، پارانوييد او داسې نور) حلاتونه ولري، ليدل کېږي. د لېترژي يا دروند خوب، په ترڅ کې هم يو بيولوژیکي موجود کېدی شي ژوندی وي، خو د زړه حرکت او شعور يې ډېر ټيټ وي. په حيواناتو کې لېترژي يو طبيعي حالت هم دی، چې يو شمېر حېوانات په ژمي کې تر ځمکې لاندې په سمڅوکې د څو مياشتو په اوږدو کې پرته له خوړو او اوبو ژوند کوي، چې موږ ورته ژمنی خوب وايو، نو دغه حالت هم کلينکي مرګ ته نيژدې حالت دی.

په روغتياپالنه کې د دېليريوم په نامه يوه وراشه هم کارول کېږي، چې زياتره په الکوليستانو کې ليدل کېږي. د دغه حالت بڼې هم بېلابېلې دي. يو شمېر خلک هيجاني کېږي، نور بيا د مېرګي په بڼه ځان څرګندوي او بل شمېر بيا پر نورو بې اعتمادي کوي، چې پارانوييد ورته وايي، خو د دغو بڼو ترڅنګ د آرام دېلېريوم (کوايټ دېلېريوم) وراشه هم کارول کېږي، چې په دې حالت کې د انسان زړه کار کوي، سا وباسي، خو له بل انسان سره اړيکې نه شي ټينګولی، مګر دغه ناروغي يو عبوري کرکتر لري، چې په درمل سره له منځه ځي.

پرته له دې د زړه د درېدو په برخه کې د (الکتروميکانيکي دېسوسياېشن) بڼه هم يادېږي، چې په دغه حالت کې زړه رپېږي، خو د ناروغ نبض نه محسوسېږي، چې که پر وخت رېانيمېشن له الکتروفيبرېلېشن سره تر سره نه شي، نو د ماغزو بيولوژيکې مړينه ممکنه ده. بايد ياده شي، چې د بيا ژوندي کولو يا رېانيمېشن پروسيچر د ناروغ په عمر پورې تړلی، چې په ځوانانو کې يې نتيجه بهتره وي، خو ځينې ډېر سپورتي ځوانان په آساني مري او له مرګه يې ژغورل ستونزمن وي، چې بېلګې يې د فوټبال په ميدان کې د يو شمېر ځوانو فوټباليستانو او يا هم نورو سپورتمينانو ناڅاپي مړينه ده، چې د بېلګې په توګه په کابل کې د افغانستان د نامتو لوبغاړي حشمت خان اڅکزي، چې د باليوډ يو مشهور ستوری هم وو، مړينه ياده کړو، ځکه هغه هم د سپورت په کلپ کې د زړه د ناڅاپي حملې له کبله له فاني دنيا ودع وکړه او ابدي دنیا ته لاړ. څه موده مخکې يو ۲۵ کلن ايتاليوی فوټباليست هم د فوټبال په ډګر کې مړ شو.

د مړينې په اړه په اديانو او کلتورونو کې هم بېلابېل تفسيرونه او کيسې موجودې دي. مسلمانان خبل مړي ډېر ژر خښوي، عيسويان يې څو ورځې ساتي، خو په يو شمېر افريقايي ملکونو کې داسې ټبرونه شته دي، چې مړي د څو اونيو پّ ترڅ کې ساتي او خپلوا او کليوال یې شپه او ورځ ورته سندرې وايي او ډولونه ورته وهي، داسې ګنګوسې شته، چې وروسته له څو ورځو هم ځينې مړي راژوندي شوي دي. څېړنو دا هم جوته کړې، چې وروسته له مرګه د جسد نوکان ، ويښته، ږيره تر څو ورځو پورې وده کوي، چې پوهان دغه حالت ته د جسم بيولوژيکي ځانګړتيا وايي، ځکه د پوستکي او يو شمېر نور سلولونه د يو څه مودې لپاره ليا ژوندي وي. په يو شمېر اديانو کې د قبر د عذاب وراشه هم کارول کېږي، چې په دې برخه کې ويل کېږي، چې ځينې وخت نيمه ژوندي خلک هم خښ شوي دي، چې بيا له قبره ژوندي راايستل شوي، چې د ځينو کيسې يې له نسلونو نه يو او بل ته ورانتقالېږي.

