تاريخ اشاعت: 5 ستمبر 2005
سڑک کنارے اچھے ڈرائیور ہوٹلوں کی اہمیت کا اندازہ اکثر سفر کرنے والوں سے زیادہ اور کسے ہو سکتا ہے لیکن اگر ایسے ہی ہوٹل میں ’ایک کپ چائے کے ساتھ تین لطیفے مفت‘ ملیں تو یقینا اسے سونے پر سہاگا ہی کہا جائے گا۔ یہ ہوٹل آپ کو قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں غازی بیگ کے مقام پر سڑک کنارے ملے گا۔ اس ہوٹل کو انفرادیت دینے والا اور کوئی نہیں صوبہ سرحد کا معروف پشتو مزاحیہ فنکار اور شاعر میراوس ہے۔
اس بےپناہ صلاحیتوں کے مالک فنکار کا تعلق تو بنیادی طور پر چارسدہ سے ہے، لیکن گردش زمانہ نے اسے گزشتہ تین برسوں سے شہر کی رنگینوں، ٹی وی کی سکرین اور ریڈیو سیٹس سے دور سنگلاخ پہاڑوں میں قہقہے بکھیرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ فنکار مہمند ایجنسی میں آج کل ایک ہوٹل چلا رہا ہے۔ میراوس نے ریڈیو اور ٹی وی پر بے شمار پروگراموں میں کام کیا لیکن اس کے علاوہ اس کی پانچ سو سے زائد کیسٹس بھی بازار میں دستیاب ہیں۔ پاکستان کے علاوہ یہ فنکار بیرون ملک بھی سٹیج پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر چکا ہے۔
ہوٹل میں داخل ہوئے تو میراوس کانوں میں ڈاکٹری آلہ یعنی سٹیتھوسکوپ لگائے اور منہ سے وِسل بجا کر ایک شخص کا معائنہ کر کے ہوٹل کے مہمانوں کو محظوظ کر رہا تھا۔ اس کے گاہکوں میں ٹرک ڈرائیوروں کی بڑی تعداد کے علاوہ چند پتلون پوش نوجوان بھی بیٹھے نظر آئے۔ معلوم کیا تو بتایا کہ وہ کسی ادویات کی کمپنی کے نمائندے ہیں اور جب بھی اس علاقے میں آتے ہیں تو اس ہوٹل میں کھانا ضرور کھاتے ہیں۔ ان میں سے ایک جمشید علی نے بتایا کہ وہ اس ہوٹل میں صرف میراوس کی وجہ سے آتے ہیں۔
اس کا کہنا تھا کہ کھانے کے علاوہ چند قہقہے لگانے سے ان کی سفر کی تھکن دور ہوجاتی ہے۔ اس کچے سے روایتی ہوٹل کے ایک کونے میں موسیقی کی تو دوسری جانب چرس کی دوکان بھی موجود ہے۔ میراوس ہوٹل کے سائن بورڈ جگہ جگہ آویزاں تھے۔
میراوس سے گفتگو کا آغاز میں نے ریڈیو اور ٹی وی کی چمک دمک چھوڑ چھاڑ کر اس ویرانے میں آ بسنے کی وجہ دریافت کر کے کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس پر ایک قتل کا الزام ہے جو بقول اس کے اس نے نہیں کیا جس کی وجہ سے اسے یہاں آنا پڑا۔ پچپن سالہ میراوس نے تسلیم کیا کہ اسے اپنی شہرت کے بارہ برس شدت سے یاد آتے ہیں لیکن وہ کچھ نہیں کر سکتا۔ اس کا کہنا تھا کہ ’حکومت کو چاہیے کہ وہ میری مدد کے لیے آگے آئے‘۔
ہماری گفتگو کے دوران ہی ہمارے گرد مہمانوں کا ایک مجمع سا جمع ہوگیا۔ ان کے اور میرے اصرار پر میراوس نے یہ لطیفہ پشتو میں سنایا۔ یہ لطیفہ ہے ایک ایسے شہری کا جو پہلی مرتبہ گاؤں گیا تو ایک دیہاتی سے پوچھا کہ ’اس گائے کے سینگ کیوں نہیں۔ دیہاتی کے جواب دیا کہ بعض کے لڑائی میں ٹوٹ جاتے ہیں، بعض کے ہم نکال دیتے ہیں اور چند کے قدرتی طور پر نہیں ہوتے لیکن جس کے بارے میں آپ دریافت کر رہے ہیں وہ تو گدھا ہے‘۔
میراوس فارغ وقت میں طنز و مزاح سے بھرپور شاعری بھی کرتا ہے۔ اس کی تنقیدی نظر سے شاید ہی کوئی بچ پایا ہو۔ کیا سیاستدان، کیا وزراء اور کیا سرکاری اہلکار۔ یہ سب کچھ وہ ایک میلی سی کاپی میں لکھتا رہتا ہے۔ میراوس کی ریڈیو اور ٹی وی پر واپسی کب ہوگی معلوم نہیں لیکن یہ فنکار ان برے وقتوں میں بھی اپنی صلاحیتوں کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