Khyber.ORG
Pashto :: Pashtuns :: Pashtunkhwa :: Pashtunwali
پښتو :: پښتانه :: پښتونخواه :: پښتونوالی

| Articles | Publications | Maps | Links | Language | Tribes | Media |

پښتو څيړنه
Printer Friendly Version

نہرو شیپ کوہاٹی چپل

خائستہ میر

بی بی سی اردو

تاريخ اشاعت: 2 جنوری 2004

کوہاٹ میں بننے والی کوہاٹی چپل کے متعلق تو شاید بہت لوگ جانتے ہوں لیکن بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ اس کی ایک مقبول شکل نہرو شیپ بھی ہے۔

کوہاٹی چپل کے استاد
ہمیش گل کے فرزند استاد رمضان خاندانی ورثہ سنبھالے ہوئے

کہا جاتا ہے کہ اس ڈیزائن کی بنیاد اس وقت پڑی جب برصغیر پاک و ہندپر انگریزوں کے دور حکومت میں کوہاٹ کے ایک جفت ساز ہمیش گل نے کوہاٹی چپل کی بنیادی ساخت کو برقرار رکھتے ہوئے ایک انگریز فوجی افسر مسٹر براٹ اور اور کانگریسی رہنما جواہر لعل نہرو کے لیے مختلف نمونوں کے منفرد جوتے تیار کیے۔

کوہاٹی چپل کی یہ اقسام آج بھی براٹ شیپ اور نہرو شیپ کے نام سے مشہور ہیں۔ اسی طرح کوہاٹی چپل کے آکو پنکچرل اثرات کے بارے میں بھی یہ منسوب ہے کہ اس کے استعمال سے فشار خون اور بینائی بحال رہتی ہے۔

جوتوں کے صناعوں نے، جنہیں اصطلاح میں پاپوش گر، جفت ساز اور موچی کہا جاتا ہے، کوہاٹ میں کئی اقسام کے چرمی جوتوں کی نیو ڈالی جن میں زنانہ خمسارہ، میمانہ اور مردانہ پنجے دار جوتے قابل ذکر ہیں۔ زنانہ خمسارہ اور میمانہ کی خصوصیت یہ تھی کہ کوہاٹ کے قریبی قصبہ لاچی میں زیادہ تر عورتیں اس صنعت سے وابستہ رہیں جبکہ کوہاٹ کی گلی تیلیان میں مرد ہنرمند اس نوع کے جوتے تیار کرتے تھے۔

خمسارہ میں طلاء کا کام نمایاں تھا اور میمانہ کی انفرادیت، اس میں لگائے جانے والے ریشمی دھاگے سے بنے پھولوں سے جھلکتی تھی۔ یہاں کے استاد غنی گل نے ملکہ وکٹوریہ کو میمانہ کا ایک جوڑا تحفتاً روانہ کیا اور جواباً خاص انعام سے نوازا گیا۔ کوہاٹ کے ہنرمند کاریگر آج بھی یہ بات بتاتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں۔

بہرحال کوہاٹ کے جفت سازوں نے زیادہ فوقیت کوہاٹی چپل کو دی اور اسے پورے برصغیر میں پسندیدہ اور مقبول بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ کوہاٹی چپل چھوٹے منہ اور بکل بند تسمے والا جوتا ہے۔ یہ مختلف رنگوں میں دستیاب ہے لیکن اس کے پہننے والے زیادہ تر کالے رنگ کو پسند کرتے ہیں۔

ماضی میں موم لگے سوتی دھاگے سے خالص چمڑے کی سلائی کر کے کوہاٹی چپل تیار کی جاتی تھی۔ یہ نہ صرف مضبوطی و پائیداری میں اپنی مثال آپ تھی بلکہ انسانی صحت پر بھی اس کے اچھے اثرات مرتب ہوتے تھے۔

یہ لچکدار نوعیت کا جوتا ہے اس لیے ہموار اور ناہموار سطحوں پر استعمال میں لایا جاتا ہے۔ کوہاٹی چپل بنیادی طور پر افغانی جوتا ہے۔ کوہاٹ میں اس کی صنعت کا آغاز سولہویں صدی میں ہوا جب غزنی افغانستان سے اس کے کاریگر کوہاٹ آئے۔ کوہاٹ پر انگریزوں کے قبضے تک کوہاٹی چپل علاقائی پیراز کی حیثیت میں استعمال ہوتی رہی۔