په درنښت

ډاکټر لمر


``xEFFylFlyVFDPMjhcQg``x1336838653``xtechnology``xPashto``xیو شمېر انسانان د زړه د حملې، چې د قلب سکته هم ورته ویل کېږي په اثر کې مري چې علت یې د زړه ناڅاپه درېدل دي او دا مرګ زیاتره وخت په ناڅاپي توګه په هر عمر کې رامنځته کېږي. د زړه د درېدو پر مهال انسان خپل شعور له لاسه ورکوي، نو که احیاناٌ په یوه چا د زړه حمله راشي نو ``x``x``xډاکټر لمر``x``xد روغتيا پوهنې په رڼا کې دمړينې سپړنه``x``x``x``x``x``x1``x``xmedicine``x``x``x``x Afghanistan Geopolitical and Strategic Importance``xadmin``x

دا ټولو ته مالومه ده، چې افغانستان د خپل جغرافيايي موقعيت په اړه د نړۍ بحري اوبو ته لاره نه لري، مګر راځی افغانستان له داسې يو ملک سر پرتله کړو، چې هغه هم له اوبو سره نېغ په نېغه تړاو و نه لري. ما چې د نړۍ نقشې ته په زغرده وکتل، نو د نړۍ ډېر شمېر هېوادونه د بحر اوبو ته لاره نه لري، مګر ملکونو يې داسې کلتوري او سياسي لوړې ټېټې نه دي تېرې کړې، لکه چې د افغان ولس په وروستي، څو پېړيو کې تېرې کړې دي.

بايد ياده شې، چې نن سبا په نړې کې تېل او نفت د ملکونو په سياسي ژوند کې غوره رول لوبوي او دغه طبيعي زېرمې په ډېرو سيمو کې مخ پر کمېدو دي او په نننۍ تکنالوژې کې ترننه د نفت او تېلو بديل نه دی موندل شوی او د کاسپين چاپېريال ملکونو کې د فوسيلي سون (ګاز، تيل او نفت) موادو زېرمې ليا شته دي، چې د ځبرځواکونو د سيالي ډګر او د نړيوالو کمپنيو لپاره د پیسو ګټلو ښه سيمه ګرځېدلې ده.

افغانستان هم په آسيا کې د ورېښمو د لارې پر سر پروت دی او د سيمې د ملکونو او ځبرځواکونو د سیاسي غوښتنو د يوې څلور لارې حيثيت لري، چې د سابقه شوروي اتحاد له ړنګېدو وروسته يې جيوپوليتيک ارزښت نور هم زيات شوی دی او اوسمهال د کاسپين چاپېريال د شوروي آزاد جمهوريتونو او د هندو-پاکستان تر منځ يې له شماله جنوب ته د ځمکني ترانزيتي لارې په توګه يو ځانګړی موقف خپل کړی دی.

افغانستان پخپله هم ګڼشمېر کانونه، مېنرالي زېرمې، ګاز او تېل لري، له بل پلوه د افغانستان جغرافيوي موقعيت د روسيې، چين او هند د ځبرځواکونو د څارلو لپاره لوړ پوځي مورچل ګڼل کېدلی شي او په دې سيمه کې د موجودو طبيعي زېرمو په اړه په نړيواله کچه لويې پيسې ګټل کېدلی شي، چې افغانستان ته يې ستراتيژيک ارزښت هم ورکړی او هم د نړېوالو کمپنيو او ځبرځواکونو د سيالۍ ډګر ګرځېدلی دی. له بده مرغه چې نړيوال ځبرځواکونه لکه: امريکا، روسيه او چين هر يو له نړيوال مارکېټ سره د دغو زېرمو د لوټلو او د خپلې ګټې اخيستلو لپاره بېلې بېلې طرحې لري، چې ډېر په تيلو ماړه ملکونه يې قرباني دي او خلک يې له ستونزو سره لاس او ګرېوان دي.

د افغانستان موقعيت له ايران سره د امريکا او اسرائيلو په سياسي لوبو کې هم يو ځانګړي حالت ته رسېدلی دی. ايران غواړي خپل اتومي بم جوړ کړي او اسرائيل له امريکا سره وېره لري، چې ګواکې د ايران دولت ثابت نه دی او له خپل ايراني اتمي بم سره نړۍ ته د امنيت مخاطره رامنځ ته کوي او د دې ګواښ هم شته چې په ايران نظامي عمليات هم تر سره شي، خو د ايران د اقتصادي تجرېدولو لپاره د کاسپين د نفتو، ګازو او تيلو د ترانزيتې لارې په اړوند سره د ايران د ګوښه کولو لپاره هم کولی شي د افغانستان له موقعيته ګټه پورته کړي، ځکه نو امريکا ته افغانستان لکه يو ستراتيژيک دوست هېواد ډېر مهم دی، چې په دې توګه کولی شي ايران هم د منځنۍ آسیا له ترانزيتي لارې ګوښه کړي او هم د سيمې د انرژي ترانسپورت له ګاونډو ملکونو څخه تر سره کړي.

له همدې امله امريکايانو لا د طالبانو د واکمني پر مهال غوښتل چې د تورکمنيستان-افغانستان-پاکستان-هندوستان نلليکې وغزوي، خو هغه مهال په سيمه کې د امريکايي او ارجنتيني کمپنيو د رقابتونو او په افغانستان کې د ناامنيو له کبله دغه پروژه پلې نه شوه او وروسته د امريکا له تيري په ۲۰۰۱ ميلادي کال دغه پروژه په ټپه ودرېده، مګر په ۲۰۱۰ کې د ګازو د نلليکې د پروژې په اړه د امرېکې په ملاتړ په ترکمنيستان کې د افغانستان- پاکستان، هند او ترکمنيستان د دولتونو تر منځ يو تړون لاسليک شو او د ۲۰۱۱ کال په اپرېل کې د افغانستان پارلمان هم نوموړې پروژه تائيد کړه، خو د افغانستان جنګي حالت د دغه پروژې کار په ټپ درولی.

دا ټولو ته څرګنده ده، چې افغانستان د خپل رسمي تاريخ پيل د لوی احمد شاه بابا له واکمني يانې ۱۷۴۷ کاله را شروع کوي، خو ځينې بيا د تاريخ پړاو د پښتنو د آزادي لومړني مقاومت ته وراړوي، چې د مېرویس نيکه له سياسي، نظامي او ټولنيز خوځښت سره تړاو ورکوي، مګر نور بيا د افغانستان رسميت ته د ټولواک عبدالرحمن خان موده ځانکړې کړې ده. په دغو دريو مقولو کې درې نظره، چې ټبريز او ايتنيکې کرکتر لري موجود دي.

د لوی مشر ميرويس نېکه خوځښت تاريخي ارزښت دی، خو د هوتکو د ټبر حکمروايي، د احمد شاه بابا واکمني بيا د افغاني امپراتوري جوړېدل، چې شمزۍ يې دورانيو جوړه کړې وه او دريم تاريخي نظر بيا د هغو ايتنيکې ډلو د زړه خبره ده، چې د ننني افغانستان تاريخ هر څومره چې کېږي عمر يې ورلنډ کړي، نو پايله دا ده، چې د افغانستان په خاوره کې داسې ټبريز امکانات شته، چې دغه ټولنه په خپل لاس په اور کې ډاډه کړي، نو صرف يو ورلګيد ته اړتيا لري.

افغانستان د تزارې روسيې او انګريزي امپراتوري تر منځ د بوفر يا (نا پېيلې) سيمې موقعيت تر لاسه کړ، په دې کې د وخت د دغه دوو ځبرځواکونو رول ډېر غوره ؤ، ځکه چې که روسيه رامخ ته شوه، نو د افغاني مقاومت تر شاه انګرېزان درېدل او که به انګرېز رامخ ته شو، نو روسيې به د انګريزي امپراتوري د خپرېدو مخنيوی کولو، نو افغانان د دغه جګړې د سوخت مواد ول او تر ننه هم دي، خو بايد ياده شي، چې موږ به په خپله خاوره کې دومره انګرېزان او يا روسان هغه وخت نه وي وژلي څومره مو چې خپل افغانان ووژل.