انجمن جفت سازان کوہاٹ کے صدر خان زمان اعظم
سرکاری سرپرستی کی ضرورت ہے

انیس سو انچاس میں کوہاٹ پر انگریزوں نے اپنا قبضہ مکمل کر لیا اور اس کے بعد کوہاٹی چپل کو خاصی مقبولیت حاصل ہوئی کیونکہ انگریز حکومت نے اسے سرکاری سرپرستی میں لے لیا اور کوہاٹی چپل کو اپنے مختلف فوجی رسالوں کے لیے مخصوص کر دیا۔ اس انتخاب کی وجہ جغرافیائی اور موسمی ماحول سے کوہاٹی چپل کی مناسبت تھی۔

برصغیر پاک و ہندپر انگریزوں کے دور حکومت میں کوہاٹ کے مختلف جفت ساز انگریز فوج کو کوہاٹی چپل فراہم کرتے رہے۔ یہی زمانہ تھا جب استاد ہمیش گل نے کوہاٹی چپل کی بنیادی ساخت کو برقرار رکھتے ہوئے ایک انگریز فوجی افسر براٹ اور اور کانگریسی رہنما جواہر لعل نہرو کے لیے مختلف نمونوں کے منفرد جوتے تیار کیے۔

غیر منقسم ہندوستان میں کوہاٹی چپل کے لیے چمڑا امرتسر، احمد نگر، ڈھاکہ اور قلعہ سوبھا سنگھ سے لایا جاتا تھا۔ آجکل کوہاٹی چپل قصور، سیالکوٹ ساہیوال، گوجرانوالہ، لاہور، کراچی اور پشاور کی منڈیوں سے لائے جانے والے چمڑے سے بنتی ہے جس کے معیاری ہونے میں تو کوئی کلام نہیں لیکن دام اس کے اتنے ہیں کہ اصل کوہاٹی چپل عام آدمی کی خرید سے باہر ہو جاتی ہے۔

اگر کام اچھا چل رہا ہو تو ایک جفت ساز اایک دن میں چار کوہاٹی چپل تک بنا سکتا ہے۔ کوہاٹ کے علاوہ کوہاٹی چپل چارسدہ اور پشاور میں بنائی جاتی ہے۔ کوہاٹی اور چارسدہ کی چپل میں فرق صرف اتنا ہے کہ کوہاٹی پاؤں سے زرا باہر نکلی ہوتی ہے جبکہ چارسدہ بلکل پاؤں کے برابر ہوتی ہے۔

دور حاضر میں حقیقت حال یہ ہے کہ کوہاٹی چپل کی صنعت زوال پذیر ہے۔ بہت سے ہنر مندوں نے اس پیشے کو چھوڑ دیا ہے اور بے شمار فارغ بیٹھے ہیں۔ انجمن جفت سازان کوہاٹ کے صدر خان زمان اعظم کہتے ہیں کہ کوہاٹی چپل کے زوال کی بڑی وجہ چمڑے کی مہنگائی ہے اور سرکاری ادارے مقامی کارکنوں کی حوصلہ افزائی کے بجائے باہر سے جوتے منگواتے ہیں۔ حکومت خام مال اور چمڑا وغیرہ دیگر ممالک کو برآمد کرتی ہے اس لیے مقامی سطح پر خام مال کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ان حالات میں کافی ہنرمند بےروزگار ہو رہے ہیں اور اصل کوہاٹی چپل خریدنے والے لوگ بہت کم رہ گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ کوہاٹی چپل کی صنعت اور اس سے وابستہ لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے حکومت ضروری اقدامات کرے۔ اگر کاریگروں کو خام مال سستے داموں فراہم کیا جائے اور ایکسپورٹ پروموشن بیوروکوہاٹی چپل کی برآمد کے لیے خصوصی منصوبہ بندی کرے تو نہ صرف مقامی کارکنوں کے حالات زندگی میں بہتری کی صورت پیدا ہو سکتی ہے بلکہ اس سے قیمتی زرمبادلہ بھی کمایا جا سکتا ہے۔

Comments powered by Disqus