په شلمه پېړۍ کې افغانستان د شوروي اتحاد او لوېديزوالو په اخو ډب کې ښکېل ؤ، مګر بيا هم په يوه ټاکلې دوره کې په افغانستان کې داسې واکمني وه، چې افغانستان يې لږ تر لږه د ۵۰ کلونو په بهير کې په نسبي توګه کرار وساته او د افغاني ادارې بنسټيز اساسات يې کېښودل او په دويمه نړيواله جګړه کې یې افغانستان د هتلري جرمني له تيريو، د روسيې له بدمرغيو او د نړيوال امپرياليزم له خوړلو وساته، خو څه وشول، چې دغه ټول يو ځل له منځه ولاړل او دا دي موږ لږ تر لږه ۳۵ کاله کېږي چې د جنګ په حالت کې ژوند کوو او د دريو لسيزو په بهير کې د دوو ځبرځواکونو سره مو پنجې نرمې کړې او د سيميزو ګاونډيو هېوادونو د سياسي لوبو قرباني شوو.

تېر په هېر را به شو دې ته چې د افغانستان په اړه موږ افغانان په څه ډول فکر کوو، زموږ ګاونډيان څه غواړي او نړيوال ځبرځواکونه څه خيالونه په سر کې تاووي.

۱ – موږ افغانان څه غواړو:

په ډېرو ليکنو کې داسې راغلي، چې زموږ بدمرغي بهرني هېوادونه دي، خو په فارسي کې يو متل دی، چې ((مرغ ته هوش کن همسايه را دزد نګير))، نو دا چې زموږ ګاونډي زموږ په اړه څه پلانونه لري بيا به پرې وغږېږو، خو راځۍ چې لومړی خپل کهول ته سر وروړاندې کړو، چې څه پکې تېرېږي.

په ډېرو څېړنو کې ښودل شوې ده، چې د افغانستان تر ټولو لوی ټبر پښتون دی، چې تر ۶۵ او ۷۰ سلنې يې شمېري، خو په زړه پورې دا ده، چې دغه ټبر هېڅکله هم د خپل هېواد په زعامت او اداره کې اساسي رول نه دی لوبولی، مګر د جنګ په موده کې يې تر ټولو ډېره قرباني او سرشيندنه کړې ده، خو واک بل پرې چلولی دی. په دې کې لږکي ټبرونه ملامت نه دي، د ملګرو ملتونو يوې څېړنې ښودلې ده، چې د افغانستان د وګړو د پښتنو سلنه ۶۵ ده، مګر له هغوی نه ۳۰ سلنه په فارسي خبرې کوي او په ټوله ټولنه کې ۵۰ سلنه په فارسي بلد دي او ۴۰-۴۵ سلنه په پښتو، نو اوس تاسو ووايی، چې د پښتو يانې د پښتنو کمزورتيا په چا کې ده، خو زه به دومره ووايم، چې پرته له پښتو پښتون نه شته، ځکه چې که يو اوزبک، تاجک او يا هزاره په فارسي پوهېږي او په پښتو نه پوهېږي، نو هغه تر فارسي ژبي پښتانه څه کم دی؟ د دغه معظلې بل اړخ دا دی، چې د پښتنو دوه ژبي توب د دې سبب ګرځېدلی، چې هم د پښتنو په منځ کې يووالی نشي راتلی او هم په نورو ايتنيکي ډلو کې، ځکه چې ژبنيز دواليزم د بې اعتمادي بنسټ دی. ما په ډېرو بهرنيو ملکونو کې هم ژوند کړی او هم کار، نو زموږ دوستي له بهرنيو وګړو سره د سيمې د بومي خلکو په پرتله بهتره وه، ځکه چې ټول په هغو ټولنو کې پردي ول او په افغانانو کې هم که د بل ټبر يو څوک مجلس ته راشي يا ته ورشې نو د مجلس رنګ، سليقه او طريقه ټول اوړي، ځکه چې افغاني ټولنه يو افغاني هويت او ذهنيت نه لري.

د افغانستان لږکي ټبرونه لکه تاجک، هزاره، اوزبک، تورکمن او داسې نور، د افغانستان په ستونزو کې خپل اړخ لري. له دغو ټبرونو پرته له تورکمنو تل خپل سياسي ګوندونه جوړ کړي او د پښتنو په ضد يې کارولي. پوښتنه دا ده، چې ولې داسې يو حالت رامنځ ته شوی، ځواب دا دی، چې پښتانه بې اتفاقه دي، ځکه چې لومړی په غېلزيو او دورانيو وېشل شوي او بيا په خيلو او خټکو. کاشکې دا يوازينی د بې اتفاقي ټکی وی، مګر بيا په سياسي او ديني ډلو هم وېشل شوي دي. لکه نن سبا چې په دواړو خواو کې پښتانه له يو او بل سره جنګېږي. په دولت کې کرزی او مخالف يې طالب جان او حکمتيار خان، خو نورې ډلې ټپلې له خپلې وېرې د لاسپوڅي دولت تر سيوري لاندې راغلي دي.

افغانان په هر څه کې افراط او تفريط ته مخه کوي. خلکيانو د خپلې ايديالوژي لپاره څه و نه کړل او طالبانو بيا د اسلام لپاره په خلکو څه نخرې و نه کړې، خو پايله څه شوه! درنو لوستونکو! په افغاني ټولنه کې بيا هم هماغه زړه کيسه ده يانې: سيالي، تربګني، زنستېزي او زورواکي. که مقاومت ته وګورې، نو حکمتيار صيب خپله درنه او د نورو سپکه وايي او طالبان هم همدا ډول درواخله، زما اندېښنه وروسته له ۲۰۱۴ ميلادي کاله د افغانستان د وګړو د ژوند مصؤنيت او په هېواد کې امنيت دی.

د افغانستان ستراتيژیک يا جيوپوليتيک ارزښت د هېواد جغرافيوي موقعيت او طبيعي زېرمې جوړوي. دا ټولو ته جوته ده، چې افغانستان بېلابېل مينرالونه، وسپنيزې زېرمې، يورانيم، مس، زغال، لاجورد، زمرود او داسې نورې طبيعي زېرمې لري، چې د دې تر څنګ افغانستان په نړيواله کچه طبيعي ګاز او تر ځمکې لاندې د تېلو زېرمې هم په پرېمانه پيمانه لري. د افغانستان د طبيعي زېرمو ارزښت د لساوو تريليونونو ډالرو په کچه ټاکل شوی دی، چې خلک وايی: ((هر افغان د سرو زرو پر بالښت سر ږدي، خو په لوږي نس شپې تېروي!)).

د افغانستان جغرافيايي موقعيت ډېر يو ځانکړی اړخ لري، ځکه چې يو پلو ته يې د سابقه شوروي پنځه هغه جمهوريتونه لکه (تاجکستان، اوزبکستان، ترکمنستان، قرغيزستان او قزاقستان) سره چې ډېره غوره ترانزيتي سيمه ده، چې له دريو جمهوريتونو سره خو افغانستان ګډه پوله هم لري، مګر دغه ملکونه د نړۍ په کچه د تېلو ډېرې لويې زېرمې او طبيعي شتمني هم لري، چې يو پلو ته يې د روسيې بازار پروت دی او بل پلو ته يې د هند د بحر تودې اوبه او د پاکستان-هندو-چين تجارتي بازار، ځکه نو افغانستان يو ډېر ځانګړی جغرافيايي موقعيت لري، چې د آسيا نور ملکونه د داسې يو موقعيت خوبونه ويني، خو افغانستان د فارسي او پښتو جګړې وران کړی او نورو ژبنيزو واحدونو ته يې د سېپراتيزم يا بېلنتوب ذهنيت ورکړی، که نه نو په افغانستان کې به چا د فيدراليزم رمباړې وهلې او د فيدراليزم ډنډوره د افغانستان په تاريخ کې څه نوې خبره نه ده.

فيدراليزم او افغاني ټولنه: زه د افغانستان په شمال کې اوسېدلی يم او د هغو سيمو د خلکو نسبي قومي جوړښت راته مالوم دی، نو زما له مالوماته سره سم او د افغانستان د تاريخي پېښو پر بنسټ په زغرده ویلی شم، چې په افغانستان کې د فېدرالي دولتي سیستم غوښتنې هسې بې ځايه خبرې دي او ټ